.

اسرائیلی سفیر کی دعوت پر مصری رکن پارلیمان کی رکنیت ختم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے ایوان نمائندگان (پارلیمان) کے کل 596 اراکین میں سے 408 نے ایک رکن توفیق عکاشہ کی رکنیت ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ان کا قصور یہ ہے کہ انھوں نے قاہرہ میں متعیّن اسرائیلی سفیر حائم کورین کو اپنے گھر پر کھانے پر مدعو کیا تھا۔

اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔اس نے اپنی رپورٹ میں توفیق عکاشہ پر الزام عاید کیا تھا کہ وہ کسی غیر ملک کے سفیر سے ملنے کا فیصلہ کرکے پارلیمانی قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔

اس رپورٹ میں عکاشہ کے اس بیان پر توجہ مرکوز کی گئی تھی کہ انھوں نے کورین کے ساتھ تزویراتی اہمیت کے حامل ایشوز پر تبادلہ خیال کیا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عکاشہ کے اس موضوع پر ایک غیرملکی سفیر سے تبادلہ خیال سے مذاکرات میں مصر کا مؤقف منفی طور پر متاثر ہوسکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ''صرف وزارت خارجہ کو سرکاری طور پر مصر میں غیرملکی سفارتی مشنوں کے ارکان سے ملاقات اور مذاکرات کا حق حاصل ہے۔توفیق عکاشہ کی پارلیمان سے بے دخلی مصری عوام کے عمومی موقف کے پیش نظر کی گئی ہے کیونکہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی حمایت نہیں کرتے ہیں''۔

اعتراضات

اگرچہ کہ پارلیمان کی اکثریت نے ان کی رکنیت ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا لیکن متعدد ارکان نے اس پر اعتراضات بھی کیے ہیں۔رکن پارلیمان اور الاہرام مرکز برائے سیاسی اور تزویراتی مطالعات کے ایک تجزیہ کار عماد جد کا کہنا ہے کہ توفیق عکاشہ نے اپنے گھر پر اسرائیلی سفیر کو مدعو کرکے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی تھی۔

ان کا موقف ہے کہ ''اسرائیلی سفیر مصر اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کی بنیاد پر قاہرہ میں متعیّن ہیں۔انھوں نے مصری صدر کو اپنی سفارتی اسناد پیش کی تھیں۔اس لیے اس ملاقات میں کچھ بھی غیر قانونی نہیں تھا''۔ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے بارے میں عمومی مخالفانہ رویہ ایک مختلف چیز ہے۔

انھوں نے اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ عکاشہ کے اسرائیلی سفیر کو ملنے سے پارلیمان کی توہین ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ''مصر کے بارے میں فرض کیا جاتا ہے کہ وہ ایک قانونی ریاست ہے۔اس لیے قانون ہی اس بات کا تعیّن کرسکتا ہے کہ یہ اقدام درست ہے یا غلط ہے۔عکاشہ نے اسرائیلی سفیر سے ملاقات ذاتی حیثیت میں کی تھی،سرکاری حیثیت میں نہیں''۔

رکن پارلیمان سمیر غطاس نے اس آئینی اساس پر اعتراض کیا ہے جس کی بنا پر عکاشہ کی رکنیت ختم کی گئی ہے۔انھوں نے بتایا کہ ''انھیں آئین کی دفعہ 110 کی بنیاد پر بے دخل کیا گیا ہے۔یہ بہت وسیع تر ہے۔اس کا اس طرح استعمال ایک خوف ناک مثال ہے''۔

اس دفعہ کے تحت ایک رکن پارلیمان کو ساتھی پارلیمینٹیرینز کا اعتماد کھو جانے ،پارلیمانی فرائض کی انجام دہی میں ناکامی اور اپنے دفتری فرائض کی خلاف ورزی کی صورت میں ایوان سے بے دخل کیا جاسکتا ہے۔
غطاس کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے پارلیمان کا تشخص مجروح ہوگا کیونکہ توفیق عکاشہ کو قانونی نہیں بلکہ سیاسی بنیاد پر پارلیمان کی رکنیت سے محروم کیا گیا ہے۔حتیٰ کہ انھیں اپنے دفاع کا حق بھی نہیں دیا گیا ہے۔اس سے اسرائیل اور مغربی طاقتوں کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ مصری پارلیمان امن کے خلاف ہے۔

دو طرفہ تعلقات

جن ارکان پارلیمان نے توفیق عکاشہ کی رکنیت ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا ہے،وہ ان کی اسرائیلی سفیر کو دعوت کو غداری کی ایک شکل قرار دیتے ہیں۔ایک رکن پارلیمان مصطفیٰ بکری کا کہنا تھا کہ ''عکاشہ نے مصر اور پارلیمان کی بے توقیری کی ہے اور ان تمام مصریوں سے غداری کی ہے جو اسرائیلی فورسز کی گولہ باری میں شہید ہوگئے تھے۔وہ اپنے حلقے کے عوام کا کیسے مقابلہ کرسکتے ہیں جنھوں نے ان پر اعتماد کیا تھا؟ وہ اپنی اس حرکت کے بعد ان کی جانب سے کیسے بول سکتے ہیں؟انھیں پارلیمان سے بے دخل کرنا ہر معزز مصری کا فرض تھا۔

معروف فلم ساز اور پارلیمان کے رکن خالد یوسف کا کہنا تھا کہ توفیق عکاشہ نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے سے متعلق چالیس سالہ مقبول عوامی موقف کا عدم احترام کیا ہے۔وہ 1979ء کے امن معاہدے کے بعد درحقیقت پہلے رکن پارلیمان ہیں جنھوں نے کسی اسرائیلی عہدے دار سے ملاقات کی ہے۔یہ کام تو حسنی مبارک کے دور میں بھی نہیں ہوا تھا جب مصر کا مکمل طور پر امریکا اور اسرائیل کی جانب جھکاؤ تھا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا اقدام کتنا ابنارمل تھا۔پارلیمان عوام کی نمائندہ ہے اور عوام اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے کے حق میں نہیں ہیں''۔

رکن پارلیمان احمد عرجوی کا کہنا تھا کہ ''عکاشہ اور کورین کے درمیان ملاقات کو ذاتی معاملہ سمجھنا ناممکن ہے۔سفیر نے ایک رکن پارلیمان کی جانب سے پیش کیا گیا دعوت نامہ قبول کیا تھا اور یہ کسی عام شہری نے نہیں دیا تھا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مصری عوام کے نمائندہ شخص سے ملاقات کی اہمیت سے آگاہ تھے''۔

ایک رکن پارلیمان کمال احمد نے توفیق عکاشہ کو اسرائیلی سفیر کو اپنے گھر پر بلانے پر گذشتہ اتوار کے روز جوتا دے مارا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام مصری عوام کا ردعمل ہے۔

آئینی ماہر نور فرحت نے اس دعوے کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے کہ عکاشہ کا اسرائیلی سفیر کو اپنے گھر پر مدعو کرنا اور ان کے ساتھ رات کا کھانا کھانا معمول کے تعلقات کی بحالی کی جانب ایک قدم ہے۔انھوں نے لکھا ہے کہ ''میں عکاشہ کی مخالفت کرنے والے پارلیمان کے اراکین سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا وہ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر نظرثانی کرسکتے ہیں جس کی وجہ سے جزیرہ نما سیناء کو غیر فوجی علاقہ بنا دیا گیا تھا اور مصر کو اس علاقے پر مکمل خودمختاری سے محروم کردیا گیا تھا۔انھوں نے مزید لکھا ہے کہ ''مجھے اس پر بھی حیرت ہوگی کہ اگر ارکان پارلیمان اسرائیل کے ساتھ مصر کے تجارتی ،زرعی اور صنعتی شعبوں میں درجنوں سمجھوتوں سے آگاہ ہیں اور کیا وہ ان پر نظرثانی کرسکتے ہیں''۔

صحافی عبداللہ السناوی لکھتے ہیں کہ عکاشہ کا اسرائیل کے بارے میں موقف نیا نہیں ہے۔انھوں نے اسرائیل کے ساتھ اپنے اچھے تعلقات کو کبھی صیغہ راز میں نہیں رکھا ہے۔وہ تین مرتبہ اسرائیل کا دورہ کرچکے ہیں۔تل ابیب میں ان کے بہت سے دوست ہیں۔اس لیے انھیں اس سب کی اب کیوں سزا دی جارہی ہے؟

صحافی اشرف شعبان نے بھی یہی سوال دُہرایا ہے اور کہا ہے کہ عکاشہ کو اس موقف پر کیوں سزا دی جارہی ہے جو مصری حکومت کے موقف سے بالکل بھی مختلف نہیں ہے۔جس روز عکاشہ نے قاہرہ میں اسرائیلی سفیر سے ملاقات کی تھی،عین اسی روز مصری سفیر نے تین سال کے بعد تل ابیب میں اسرائیلی صدر کو اپنی سفارتی اسناد پیش کی تھیں۔تجزیہ کاروں کے بہ قول یہ دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی بحالی کی جانب ایک قدم ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ قاہرہ میں اسرائیلی سفیر نے قبل ازیں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون بڑھانے سے متعلق بیانات جاری کیے ہیں اور کہا ہے کہ ''دونوں ملک صرف سکیورٹی ایشوز پر ہی رکے نہیں رہ سکتے بلکہ وہ دوسرے شعبوں اور خاص طور پر مصری کاروباری شخصیات کے ساتھ تعلقات کو بڑھائیں گے''۔