ایرانی امریکی معاہدے کے کو درپیش 5 خطرات... پہلا خطرہ نیتن یاہو کے بم ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران کے ساتھ امن معاہدے کے دائرہ کار تک پہنچنے کے بعد، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ شاید ایسی جنگ سے نکلنے کا راستہ پا چکے ہیں جسے امریکہ میں عوامی حمایت حاصل نہ تھی... اور اس سے عالمی منڈیوں میں توانائی کی قیمتوں میں کمی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

تاہم اس معاہدے کے مستقبل پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ سب سے پہلے لبنان میں جاری جنگ کے باعث جنگ بندی کے ٹوٹنے کا خدشہ ہے، کیونکہ معاہدے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر تصادم روکنے پر زور دیا گیا تھا۔ اس کے برعکس اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے اشارہ دیا کہ اسرائیلی افواج جنوبی لبنان سے انخلا نہیں کریں گی اور حزب اللہ کا مقابلہ جاری رکھیں گی۔

پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے اس معاہدے میں ایک امریکی رعایت یہ نظر آتی ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے سے متعلق بات چیت کو ملتوی کر دیا گیا ہے، حالانکہ یہی ٹرمپ کی جنگ کا بنیادی مقصد تھا۔ یہ صورت حال ٹرمپ کے لیے سیاسی دباؤ کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر نومبر میں کانگریس کے وسط مدتی انتخابات سے قبل۔

واشنگٹن میں سخت گیر موقف رکھنے والے حلقے بھی بڑی رعایتیں دینے پر خفا ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ اپنے کئی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ایران میں موجودہ نظام بدستور قائم ہے، بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں اتحادی گروپوں کی حمایت کے معاملات تا حال حل طلب ہیں اور انہیں اگلے 60 دنوں کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل بھی غیر واضح ہے۔ اگرچہ تہران نے ذخیرہ کم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن اس کا طریقہ کار طے نہیں ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی سابق خاتون عہدے دار وکٹوریہ ٹیلر کے مطابق یہ معاہدہ مزید جنگ سے بچنے کا بہترین نتیجہ ہے، لیکن یہ سفارت کاری کے ذریعے پہلے بھی ممکن تھا۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ کیا یہ حتمی معاہدہ 2015 کے اوباما دور کے معاہدے سے بہتر ہوگا یا نہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی بتدریج اور ایران کے شرائط پر عمل کے ساتھ مشروط ہو گی۔ اس اقدام پر ٹرمپ کو وہی تنقید دوبارہ جھیلنی پڑ سکتی ہے جو وہ اوباما پر کیا کرتے تھے کہ ایران کو مالی حیاتی فراہم کی گئی۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے معاہدے میں طے پایا ہے کہ ایران جہاز رانی پر پابندیاں ختم کرے گا اور امریکہ بحری محاصرہ اٹھا لے گا۔ تاہم تہران اس گزرگاہ کے انتظام میں اپنا کردار چاہتا ہے، جو مذاکرات میں نئی کشیدگی پیدا کر سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آخری لمحات میں آبنائے ہرمز سے گزرنے کی فیس بھی معاہدے میں شامل کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کمزوری کے باوجود ہرمز کو بند کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ حقیقت تبدیل نہیں ہو سکتی۔

اس جنگ نے امریکہ کو دسیوں ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا اور گولہ بارود کے ذخیرے کو بھی خالی کیا ہے۔ اس عمل نے امریکہ اور یورپی اتحادیوں کے درمیان بھی دوریاں پیدا کر دی ہیں کیونکہ ٹرمپ نے جنگ کا فیصلہ یک طرفہ طور پر کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں