القاعدہ کی شامی شاخ نے یرغمال لبنانی فوجیوں کو رہا کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شام میں القاعدہ کی شاخ النصرۃ محاذ اور لبنانی فوج نے آپس میں قیدیوں کا تبادلہ کیا ہے اور النصرۃ محاذ نے یرغمال بعض لبنانی فوجیوں کو رہا کردیا ہے۔

لیکن فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ لبنانی فوج نے النصرۃ محاذ کے کتنے اور کون سے قیدیوں کو رہا کیا ہے۔النصرہ نے اگست 2014ء سے لبنان کے سولہ فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

جولائی میں شام کے اس باغی گروپ نے لبنان کو دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے خلیفہ ابو بکر البغدادی کی ایک سابق اہلیہ اور چار دیگر خواتین کے بدلے میں یرغمال فوجیوں کی رہائی کی پیش کش کی تھی۔

تب لبنان کی سرحد کے ساتھ واقع شامی علاقے وادی قلمون میں النصرۃ محاذ کے امیر ابو مالک الشامی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ''اگر ہماری پانچ بہنوں کو جیلوں سے رہا کردیا جاتا ہے تو اس کے بدلے میں ہم تین فوجیوں کو رہا کردیں گے''۔

نو لبنانی فوجیوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس وقت داعش کی قید میں ہیں۔النصرۃ محاذ ماضی میں متعدد مرتبہ لبنانی جیلوں میں قید اسلام پسند قیدیوں کی رہائی اور لبنان سے شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے انخلاء کا مطالبہ کرچکا ہے۔

یادرہے کہ گذشتہ سال اگست میں شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف برسرپیکار مختلف جہادی گروپوں سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے لبنان کے مشرقی علاقے وادی بقاع میں واقع قصبے عرسال اور اس کے نواح میں پولیس اور فوج کی چوکیوں پر حملہ کردیا تھا۔انھوں نے النصرۃ محاذ سے وابستہ ایک مشتبہ شخص کی گرفتاری کے بعد وادی بقاع میں یہ دھاوا بولا تھا۔

لبنان کے مقامی علماء کی ثالثی کے نتیجے میں فوج اور جنگجوؤں کے درمیان جنگ بندی کا سمجھوتا طے پایا تھا جس کے بعد جنگجوؤں نے سات فوجیوں کو رہا کردیا تھا لیکن وہ عرسال سے شامی علاقے کی جانب جاتے ہوئے متعدد فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا کر ساتھ لے گئے تھے۔ لبنانی آرمی نے تب اپنے بائیس فوجیوں کے لاپتا ہونے کی تصدیق کی تھی۔

شام میں گذشتہ ساڑھے چار سال سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں لبنان میں بھی اہل تشیع اور اہل سنت کے درمیان کشیدگی پائی جارہی ہے۔لبنان کے اہل سنت شامی فوج کے خلاف برسر پیکار باغی جنگجوؤں کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ علوی اور شیعہ اپنے ہم مذہب صدر بشارالاسد کے حامی ہیں۔ایران کی حمایت یافتہ لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ شامی صدر کی حمایت میں پیش پیش ہے اور اس کے جنگجو باغیوں کے خلاف شامی فوج کے شانہ بشانہ جنگ لڑرہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں