.

ڈونلد ٹرمپ تقسیم کے بیج بو رہے ہیں: روز حامد

ریلی میں میرے ساتھ مختلف مذہبی پس منظر کے حامل آٹھ اور لوگ بھی تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی ریلی سے زبردستی نکالے جانے پر عالمی شہرت پانے والی مسلم خاتون روز حامد نے کہا ہے کہ مسٹر ٹرمپ اپنے بیانات سے تقسیم کے بیج بو رہے ہیں کیونکہ بعض لوگ ان کے مسلم مخالف بیانات کی مخالفت کررہے ہیں اور بعض ان کے نقطہ نظر کے حامی نظر آتے ہیں۔

وہ نارتھ کیرولینا،امریکا سے اسکائپ کے ذریعے العربیہ نیوز چینل کے نمائندے سے گفتگو کررہی تھیں۔العربیہ نے ان سے پہلا سوال یہی کیا کہ انھیں اس طرح ڈونلڈ ٹرمپ کی ریلی میں جانے یا دوسرے الفاظ میں شیر کی کچھار میں منھ دینے کی کیا ضرورت تھی؟چھپن سالہ روز حامد نے اس کے جواب میں بتایا: ''میں وہاں اکیلی نہیں گئی تھی بلکہ میرے ساتھ مختلف مذہبی پس منظر کے حامل آٹھ لوگ بھی تھے۔ان میں عیسائی ،مسلم اور یہودی تھے۔ہم لوگ ری پبلکن امیدوار کی انتخابی مہم کے دوران منافرت پر مبنی تقاریر کے خلاف احتجاج کے لیے گئے تھے''۔

انھوں نے کہا کہ امریکا میں کسی بھی مذہب اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اظہار رائے اور مذہب کی آزادی حاصل ہے اور وہ مسٹر ٹرمپ کی نفرت انگیز تقاریر کو ان آزادیوں کے منافی سمجھتی ہیں۔انھوں نے ایک اور سوال کے جواب میں العربیہ کو بتایا کہ وہ امریکی عوام تک ایک پیغام پہنچانا چاہتی تھیں اور وہ یہ تھا کہ ملک میں اس طرح کے کردار اور بیانات کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

روز حامد سے جب پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں ڈونلڈ ٹرمپ مسلمان مخالف بیانات میں کتنے سنجیدہ ہیں اور کیا امریکی عوام فی الواقع ان کی تجاویز سے متفق ہیں؟تو ان کا کہنا تھا کہ ''میرے خیال میں بعض لوگ ان کے نقطہ نظر میں یقین رکھتے ہیں اور وہ ان کو اختیار کرنا چاہیں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ بھی ان کی ایسا کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔تاہم جو لوگ ریلی میں میرے ساتھ بیٹھے تھے،وہ ٹرمپ کے حامی نہیں لگ رہے تھے''۔

انھوں نے ٹیلی ویژن چینلوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے مشتہر ہونے والی ویڈیو کے بارے میں وضاحت کی کہ ''مجھ اکیلی کو ہال سے نہیں نکالا گیا تھا بلکہ میرے ساتھ آٹھ اور لوگوں کو بھی شہری حقوق کے تحفظ کی پاداش میں نکال باہر کیا گیا تھا۔انھوں نے بھی وہاں ڈونلڈ ٹرمپ کی نفرت انگیز تقاریر کے خلاف احتجاج کیا تھا''۔

روز حامد نے بتایا کہ ''ان سب نے ریلی میں جانے سے قبل یہ فیصلہ کیا تھا کہ اگر مسٹر ٹرمپ نے کوئی نفرت انگیز بات کی یا امریکیوں کے کسی گروہ کے خلاف امتیازی کلمات کہے تو وہ اٹھ کھڑے ہوں گے۔چنانچہ ہم نے ایسے ہی کیا تھا۔بعض لوگ ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت سست کہنا چاہتے تھے لیکن میں نے ایسا نہیں کیا اور خاموش رہ کر احتجاج کیا تھا''۔

العربیہ نے جب روز حامد سے پوچھا کہ جب آپ سب لوگوں کو وہاں سے نکالا گیا تھا تو پھر صرف آپ ہی کو امریکی میڈیا نے کیوں نمایاں کیا ہے؟ کیا ایسا صرف مسلمان اور حجاب میں ہونے کی وجہ سے کیا گیا ہے؟اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ میڈیا نے پہلے یہی سمجھا تھا کہ صرف ایک مسلم خاتون کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا ہے لیکن بعد میں انھوں نے احتجاج کے سبب پر بھی اپنی توجہ مرکوز کی تھی۔

ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے واضح کیا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف کسی قسم کی قانونی چارہ جوئِی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ہیں بلکہ وہ ریاست ہائے متحدہ امریکا میں نفرت کے پرچارک لوگوں کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھیں گی۔انھوں نے مسلمانوں کو بھی مخاطب ہوکر کہا کہ ''وہ اسلام کے نام پر ظلم وزیادتی کرنے والوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں کیونکہ بطور مسلمان ہم اس بات سے آگاہ ہیں کہ صرف اچھے اور پُرامن کردار کے ذریعے ہی بُرے لوگوں کا قلع قمع کیا جاسکتا ہے''۔