امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی کے درمیان تعلقات چند روز قبل فرانس میں جی 7 سربراہی اجلاس کے دوران ان کی ملاقات میں ظاہر ہونے والی بظاہر گرمجوشی کے بعد ایک بار پھر کشیدگی کے دائرے میں لوٹ آئے ہیں۔
میلونی نے اپنے سابق امریکی اتحادی پر اپنے بارے میں اس وقت کہانیاں گھڑنے کا الزام لگایا ہے جب ٹرمپ نے ایک اطالوی ٹی وی چینل کو بتایا کہ انہوں نے سربراہی اجلاس کے دوران ان کے ساتھ تصویر کھنچوانے کی التجا کی تھی۔
اطالوی حکومت کی سربراہ نے ایکس اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو میں کہا کہ وہ ان کے تبصروں پر حیران ہیں جنہیں انہوں نے مکمل طور پر من گھڑت قرار دیا۔ انہوں نے ٹرمپ پر روایتی اتحادیوں کے مقابلے میں مغرب کے دشمنوں کی طرف کہیں زیادہ نرمی دکھانے کا الزام لگایا۔
میلونی نے غصے بھرے لہجے میں مزید کہا کہ ٹرمپ کے بیانات مکمل طور پر من گھڑت ہیں، میں صرف اتنا کہہ سکتی ہوں کہ یہ انتہائی مایوس کن ہے کہ وہ مغرب اور امریکہ کے دشمنوں کے خلاف اس سخت موقف کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ اس کے برعکس ان رہنماؤں کے ساتھ وہ کہیں زیادہ نرمی سے پیش آتے ہیں۔
مزید برآں انہوں نے کہا کہ ایک بات ہے جو انہیں یاد رکھنی چاہیے، نہ میں اور نہ ہی اٹلی کبھی التجا کرتے ہیں۔ دوسری طرف اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی، جن کا اتوار اور پیر کو امریکہ کا دورہ طے تھا، نے ان مبینہ بیانات کے بعد اپنا دورہ منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔
ایک تصویر کے لیے التجا
یہ حالیہ زبانی جنگ دونوں ملکوں کے تعلقات میں شدید گراوٹ کو ظاہر کر رہی ہے ۔ یہ جنگ جی 7 سربراہی اجلاس کے دوران ظاہر ہونے والے ان مثبت اشاروں کے چند ہی دن بعد شروع ہوئی ہے۔ ان اشاروں یہ معلوم ہوتا تھا کہ دونوں رہنما ان تعلقات کو پرسکون کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو پہلے ایران میں جنگ سے متعلق اختلافات کی وجہ سے کشیدہ ہوئے تھے۔
فرانس میں اس تقریب کی سامنے آنے والی ویڈیو فوٹیج میں میلونی اور ٹرمپ کو گہری گفتگو کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا لیکن امریکی صدر نے بعد میں کہا کہ وہ صرف ان سے بات چیت مروت میں کر رہے تھے۔ ٹرمپ نے اطالوی وزیر اعظم کے بارے میں ایک صحافی کے سوال پر "La7" چینل کو مختصر بیانات دیتے ہوئے کہا کہ شاید وہ خوش تھیں کہ میں نے ان سے بات کی، مجھے ان سے بات کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس نے مجھ سے میرے ساتھ تصویر کھنچوانے کے لیے التجا کی تھی۔ وہ شدت سے میرے ساتھ ایک تصویر چاہتی تھی۔ میں یہ نہیں چاہتا تھا، لیکن مجھے اس پر ترس آ گیا۔ میلونی ماضی میں ٹرمپ کے اہم ترین حامیوں میں سے ایک تھیں بلکہ وہ واحد یورپی رہنما تھیں جنہوں نے 2025 میں ان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی تھی۔
تاہم انہوں نے بعد میں پوپ لیو چودھویں پر ایران کے خلاف جنگ کی مذمت کرنے کی وجہ سے ٹرمپ کی جانب سے کیے جانے والے حملے کے بعد ان پر تنقید کی تھی جس پر ٹرمپ کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔