برازیل : کارنیوال میں لاکھوں بوسے "زیکا" وائرس کا ٹائم بم !
وائرس انسانی لعاب کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے ، سائنس دانوں کا انتباہ
لاطینی امریکا کے ملک برازیل میں اس مرتبہ کا سالانہ کارنیوال دنیا بھر کے لیے "زیکا وائرس" کی شکل میں ٹائم بم بن سکتا ہے۔ یہ وائرس رحم مادر میں انسانی جنین اور اس کے دماغ تک کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ سرکاری طور پر ہفتے کے روز شروع ہونے والے اس سالانہ کارنیوال میں ملک کی آدھی سے زیاہ آبادی یعنی تقریبا 10 کروڑ افراد سڑکوں، میدانوں اور ساحلوں پر نکل آتے ہیں، اور پھر اگلے 5 روز تک دن رات رقص اور دیگر تفریحی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ اس دوران لوگوں کی بڑی تعداد آپس میں لاکھوں بوسوں کا اندھادھند تبادلہ بھی کرتی ہے۔ اس مرتبہ سائنس دانوں نے سخت تنبیہہ کی ہے کہ زیکا وائرس انسانی جسم کے سیال سے منتقل ہوتا ہے جس میں انسانی لعاب اہم ترین ہے۔
برازیل میں اب تک دو مریضوں کے لعاب اور پیشاب میں اس وائرس کا انکشاف ہوچکا ہے۔ جس کے بعد وہاں کے سائنس دانوں نے چند روز قبل خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ ادھر امریکی طبی ماہرین نے حاملہ خواتین کی نگرانی کے لیے سخت اقدامات پر زور دیا ہے اور ساتھ ہی حاملہ خواتین کو ہدایت کی ہے کہ وہ کارنیوال کے دوران بوسوں سے گریز کریں تاکہ وائرس سے بچا جاسکے۔ "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق برازیل میں حکومت کی جانب سے نشر کیے جانے والے اعلانات اور اشتہارات میں خواتین کو اجنبی افراد کے بوسوں کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
سان پاؤلو میں ملک میں طبی تحقیق کے اعلی ترین ادارے "اوزوالدو كروز" کے سائنس دانوں نے ایک ہفتہ قبل حکومت کو اپنے ان تحقیقات کے نتائج سے آگاہ کردیا تھا جو انہوں نے تجربہ گاہوں میں کیے۔ اس دوران ان دو مریضوں کے نمونے لے کر ان کا جینیاتی ٹیسٹ کیا گیا جن پر اس وائرس کی علامتیں ظاہر ہوئی تھیں۔ بعد ازاں ان کے زیکا وائرس سے متاثر ہونے کا معلوم کرلیا گیا جو کہ عام طور پر مچھر کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔
سال 2014ء میں برازیل میں فٹ بال کے عالمی کپ کے دوران اس وائرس سے متاثرہ لوگوں (بالخصوص افریقی ممالک سے) ایک بڑی تعداد میچوں کو دیکھنے کے لیے آئی تھی۔ اس کے نتیجے میں وہاں تیزی کے ساتھ "زيكا" پھیل گیا اور بعد ازاں مچھروں، جنسی تعلقات اور بوسوں کے ذریعے اس نے پورے براعظم کو ہی لپیٹ میں لے لیا۔ ادھر زیکا وائرس کو چھوٹے اور پچکے ہوئے سر کے ساتھ بچوں کی پیدائش سے جوڑ دینے کی وجہ سے دنیا بھر میں شدید نوعیت کے اندیشے پھیل گئے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ایک ہفتہ قبل پیش کی جانے والی رپورٹ میں اس بات کا ذکر کیا گیا تھا کہ زیکا وائرس دماغ کو نقصان پہنچاتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے عمومی حجم سے چھوٹا رہ جاتا ہے۔ اس وائرس کا پہلی مرتبہ انکشاف 1947 میں یوگنڈا کے جنگل "زیکا" میں بندروں کے خون میں ہوا تھا۔
عالمی ادارہ صحت کی برازیل میں شاخ نے خاص طور پر مطالبہ کیا تھا کہ حاملہ خواتین رقص کرتے جم ِ غفیر میں نہ داخل ہوں جہاں ان کے اور اجنبی افراد کے درمیان بوسے کا تبادلہ ہونے کا اندیشہ ہو۔ صحت کے عالمی ادارے نے اعلان کیا ہے کہ زیکا وائرس بین الاقوامی سطح پر ہنگامی حالت کی نمائندگی کررہا ہے۔ انسانی جنین کو مسخ کرنے کی حالتوں سے تعلق ہونے کے شبہے کی وجہ سے یہ صحت عامہ کے لیے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ یہ ایسی بیماری ہے جس کا ابھی تک کوئی علاج یا ویکسینیشن نہیں ہے۔ براعظم امریکا کے 26 ممالک میں پھیل جانے کے بعد اس کے دیگر براعظموں کی سرحدیں عبور کرجانے کا خطرہ ہے۔
-
'مرس وائرس سے متاثرہ طبی عملے کوحج سے روک دیا گیا'
اقدام کا مقصد حجاج کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنا ہے
بين الاقوامى -
ای بولا’ وائرس کے باعث گینیا میں سعودی سفارت خانہ بند
براعظم افریقا کے ملک گینیا (کوناکری) میں ’ای بولا‘ وائرس کی موذی وباء ...
بين الاقوامى -
ای بولا وائرس سے نبرد آزما لوگ ''سال کی شخصیت'' قرار
ٹائم میگزین نے مہلک وائرس کا مقابلہ کرنے والوں کو ایوارڈ سے نواز دیا
ایڈیٹر کی پسند