.

اسرائیل: نئی فون ایپلی کیشن سے جنسی ہراسیت میں اضافہ

بیویوں کو نامعلوم پیغامات ملنے پر خاوند مشکلات سے دوچار، شادیاں ٹوٹنے کا خطرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل میں موبائل فون پر پیغام رسانی کے لیے نئی ایپلی کیشن متعارف کرانے والی کمپنی نے ایک نیا تنازعہ کھڑا دیا ہے۔اس کی ایپلی کیشن نے بہت سے یہودی خاندانوں کی زندگیاں اجیرن کردی ہیں اور نوجوانوں کے ہاتھ خواتین کو ہراساں کرنے کا ''آلہ'' تھما دیا ہے۔

مشہور اسرائیلی امریکی ریپر ول آئی ایم اور نیکی مناج سمیت مختلف سرمایہ کاروں کی ملکیتی کمپنی نے حال ہی میں بلائنڈ اسپاٹ کے نام سے یہ ایپلی کیشن متعارف کرائی ہے۔موبائل فون کا صارف اس کے ذریعے غیرشناختہ پیغامات ،تصاویر اور ویڈیوز اپنے ساتھ رابطے میں موجود لوگوں کو بھیج سکتا ہے مگر انھیں وصول کرنے والا اس کا پتا نہیں چلا سکتا کہ انھیں کس نے بھیجا ہے۔

اسرائیلی پارلیمان کے ارکان،سیاست دان اور اس کے مخالف مہم چلانے والے اس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے آن لائن لوگوں کو ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

اسرائیلی پارلیمان کی ایک کمیٹی نے اس ایپلی کیشن پر تنقید کی ہے جبکہ اس کی ملکیتی کمپنی کا کہنا ہے کہ دسمبر کے آخر میں اس کے آغاز کے بعد پانچ لاکھ سے زیادہ افراد اس ایپلی کیشن کو ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں۔

اسرائیل کی مشہورزمانہ ماڈل اور ٹی وی پیش کار بار رفائلی کا ایک بھائی موران بار بلائنڈ سپاٹ ایپلی کیشن کو متعارف کرانے میں پیش پیش رہا ہے اور اب وہ آیندہ مہینوں کے دوران امریکا اور یورپ میں بھی اس کو متعارف کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔موران بار اسرائیلی بلاگ گریک ٹائم کا چیف ایگزیکٹو آفیسر ہے۔

یہ ایپلی کیشن شیلانو گروپ کی ملکیت ہے اور اس کے لیے میوزک اسٹارز وِل آئِی ایم اور نیکی مناج کے علاوہ روسی ارب پتی اور چیلسیا فٹ بال کلب کے مالک رومان ابرامووچ نے رقوم مہیا کی ہیں۔

یہ ایپ بھی سوشل نیٹ ورکنگ کے دوسرے چینلز وٹس ایپ وغیرہ کی طرح کام کرتی ہے۔اس کے ذریعے صارفین چیٹ کرسکتے ہیں،تصاویر اور ویڈیوز بھیج سکتے ہیں لیکن بھیجنے والے کی شناخت نامعلوم رہتی ہے۔

جنسی ہراسیت کے واقعات

اسرائیلی ٹیکنالوجی شو چینل کے ساتھ رپورٹر کے طور پر وابستہ ایڈم شفیر کا کہنا ہے کہ اس ایپلی کیشن کی وجہ سے لوگوں کو ہراساں کرنے کے واقعات رونما ہورہے ہیں۔انھوں نے ماضی میں شروع کی گئی اسی طرح کی ایک اور ایپلی کیشن سیکرٹ کا حوالہ دیا ہے۔اس کے خلاف بھی مہم چلائی گئی تھی اور بالآخر حکام نے اس کو بند کردیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ''لڑکیوں اور خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے بہت سے واقعات رونما ہورہے ہیں۔لڑکے لڑکیوں کو ان کے جسمانی خدوخال سے متعلق پیغامات بھیج رہے ہیں۔اس کے علاوہ دھمکی آمیز پیغامات بھی بھیجے جارہے ہیں اور بعض کو یہ پیغام ملا ہے:''میں آپ کو قتل کردوں گا''۔

کمپنی نے اپنی اس ایپلی کیشن کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے آغاز سے قبل مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں۔صارفین لوگوں کو بلاک کرسکتے ہیں۔دھمکی آمیز پیغامات مزید قانونی کارروائی کے لیے پولیس کو فراہم کرسکتے ہیں۔

مگر اسرائیلی پارلیمان کی رکن میراف بن آری نے اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ نوجوانوں کو ہراساں کیا جاسکتا ہے اور وہ اس کے ردعمل میں خودکشی بھی کرسکتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اگر آپ کوئی بات شائستہ انداز میں کہہ سکتے ہیں تو پھر آپ کو اس کو غیر شناختہ انداز میں بھیجنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

اسرائیل میں گذشتہ سال کے آخر میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق ہر پانچ میں سے ایک نوجوان کو آن لائن ہراساں کیا جاتا ہے اور یہ پانچواں شخص خودکشی کا بھی سوچ رہا ہوتا ہے۔

اسرائیل میں گذشتہ سال موسم گرما میں ایک سرکاری ملازم نے فیس بُک پر ایک پوسٹ کے بعد خودکشی کر لی تھی۔اس میں اس ملازم پر نسل پرست ہونے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔اس نے اس دعوے کی تردید کی تھی لیکن بالآخر اس نے دل برداشتہ ہو کر اپنی جان لے لی تھی۔

یہ مستقبل ہے

شفیر نے یورپ کا سفر کرنے والے ایک جوڑے کے کیس کا بھی حوالہ دیا ہے۔دوران سفر بیوی کو بلائنڈ اسپاٹ پر ایک پیغام موصول ہوا تھا۔اس میں لکھا تھا کہ اس کا خاوند اس کو دھوکا دے رہا ہے۔اس خاوند نے اس الزام کی تردید کی کہ وہ اپنی بیوی کو دھوکا دے رہا ہے۔اسرائیلی رپورٹر کا کہنا ہے کہ اس طرح تو شادیاں تباہ ہوسکتی ہیں۔

بلائنڈ اسپاٹ کی مادر کمپنی کے ترجمان ڈیوڈ اسٹراس نے اعتراف کیا ہے کہ انھیں اس طرح کی پیغام رسانی سے نالاں خاوندوں کی جانب سے تین سو کے لگ بھگ ای میل موصول ہوچکی ہیں لیکن ہم تو صرف ایک پلیٹ فارم ہیں۔

اسرائیلی پارلیمان کی ٹیکنالوجی کمیٹی نے اس ایپلی کیشن کے مضمرات کے بارے میں غور کیا ہے اور بن آری کا کہنا ہے کہ دو گھنٹے کی بحث کے دوران ہم نے اس کے حق میں ایک بھی کلمہ نہیں سنا ہے۔

لیکن مسٹر اسٹراس کا کہنا ہے کہ آن لائن ''نامعلومی'' سادہ الفاظ میں ایک ارتقائی انقلاب ہے،لوگوں خواہ اس کو پسند کریں یا نہ کریں۔ممکن ہے،اس خاتون نے جب لوگوں نے سی ڈیز کو استعمال کرنا شروع کیا تھا تو اس وقت اس کو پسند نہ کیا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ صرف کیسٹیس ہی کو پسند کرتی رہی ہوں''۔