.

القاعدہ حملوں کی ایکسکلوسیو فوٹیج 'العربیہ' سکرین پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ نیوز چینل پر بدھ [2 دسمبر] سے نئی قسط وار دستاویزی فلم دکھائی جا رہی ہے۔ دستاویزی فلم کی منفرد بات یہ ہے کہ اس میں سعودی عرب کے اندر القاعدہ کی کارروائیوں اور بعد ازاں شدت پسند تنظیم کے خلاف سعودی حکام کے کریک ڈاؤن پر مبنی فوٹیج پہلی مرتبہ سامنے لائی جا رہی ہے، جو اس سے پہلے کہیں استعمال نہیں کی گئی۔

دستاویزی فلم کی پہلی قسط 'العربیہ' نیوز چینل پر گرینچ کے معیاری وقت چار بجے پیش کی جائے گی۔

ایک دہائی قبل القاعدہ نے خلیج سمیت پوری دنیا کو کار بم دھماکوں کا ایک سلسلہ شروع کر کے حیرت میں مبتلا کر دیا تھا۔ ان دھماکوں کے ذریعے القاعدہ سعودی عرب میں 'خونی انقلاب' کی راہ ہموار کرنا چاہتی تھی۔

سنہ 2003ء میں اس وقت کے سیکیورٹی چیف شہزادہ محمد بن نائف نے القاعدہ پر جوابی وار کیا جس کے نتیجے میں انتہا پسند گروپ کے خلاف سیکیورٹی کریک ڈائون کا آغاز ہوا۔ تین برس جاری رہنے والے اس کریک ڈاؤن کے دوران تنظیم کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ القاعدہ کے 2003ء کے ان حملوں میں کم ازکم 39 غیر ملکی اور سعودی باشندے ہلاک جبکہ 160 کے قریب لوگ زخمی ہوئے تھے۔

دس برس بعد 'العربیہ' نیوز چینل ان حملوں پر مشتمل دستاویزی پروگرام نشر کرے گا، جس میں شدت پسند تنظیم کے بارے میں اہم معلومات پیش کی جائیں گی۔ یہ معلومات سعودی حکام نے دہشت گردوں کے قبضے سے ملنے والے موبائل فونز اور کیمروں میں محفوظ کئی گھنٹوں پر محیط فوٹیج کے تفصیلی فرانزک تجزِیئے کے بعد جاری کیں۔

معلومات تک لامحدود رسائی

"دہشت گردی کے خلاف سعودی جنگ" کے عنوان سے 'العربیہ' پر پیش کی جانے والی دستاویزی فلم کے ایگزیکیٹو پروڈیوسرعادل عبدالکریم نے بتایا کہ "اس سیریز کی منفرد بات دراصل سعودی سیکیورٹی حکام کے توسط سے اہم ترین معلومات تک رسائی ہے۔ سعودی حکام کے القاعدہ پر کریک ڈاؤن کے دوران ہاتھ لگنے والی اہم فوٹیج کا دستاویزی فلم میں استعمال 'العربیہ' کا پیشہ وارانہ اعزاز ہے۔"

انہوں نے مزید بتایا کہ "یہ امر بھی ہمارے لئے مدد کا باعث بنا کہ دہشت گردوں کو اپنی ہر کارروائی عکس بند کرنے کا خبط تھا۔ انہوں نے اپنے پلاننگ اجلاس، محفوظ ٹھکانوں کی نشت وبرخاست اور حملے کے مقام تک جانے کی وڈیو فوٹیج بنا رکھی تھی جو اب 'العربیہ' کو ملی ہے۔"

عبدالکریم نے مزید بتایا کہ "ہم نے القاعدہ کی 1300 گھنٹوں پر مشتمل فوٹیج حاصل کی جو دہشت گردوں کے ذاتی ویڈیو ریکارڈ، موبائل فونز سمیت 8 ایم ایم فلم سٹرپ پر محفوظ تھی۔" "ہم تین سال سے اس دستاویزی فلم کا کام کر رہے تھے۔"

عبدالکریم نے بتایا کہ "اس ٹی وی سیریز کو بنانے میں تین سال تک کا وقت لگ گیا ہے۔ ہم نے اس فلم کو 150 منٹ تک کا بنا دیا ہے جو کہ ٹی وی پر تین گھنٹوں کے برابر ہے۔ ہم نے اس کہانی کو ڈرامائی انداز میں بتانے کی کوشش کی ہے مگر ہماری یہ بھی کوشش تھی کہ ہم ان 150 منٹ میں تمام پہلوئوں کا احاطہ کرلیں۔"

دستاویزی فلم کے ایگزیکٹیو پروڈیوسر نے بتایا کہ "ہم نے سیکڑوں گھنٹوں پر محیط فوٹیج کو کھنگال کر اس میں سے150 منٹ دورانیے کا ٹی وی لوازمہ نکالا ہے۔ ہماری کوشش رہی کہ اس لوازمہ کو ڈرامائی انداز میں پیش کریں تاکہ دہشت گرد تنظیم کی خوفناک کارروائیوں پر تمام زاویوں سے روشنی ڈالی جا سکے۔ جتنا مواد ہمارے پاس تھا، اسے دیکھتے ہوئے ہمیں لگتا ہے کہ دستاویزی فلم میں شدت پسند تنظیم کے بارے میں صرف چیدہ چیدہ معلومات ہی ناظرین کے سامنے آ سکیں گی۔"

نفسیات سمجھنے کی کوشش

دستاویزی فلم کے ہدایت کار اور پروڈیوسر نے امید ظاہر کی کہ:"یہ سیریز ناظرین کو حملہ آوروں کی نفسیات سمجھنے اور مستقبل میں ایسے ہی ممکنہ حملوں سے بچاؤ کے لئے مدد فراہم کرے گی۔

"داعش بھی القاعدہ ہی کا تسلسل ہے۔ مگر یہ سیریز یہ دکھاتی ہے کہ دہشت گرد ہمیشہ ہی کسی نہ کسی کارروائی میں مصروف رہیں گے چاہے وہ سعودی عرب، کویت، فرانس یا امریکا ہو۔ یہ سیریز اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ دہشت گرد آخرعام شہریوں کو نشانہ کیوں بناتے ہیں؟"