داعش نے خزانے کا پتا نہ بتانے پر ماہر آثار قدیمہ کو قتل کیا!
شام اور عراق کے اندر دہشت گردی اور قتل وغارت گری میں سرگرم تنظیم دولت اسلامی "داعش" کے ہاتھوں حال ہی میں تدمر شہر میں ضعیف العمر ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر خالد الاسعد کے قتل کا اصل سبب سامنے آیا ہے اور معلوم ہوا ہے کہ داعش کے اغوا کار جنگجو ان سے سونے کے ذخائرکے بارے میں جان کاری کی کوشش کرتے رہے لیکن ان کی جانب سے انکشاف نہ ہونے پر انہیں جان سے مار ڈالا گیا۔
العربیہ ڈٓاٹ نیٹ کے مطابق شامی ماہر آثار قدیمہ 82 سالہ ڈاکٹر خالد الاسعد کے قتل کے جو اسباب داعش کی جانب سے بیان کیے گئے ہیں وہ کچھ اور ہیں۔ ڈاکٹرالاسعد کو قتل کرنے سے ایک ماہ قبل جب انہیں ان کے بیٹے کے ہمراہ گرفتار کیا گیا توان سے بار بار تدمر کے اس مبینہ خفیہ خزانے کے بارے میں پوچھ تاچھ کی جاتی رہی تاہم وہ ایسے کسی خزانے کی نشاندہی نہیں کر سکے اور نشاندہی نہ کرنے کی پاداش میں اُنہیں ذبح کرکے ان کی نعش سر عام بجلی کے ایک کھمبے سے لٹکا دی گئی اور ان کا کاٹا ہوا سر بھی نیچے رکھ دیا گیا جس پر ایک نوٹس چسپا کیا گیا اور اس پر ڈاکٹر الاسعد کے قتل کے اسباب تحریر کیے گئے تھے۔
شام کے ڈائریکٹر جنرل برائے آثار قدیمہ مامومن عبدالکریم نے بتایا کہ ڈکٹر خالد الاسعد کو خزانے کی نشاندہی نہ کرنے پر قتل کیا گیا۔ داعش کے جنگجووں کا خیال تھا کہ پچاس سال تک تدمر میں آثارقدیمہ کے شعبے کے سربراہ رہنے والے ڈاکٹر اسعد اور ان کے بیٹے ولید کے پاس اس خفیہ سونے اور جوہرات کا بھی علم ہو گا جو تدمر میں چھپائے گئے تھے تاہم وہ ایسا کوئی انکشاف نہیں کر سکے جس پر انہیں قتل کیا گیا۔ ڈاکٹر خالد الاسعد کے بیٹے ولید کو بھی حراست میں لیا مگر کمر میں تکلیف کی بناء پر انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔
شام کے تاریخی اور ثقافتی شہر تدمر میں خزانے کی ایسی کون سے کان تھی جس کے بارے میں ڈاکٹر خالد الاسعد کو علم تھا اور داعش اس کا پتا لگانا چاہتی تھی۔ اس سوال کے جواب کی تلاش میں العربیہ ڈاٹ نیٹ نے کافی تحقیق کی لیکن کہیں سے بھی یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ تدمر میں کسی خفیہ مقام پر سونا یا اس طرح کی کوئی اور قیمتی چیز موجود تھی اور ڈاکٹراسعد کو اس کا علم تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو اس کی کوئی نہ کوئی تفصیل یا خبر ضرور منظرعام پر آتی۔ البتہ عرب مورخین اور ماہرین آثار قدیمہ نے اپنی کتب میں "تدمر" شہر کے آثار قدیمہ کو بھی قیمتی خزانے سے تعبیر کیا ہے۔ عین ممکن ہے کہ داعش کو اسی سے مغالطہ ہوا ہو۔
البتہ ذرائع ابلاغ نے تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی بیان کیا ہے۔ وہ یہ کہ داعش نے شام اور عراق میں جہاں جہاں بھی مجسمے مسمار کیے ہیں وہ اصلی نہیں تھے۔ لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے مصنوعی مجسمے ان کے سامنے مسمار کیے جاتے رہے ہیں۔ اصلی مجسمے اور نوادرات کو مسمار کرنے کے بجائے داعش نے انہیں نیلام کیا اور ان کے بدلے میں بھاری رقوم وصول کی تھیں۔
اغوا کے بعد جس مقام پر ڈاکٹرخالد الاسعد کو رکھا گیا تھا وہاں پر بھی داعش نے اصلی مجمسے سنھبال رکھے تھے اور ان کا علم ڈاکٹرالاسعد کو بھی ہو گیا تھا۔ داعش شام کے ثقافتی ورثے کی نیلامی کا کوئی ثبوت نہیں چھوڑنا چاہتی یہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے ڈاکٹر الاسعد کو قتل کرکے اپنے اس راز کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔