.

ہولو کاسٹ: نیتن یاہو کا مفتیِ اعظم فلسطین سے متعلق من گھڑت دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انتہا پسند صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو من گھڑت دعووں کے لیے تو مشہور ہیں ہی مگر اب انھوں نے تاریخ پر بھی ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا ہے۔انھوں نے یہ بلند بانگ مگر بے بنیاد دعویٰ کیا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران مفتیِ اعظم فلسطین نے جرمنی کے مرد آہن ایڈولف ہٹلر کو یہودیوں کے یورپ سے صفائے کی ترغیب دی تھی۔

انھوں نے یہ بے بنیاد دعویٰ مقبوضہ بیت المقدس میں منعقدہ عالمی صہیونیت کانگریس سے تقریر میں کیا ہے اور انھوں نے یہ بیان اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان تشدد کے حالیہ واقعات کے تناظر میں دیا ہے۔فلسطینیوں ،اسرائیل کے حزب اختلاف کے لیڈر اسحاق ہرزوگ اور مؤرخین نے ان کے اس دعوے کو غلط قرار دے کر اس کی مذمت کی ہے۔

مگر نیتن یاہو نے اپنا یہ من گھڑت بیان واپس نہیں لیا ہے بلکہ اس کی یہ تعبیر کی ہے کہ ''میرا مقصد ہٹلر کو ہولوکاسٹ سے بری الذمہ قراردینا نہیں تھا بلکہ یہ ظاہر کرنا تھا کہ فلسطینیوں کے بابائے قوم قبضے کے بغیر ہی یہود کو تباہ کرنے کے خواہاں تھے''۔

صہیونی وزیراعظم نے برلن روانہ ہونے سے قبل بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''وہ ہٹلر کی ہولوکاسٹ سے ذمے داری کو کم نہیں کرنا چاہتے۔وہ حتمی حل کے ذمے دار تھے اور انھوں نے ہی فیصلہ کیا تھا مگر اس کے ساتھ مفتی الحاج امین الحسینی کے کردار کو نظر انداز کرنا غیرمنطقی ہوگا کیونکہ انھوں نے یورپی یہودیوں کے صفایا کے لیے ہٹلر کی حوصلہ افزائی کی تھی''۔

انتہا پسند نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ''مفتی امین الحسینی اور ہٹلر کے درمیان نومبر1941ء میں ملاقات ہوئی تھی۔اس وقت تک ہٹلر یہود کو صفحہ ہستی سے مٹانا نہیں چاہتا تھا بلکہ یہود کو یورپ سے بے دخل کرنا چاہتا تھا مگر حاجی امین الحسینی نے ہٹلر سے یہ کہا کہ ''اگر آپ انھیں بے دخل کریں گے تو یہ تمام لوگ فلسطین آجائیں گے''۔اس پر ہٹلر نے کہا کہ ''مجھے ان کے ساتھ کیا معاملہ کرنا چاہیے؟''اس کے جواب میں فلسطینی مفتی نے کہا تھا کہ ''انھیں جلادو''۔

نیتن یاہو کی جانب سے تاریخ کی اس تشریح سے متعلق سوالات اٹھانے والوں میں بارایلان یونیورسٹی میں انسٹی ٹیوٹ برائے ہولوکاسٹ تحقیق کے سربراہ پروفیسر ڈان میخمین بھی شامل ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ہٹلر نے حتمی حل کے آغاز کے بعد مفتیِ اعظم فلسطین سے ملاقات کی تھی۔

یاد ویشم انسٹی ٹیوٹ برائے ہولوکاسٹ میں مؤرخ اعلیٰ پروفیسر ڈینا پوراٹ نے اسرائیلی نیوز ویب سائٹ وائی نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ''نیتن یاہو کا دعویٰ درست نہیں ہے۔آپ یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ مفتی نے یہود کو قتل یا زندہ جلانے کی تجویز دی تھی۔یہ درست نہیں ہے۔ان کی ملاقات بہت سے واقعات کے بعد ہوئی تھی''۔

تاریخی حقیقت یہ ہے کہ جب جولائی 1941ء میں مفتیِ اعظم اور ہٹلر کے درمیان لیتھوانیا میں پہلی ملاقات ہوئی تھی۔اس وقت ایس ایس موبائل یونٹوں کے ہاتھوں یہود کا قتل عام جاری تھا۔یادویشم نے بھی اپنی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ اس وقت حتمی حل کا آغاز ہوچکا تھا۔دونوں شخصیات کے درمیان دوسری ملاقات نومبر 1941ء میں برلن میں ہوئی تھی اور اس سے پہلے ستمبر میں ہٹلر کے آئن ستزگروپن یونٹ نے (یوکرینی دارالحکومت) کیف کے نواح میں بابی یار کھائی میں صرف دو روز میں چونتیس ہزار سے زیادہ یہودیوں کو ہلاک کردیا تھا۔اس کا حکم کیف کے نازی فوجی گورنر میجرجنرل کرٹ ایبر ہارڈ نے دیا تھا۔

نیتن یاہو نے یہ انتہاپسندانہ اشتعال انگیز بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب فلسطینیوں اور یہودیوں کے درمیان غربِ اردن کے علاقے میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور گذشتہ ایک ماہ کے دوران ان واقعات میں دس اسرائیلی ہلاک ہوچکے ہیں۔ان میں زیادہ تر فلسطینیوں کے چاقو حملوں میں مارے گئے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور گولہ باری سے چھیالیس فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

اسرائیلی حزب اختلاف کے قائد اسحاق ہرزوگ نے اپنے فیس بُک صفحے پر لکھا ہے کہ ''یہ تاریخ کو خطرناک انداز میں مسخ کرنا ہے۔میں نیتن یاہو سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ فوری طور پر اس غلطی کا ازالہ کریں کیونکہ اس سے ہولو کاسٹ ،نازی ازم اور ہمارے لوگوں کی خوف ناک تباہی میں ہٹلر کے کردار کو کم تر کرنے کی کوشش کی گئی ہے''۔

فلسطینیوں کے اعلیٰ مذاکرات کار صائب عریقات نے بھی نیتن یاہو کے بیان کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ''تاریخ کا یہ ایک افسوسناک دن ہے کہ اسرائیلی حکومت کا سربراہ اپنے ہی ہمسایوں سے نفرت کا پرچار کررہا ہے اور انھوں نے تاریخ کے سب سے بدنام جنگی مجرم کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کی ہے حالانکہ اس نے ہولوکاسٹ کے دوران مبینہ طور پر قریباً ساٹھ لاکھ یہودیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا تھا۔