.

فرانسیسی کمپنی بیت المقدس ٹرین منصوبے سے دستبردار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں فلائی اوور ٹرین پروجیکٹ کا ٹھیکہ حاصل کرنے والی فرانسیسی تعمیراتی فرم ’سافاگ‘ نےحکومتی دبائو کے بعد منصوبے سے علاحدگی کا فیصلہ کیا ہے۔

اسرائیل کے مُوقرعبرانی اخبار ’’ہارٹز‘‘ کی رپورٹ کے مطابق فرانسیسی وزارت خارجہ اور مالیات نے تعمیراتی کمپنی کو منصوبے کے مختلف پہلوئوں پر متنبہ کرتے ہوئے فلائی اوور ٹرین پروجیکٹ سے علاحدگی کا حکم دیا تھا۔

اخبار کی ویب سائیٹ کی رپورٹ کے مطابق تین ہفتے قبل فرانسیسی کمپنی نے بیت المقدس فلائی اوور ٹرین منصوبے پر کام شروع کیا تو اس کی سخت مخالفت سامنے آئی تھی۔ منصوبے کے سیاسی، تعمیراتی اور ماحولیاتی پہلوئوں سے کئی قسم کے اعتراضات کیے گئے تھے جس کے بعد پیرس وزارت خارجہ اور مالیات نے کمپنی کو منصوبے سے علاحدگی کا حکم دیا تھا۔

اخبار لکھتا ہے کہ فرانسیسی کمپنی کی جانب سے ٹرین منصوبے سے علاحدگی کے فیصلے کے بعد پروجیکٹ کے ٹھپ ہونے کا اندیشہ ہے، کیونکہ کوئی غیر ملکی کمپنی متنازعہ علاقے میں تعمیراتی ٹھیکہ لینے کے لیے تیار نہیں ہے۔

کمپنی کے ترجمان نے اخبار ’’لوفیگارو‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "وہ فیصلے کے سیاسی محرکات کی تفصیلات تو نہیں بتا سکتے ہیں تاہم کمپنی نے مزید کام جاری رکھنے سے معذرت کرلی ہے۔"

منصوبے میں شامل فرانس کی ایک دوسری فرم "بوما" نے بھی اس وقت کام سے معذرت کرلی تھی جب میڈیا میں اس کا نام آیا تھا۔

فرانسیسی اخبار ’’لوفیگارو‘‘ کے مطابق 10 مارچ کو فلسطینی اتھارٹی کے عہدیدار صائب عریقات نے فرانسیسی وزیرخارجہ لوران فابیوس کو ایک مراسلے میں مشرقی یروشلم میں متنازعہ اسرائیلی ٹرین منصوبے کی شکایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس منصوبے کا ٹھیکہ فرانسیسی کمپنیوں نے لے رکھا ہے۔

صائب عریقات کا کہنا تھا کہ بیت المقدس میں اسرائیل کا فلائی اور ٹرین منصوبہ غیر قانونی ہے کیونکہ اس منصوبے کی آڑ میں فلسطینی شہریوں کی املاک اور محکمہ اوقاف کی وقف شدہ جائیدادوں کو ہتھیانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے عہدیدار نے فرانسیسی وزارت خارجہ کو شکایت کرنے کے بعد منصوبے پر کام کرنے والی فرانسیسی کمپنیوں سے بھی مطالبہ کیا تھا کہ وہ متنازعہ مقام پر تعمیراتی سلسلہ بند کریں۔ اس مطالبے کے بعد "سافاگ" کے سربراہ اور فرانسیسی وزارت مالیات وخارجہ کے عہدیداروں کے درمیان ایک ملاقات بھی ہوئی تھی جس میں کمپنی کوتعمیراتی ٹھیکہ واپس کرنے کا کہا گیا تھا۔