ایران میں 14 سالہ دلہا، 10 سالہ دلہن کی شادی رچا دی گئی
ولی کی منظوری سے ایران میں کم سنی کی شادی کا مشروط جواز
ایرانی قانون مجریہ 2002ء میں شادی کے لئے لڑکے کی قانونی عمر 15 جبکہ لڑکیوں کے لئے 13 برس مقرر ہے، تاہم قانون بنانے والے پارلیمنڑینز نے اس میں ایک چھوٹ دیتے ہوئے قانونی حد سے کم عمر بچوں کی شادی کو اس شرط پر جائز قرار دیا کہ یہ عقد نکاح مصلحت کو سامنے رکھتے ہوئے ولی کی اجازت سے طے پایا ہو اور اس کی توثیق مجاز عدالت کے ذریعے کرائی جائے۔
یاد رہے کہ ایران نے 'چلڈرن رائٹس کنونشن' اور 'شہری وسیاسی حقوق کے بین الاقوامی قانون' پر دستخط کر رکھے ہیں۔ ایران میں کم سنی کی مشروط شادیوں کی اجازت دیگر تہران نے دراصل ان دنوں عالمی کنونشنز سے کھلواڑ کیا ہے کہ جن میں کم سنی کی شادی سے منع کیا گیا ہے۔
'چلڈرن رائٹس کنونشن' میں 18 سال سے کم عمر لڑکے اور لڑکی کو 'بچہ' قرار دیا ہے۔ کنونشن کے بموجب کم عمر بچے اور بچی کو کسی بھی قسم کے معاشی، سیاسی اور معاشرتی معاہدے پر دستخظ کی ممانعت ہے۔
معاشرتی اور دینی اعتبار سے شادی دو بالغ فریفین کے درمیان باقاعدہ شرعی معاملہ ہے۔
بعض ماہرین کی رائے میں کم سنی ہی میں شادی کے بندھن میں باندھ دی جانے والی بچیوں کو وقت گذرنے کے ساتھ نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات ان کے ذہن پر اس کے شدید منفی اثرات مقرر ہوتے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنا بچپن فطری انداز میں مکمل نہیں کیا ہوا ہوتا۔
سائبر سپیس میں فارسی سوشل میڈیا پورٹلز کے طائرانہ جائزے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ بعض حلقوں نے اس معاملے کو بنظر غائر دیکھا ہے۔ چند ویب سائٹس نے ایران میں کم سنی کی شادی کو ایک 'مخمصہ' قرار دیتے ہوئے اس کے سماجی اور شخصی اثرات پر سیر حاصل بحث کی ہے۔
انٹرنیٹ براؤزنگ کے دوران آپ کو مکمل دلہن کے لباس میں سجی کم عمر بچیاں دکھائیں دیں گی۔ بعض جگہوں پر ان کم سن دلہنوں کے والدین بھی تصاویر میں نمایاں ہوتے ہیں۔
'سیٹیزن ورکشاپ' نامی ویب پورٹل کا ایسی تصاویر پر تبصرہ ہے کہ کم سنی کی ایسی شادیاں قانون میں بیان کردہ تین استثنائی حالتوں 'ولی کی مرضی، مصلحت اور مجاز عدالت کی اجازت' پر پوری اترتی ہیں۔ تصاویر کے مطابق ایسی شادی کے جائز ہونے کا ثبوت گروپ فوٹوز میں دلہا اور دلہن کے ہمراہ اہل وعیال اور والدین کی موجودگی کافی سمجھا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری زیر نظر تصاویر کے مطابق کم سن دلہا اور دلہن کی شادی چودہ اگست 2015 میں ہوئی۔
-
ایران، یو این میں کم سنی کی شادی کا مخالف بن گیا
ایران نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی جانب سے تیار کردہ اس قرارداد پر دستخط ...
بين الاقوامى -
ایرانی دوشیزہ کی فٹبال گول کیپر کو کھلے عام شادی کی پیشکش
ایران کی قدامت پسند معاشرتی روایات میں مردو زن کا کھلے عام میل جول معیوب سمجھا ...
مشرق وسطی -
داعش کے خلاف جنگ نے دو دل ملا دیے!
سابق امریکی فوجی کی کُرد دوشیزہ سے محبت کے بعد شادی
مشرق وسطی