''امریکی سی آئی اے نے عراقی سفیر خریدنے کی کوشش کی''
تعاون پر آمادہ نہ ہونے والے سفیروں کو میزبان ملک سے نکلوا دیا جاتا: ناجی صبری
عراق کے سابق وزیرخارجہ ناجی صبری الحديثی نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا کی سی آئی اے سمیت غیر ملکی سراغرساں اداروں نے سابق صدر صدام حسین کے خلاف کام کے لیے عراقی سفارت کاروں کو بھرتی کرنے کی کوشش کی تھی اور جو سفارت کار سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے لیے کام سے انکار کرتا تھا،اس کو میزبان ملک سے بے دخل کروا دیا جاتا تھا۔
ناجی صبری الحديثی نے یہ انکشاف العربیہ نیوز کے پروگرام ''سیاسی یادداشت'' میں گفتگو کے دوران کیا ہے۔یہ پروگرام جمعہ کو نشر کیا گیا ہے۔وہ صدام حسین کے دورحکومت میں عراق کے 2001ء سے 2003ء تک وزیرخارجہ رہے تھے۔
انھوں نے بتایا ہے کہ سنہ 2002ء کے آخر میں امریکی اور برطانوی سراغرساں اداروں نے بیرون ملک عراقی سفارت کاروں سے سلسلہ جنبانی شروع کردیا تھا اور وہ انھیں ترغیب وتحریص کے ذریعے اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے رہے تھے کہ وہ ان کے لیے صدر صدام حسین کے خلاف کام کریں۔
انھوں نے اپنی اس انکشاف انگیز گفتگو میں کہا کہ مغربی افریقا میں واقع ملک مالی میں تعینات ایک عراقی سفارت کار سے سب سے پہلے امریکی اور برطانوی سراغرساں اداروں نے رابطہ کیا تھا۔جب اس نے ان کے ساتھ تعاون سے انکار کردیا تو اس کو مالی سے نکلوا دیا گیا تھا۔
ناجی صبری کا کہنا تھا کہ ''جوکوئی بھی عراقی سفارت کار امریکی انٹیلی جنس کے ساتھ کام کرنے سے انکار کرتا تھا،اس کو میزبان ملک کی جانب سے ناپسندیدہ شخصیت قرار دلوا دیا جاتا تھا''۔
سابق عراقی وزیرخارجہ نے اپنی گفتگو میں مزید بتایا ہے کہ امریکی سی آئی اے اور دوسری غیرملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے صدام دور کے سفارت کاروں ہی سے رابطے نہیں کیے تھے بلکہ انھوں نے عراق کے جوہری سائنسدانوں کو بھی اپنے دامِ تزویر میں پھانسنے کی کوشش کی تھی۔سی آئی اے کے ایک اہلکار نے عراق کے جوہری سائنسدان جعفر ضیاء سے رابطہ کیا تھا اور انھیں ایجنسی کے لیے کام پر آمادہ کرنے کی تجویز پیش کی تھی لیکن انھوں نے اس کو مسترد کردیا تھا۔
امریکا اور برطانیہ نے عراق پر مارچ 2003ء میں چڑھائی سے قبل یہ بھرپور پروپیگنڈا کیا تھا کہ صدام حسین کے پاس خطرناک کیمیائی ،حیاتیاتی اور جوہری ہتھیار ہیں جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا سکتے ہیں لیکن امریکا کی قیادت میں اتحادی فوجوں کے عراق پر حملے اور صدام حکومت کے خاتمے کے بعد سی آئی اے کو جنگ زدہ ملک میں کہیں سے بھی یہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار(ڈبلیو ایم ڈی) نہیں ملے تھے۔
ناجی صبری الحديثی نے العربیہ کے پروگرام میں بتایا کہ امریکی سی آئی اے نے عراق کے نیشنل مانیٹرنگ ڈائریکٹوریٹ کے سابق سربراہ میجر جنرل حسام امین کی وفاداری خریدنے اور اپنے لیے کام کی پیش کش کی تھی اور انھیں یہ کہا تھا کہ اگر وہ اس پر آمادہ ہوجاتے ہیں تو انھیں صدام حکومت کے خاتمے کے بعد عراق کا وزیراعظم بنا دیا جائے گا لیکن انھوں نے بھی اس پُرکشش پیش کش کو مسترد کردیا تھا۔
ان کے تحت قومی نگرانی کی نظامت بغداد حکومت اور اقوام متحدہ کے خصوصی کمیشن (یو این سکام) کے درمیان رابطے کا کام کرتی تھی۔یہ کمیشن جنگ خلیج کے بعد عراق کی جانب سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال کو روکنے سے متعلق پالیسیوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔
خود سابق عراقی وزیر خارجہ کی وفاداری بھی خریدنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ناجی صبری نے ایک صحافی کے بارے میں بتایا کہ اس نے ان سے کہا تھا کہ وہ بہت بھاری رقم سے محروم ہوگیا ہے اور یہ رقم انھیں (وزیرخارجہ کو) صدام حسین کی مخالفت پر آمادہ کرنے کی لیے دی جارہی تھی۔تاہم انھوں نے اس صحافی کا نام نہیں بتایا ہے۔
ناجی صبری نے گفتگو کے دوران اس صحافی کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ''میں دس لاکھ ڈالرز کی رقم کھو بیٹھا ہوں۔مجھے امریکیوں کے ساتھ تعاون کرنے والے ایک فرانسیسی نے یہ رقم دی تھی تاکہ میں آپ کو (ناجی صبری الحديثی) کو منحرف ہونے پر آمادہ کرسکوں۔تاہم میں نے اس پیش کش کو مسترد کردیا ہے کیونکہ آپ نے مجھے بتایا تھا کہ آپ کے صدام حسین کے ساتھ شاندار تعلقات استوار ہیں''۔