طلاق کے کیسوں کی پیروی کرنے والے وکلاء کی چاندی

سعودی عرب میں وکلاء طلاق کے ایک کیس کی فیس 60 ہزار ریال تک اینٹھ رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سعودی عرب میں طلاق کی شرح میں اضافے کے ساتھ ایسے کیسوں کی پیروی کرنے والے وکلاء کی بھی چاندی ہوگئی ہے اور وہ ایک کیس کی فیس 60 ہزار ریال تک لے رہے ہیں۔

سعودی عرب میں شادی کے پہلے سال ہی ساٹھ فی صد طلاقیں ہوجاتی ہیں اور خاوند یا بیوی طلاق کے لیے عدالت سے رجوع کرتے ہیں۔ادارہ تحقیقات اور پبلک پراسیکیوشن کے رکن وکیل عاصم ملّا کے مطابق عدالتوں میں روزانہ طلاق کے اوسطاً 123 کیس دائر ہوتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ خاندانی وکلاء طلاق اور خلع کے کیسوں سے بہت زیادہ ''منافع'' کما رہے ہیں۔انھوں نے 2013ء کے اعداد وشمار فراہم کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس سال سعودی عرب بھر میں طلاق کے کل 44839 اور خلع کے 1534 کیس دائر کیے گئے تھے۔تاہم ایسے کیسوں کی پیروی کرنے والے وکلاء کے اعداد وشمار دستیاب نہیں ہیں۔

عاصم ملّا کا کہنا ہے کہ''طلاق کے بیشتر کیسوں میں مؤکل کو وکیل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔خواتین ذاتی نوعیت کے مقدمات کی سماعت کرنے والی عدالت میں از خود اپنے خاوندوں کے خلاف درخواست دائر کرسکتی ہیں۔البتہ بعض پیچیدہ کیسوں کی صورت میں وکلاء کی خدمات درکار ہوتی ہیں اور میاں بیوی کے درمیان معاملہ رقم کے لین دین پر ختم ہوجاتا ہے''۔

ان کے بہ قول بعض وکلاء تصفیے میں طے پانے والی رقم کا 50 فی صد تک لے لیتے ہیں اور بعض تو پوری پوری یعنی سو فی صد رقم فیس کی مد میں لے لیتے ہیں۔وکلاء کی فیس کا انحصار ان کی خدمات،تجربے اور مؤکل کے کیس کو دیے گئے وقت پر ہوتا ہے۔بعض مؤکل صرف عدالت میں کیس کی پیروی کے لیے وکلاء کی خدمات حاصل کرتے ہیں اور بعض طلاق کا فیصلہ ہونے تک وکیل کرتے ہیں۔

ایک اور وکیل بیان ظہران کا کہنا ہے کہ حکام کی جانب سے وکلاء کی فیس کی کوئی شرح مقرر نہیں ہے اور ہر وکیل اپنے تجربے اور کیس کی نوعیت کے مطابق فیس لینے کا حق رکھتا ہے۔ہر کیس مختلف ہوتا ہے اور اس کی اسی حساب سے فیس ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق طلاق کی شرح 35 فی صد تک ہوچکی ہے اور یہ دنیا میں طلاق کی اوسط شرح سے کہیں زیادہ ہے۔ دنیا میں اس وقت طلاق کی اوسط شرح 18 سے 22 فی صد کے درمیان ہے۔

ساحلی شہر جدہ میں خاوندوں کی جانب سے بیویوں کو طلاق دینے کا سب سے زیادہ رجحان پایا جاتا ہے اور وہاں یہ شرح 60 فی صد ہے۔اس کے بعد دارالحکومت الریاض کا نمبر ہے وہاں طلاق دینے کی شرح 39 فی صد ہے۔الاحساء میں طلاق کی شرح 20 فی صد اور مشرقی صوبے میں 18 فی صد ہے۔یہ اعداد وشمار الاحساء میں قائم البیر خیراتی سوسائٹی سے وابستہ خاندان ترقی مرکز (ایف ڈی سی) کے فراہم کردہ ہیں۔

قطیف میں وزارت انصاف سے وابستہ محکمہ وقف اور وراثت کے جج شیخ محمد علی آل جیرانی نے شریعت سے عدم آگہی سمیت طلاق کی بہت سی وجوہ بیان کی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ 25 فی صد طلاقیں شریعت کا کماحقہ علم نہ ہونے کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتی ہیں۔

سعودی مملکت میں طلاق کی دیگر وجوہ میں جینیاتی اور جنسی بیماریاں 5 فی صد ،خاوند کا بیشتر وقت سفر میں رہنا اور گھروں سے دوری 5 فی صد ،نان ونفقہ اور بیوی کی ضروریات کو پورا نہ کرنا اور پُرتعیش زندگی 20 فی صد ،ٹیکنالوجی کی ترقی اور سوشل نیٹ ورکنگ ایشوز 20 فی صد نمایاں ہیں۔اس کے علاوہ خاوند،بیوی کا آپس میں عدم اعتماد 15 فی صد اور خاوند کی ایک سے زیادہ شادیاں اور بیویوں سے برابری کا سلوک کرنے میں ناکامی کی وجہ سے 10 فی صد طلاقیں ہوتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size