اسرائیل نے جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں ایک فضائی حملے کے ذریعے حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے سربراہ محمد السنوار کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس حملے کی ایک ویڈیو اسرائیلی ذرائع نے جاری کی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ السنوار ایک خفیہ پناہ گاہ میں موجود تھے جو خان یونس کے یورپی ہسپتال کے نیچے واقع تھی۔
ویڈیو میں اس مقام پر شدید دھماکہ اور آگ بھڑکتے ہوئے دیکھی جا سکتی ہے جہاں اسرائیل کے مطابق محمد السنوار موجود تھے۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ بشمول یدیعوت آحرونوت نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے صبح سے مذکورہ مقام پر مسلسل بمباری کی تاکہ عام شہریوں کو ہسپتال کے قریب جانے سے روکا جا سکے۔
اسرائیلی سکیورٹی ادارے اب تک اس بات کی تصدیق میں مصروف ہیں کہ محمد السنوار واقعی حملے کے وقت اسی مقام پر موجود تھے اور ہلاک ہو چکے ہیں یا نہیں۔
תיעוד נוסף מניסיון החיסול של מוחמד סינוואר אתמול ברצועה | אזהרה: תיעוד קשה לצפייה@bayan_rabee pic.twitter.com/01rQCtEcQd
— כאן חדשות (@kann_news) May 14, 2025
ادھر "العربیہ/الحدث" کی اطلاعات کے مطابق گذشتہ شب حملے کے مقام سے چند لاشیں نکالی گئی ہیں، تاہم یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ ان میں محمد السنوار کی لاش شامل ہے یا نہیں۔
اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس نے ایک زیر زمین کمانڈ اینڈ کنٹرول مرکز کو نشانہ بنایا ہے، جو یورپی ہسپتال کے نیچے واقع تھا، اور وہاں حماس کے کئی افراد موجود تھے۔
دوسری طرف غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ اس حملے میں کم از کم چھ فلسطینی جاں بحق اور 40 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
#عاجل مشاهد من قيام جيش الدفاع والشاباك بتدمير بنية إرهابية حمساوية تحت الارض كانت تقع تحت المستشفى الأوروبي في خانيونس جنوب قطاع غزة pic.twitter.com/AbW9IpRWVD
— افيخاي ادرعي (@AvichayAdraee) May 13, 2025
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اُس انٹیلی جنس اطلاع کے بعد کی گئی جس کے مطابق محمد السنوار مذکورہ پناہ گاہ میں موجود تھے۔ اسرائیل کے ایک اعلیٰ اہلکار نے "اکسیئس" کو بتایا کہ معلومات ملنے کے فوری بعد کارروائی کی گئی۔
واضح رہے کہ محمد السنوار کو " القسام" کی قیادت اُس وقت سونپی گئی جب اسرائیل نے ان کے بھائی یحییٰ السنوار اور ان کے پیش رو محمد الضیف کو قتل کردیا گیا تھا۔ یہ تینوں عسکریت پسند 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے مرکزی منصوبہ ساز سمجھے جاتے تھے۔