بطن میں بچے کی خرید وفروخت شرعا حرام ہے: الازھر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

مصرکی شہرہ آفاق دینی درس گاہ جامعہ الازھرنے شمالی افریقا کے مسلمان عرب ملک مراکش کی جانب سے ماں کے پیٹ میں بچے کی خرید وفروخت کے جواز کے فیصلے پر سخت رد عمل ظاہرکرئے کہا ہے کہ ماں کے بطن میں بچے کو خریدنا یا بیچنا شرعا حرام ہے۔ ایسا کرنے والے لوگ گناہ کبیرہ کے مرتکب ہیں اور انہیں اللہ سے توبہ کرنا چاہیے۔

جامعہ الازھرکے جید علماء کرام نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے ماں کے بطن میں بچے کی خرید وفروخت جیسے حساس معاملے پرقرآن و سنت کی روشنی میں تفصیلی گفتگو کی۔ تمام علماء نے اس بات سے اتفاق کیا کہ جب تک ماں کے پیٹ میں بچہ موجود ہے، ماں، باپ یا دونوں کو یہ حق نہیں کہ وہ اس بچے کو کسی تیسرے فرد کے ہاتھ فروخت کرنے کا سودا کریں۔ انہوں نے کہا کہ مراکش میں ماں کے بطن میں بچے کی خرید وفروخت کے جواز پرمبنی فیصلہ قرآن و سنت اور اسلام کی اخلاقی اقدار کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

قرآن سے دلیل دیتے ہوئے علماء ازھرکا کہنا تھا کہ ’’اللہ جل شانہ نے اولاد کو والدین کے لیے احسان قرار دیا اور فرمایا کہ وبالوالدين إحسانا"[اور ہم نے والدین پر احسان کیا]۔ اس کے ساتھ ساتھ پروردگار عالم نے انسان کو اپنی تخلیق کی جانب متوجہ کرنے کے لیے فرمایا کہ "فَلْيَنظُرِ الإنسان مِمَّ خُلِقَ خُلِقَ مِن مَّاءٍ دَافِقٍ يَخْرُجُ مِن بَيْنِ الصلبِ والترائب"[پس انسان غور کرے کہ اسے کیسے پیدا کیا گیا۔ انان کو اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا جو پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے]۔

علماء ازھر نے وضاحت کی صلب سے مراد بچے کے والد کی پیٹھ اور ترائب سے مراد ماں کا سینہ ہے۔ جب تک بچہ رحم میں ہوتا ہے اس کی مالک اس کی ماں ہوتی ہے۔ بچہ پیٹ میں اپنے ماں کے بطن سے غذا حاصل کرتا ہے۔ ماں کاخون بچے کی خوراک بنتا ہے۔ اس لیے کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ماں کے پیٹ میں بچے کو فروخت کرے۔

جامعہ الازھرمیں شریعہ کے استاد پروفیسر ڈاکٹر احمد کریمہ نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ماں کے پیٹ میں بچے کی خریدو فروخت شریعت میں قطعی حرام ہے۔ جب تک بچہ ماں کے بطن میں ہوتا ہے تب تک ماں ہی اس کی مالکن ہوتی ہے۔ ماں کے پیٹ میں بچے کو فروخت کرنا اسلامی نکاح کے اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔

ڈاکٹر کریمہ کا کہنا تھا کہ جو لوگ ماں کے پیٹ میں موجود بچے کی خریدو فروخت کرتے ہیں وہ گناہ کبیرہ کے مرتکب ہیں۔ انہیں اپنے اس جرم پراللہ سے توبہ کرنا چاہیے۔

جامعہ ازھر میں تقابلی فقہ کی خاتون عالمہ ڈاکٹر سعادہ صالح نے کہا کہ جو لوگ ماں کے بطن میں موجود بچے کو فروخت کرنے کے جواز گھڑتے ہیں وہ اسلام کو بدنام کرنے کی گھناؤنی سازش کے مرتکب ہوتے ہیں۔

انہوں نے بچے کی فروخت کی حرمت قطعی کے حق میں درج ذیل نکات سے وضاحت کی۔ یہ کہ ماں کے پیٹ میں موجود نسب کے اعتبار سے بچہ اس شخص کا ہے جو اس کا باپ ہے۔ اس لیے کسی باپ کو اپنے نسب سے انکار کا کوئی جواز نہیں۔ کسی شخص کی جانب سے ماں کے پیٹ میں موجود بچے کو بیچ دینے سے اس کا نسب تبدیل نہیں ہوجاتا۔

ماں کے رحم میں جو بھی ہو اس کے پیدا ہونے تک اس کی مالک اس کی ماں ہی ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ حمل کے عرصے میں ماں چاہے تو مجامعت سے گریز کرسکتی ہے اور شوہر کو بھی اس کا پابند بنا سکتی ہے۔ ایسا اس لیے ضروری ہے کہ ماں کے پیٹ میں بھی ایک انسان ہوتا ہے۔ اس کی موجودگی میں جماع سے عائلی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ بعض اوقات نوبت طلاق تک جا پہنچتی ہے۔

ماں کے رحم میں موجود بچہ اپنی ماں ہی کے خون سے غذا حاصل کرتے ہوئے اپنی جسامت کی تکمیل کرتا ہے۔ ماں کا خون اور گوشت بچے کے جزو بدن بنتا ہے۔ اس لیے کوئی عورت اپنے بچے کوکسی دوسری خاتون کے ہاتھ فروخت کرکے اپنی مامتا ہونے کا حق ساقط نہیں کرسکتی۔ قرآن پاک میں صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ ’’تمہاری مائیں وہ ہیں جنہیوں نے تمہیں دودھ پلایا اور دود شریک بچیاں تمہاری بہنیں ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size