ماہرین مردوں کے لیے مانع حمل ادویہ تیاری کے قریب!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اب تک یہ خیال عام تھا کہ مانع حمل ادویات صرف خواتین کے لیے کارگر ہو سکتی ہیں مگر جدید طبی سائنس نے یہ ثابت کیا ہے کہ مانع حمل ادویات مردوں کے لیے بھی تیار کی جا سکتی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکا کی ’’مینیسوٹا‘‘ یونیورسٹی سے وابستہ محققین نے مردوں کے لیے مانع حمل ادویہ کی تیاری کا کام شروع کیا ہے۔ ماہرین اس میدان میں کافی آگے جا چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مردوں کے لیے مانع حمل ادویات جلد مارکیٹ میں موجود ہوں گی بلکہ وہ ادویات ہر قسم کے مضراثرات[سائیڈ ایفکٹ] سے بھی محفوظ ہوں گی۔ ان ادویات کے انسانی جسم پر کسی قسم کے برے اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔

خیال رہے کہ آج سے نصف صدی قبل ماہرین خواتین کے لیے مانع حمل ادویات تیار کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ مگر یہ خیال ظاہر کیا جاتا تھا کہ مانع حمل ادویات صرف خواتین کے استعمال میں کار گر ہو سکتی ہیں۔

برطانوی اخبار ’’ڈیلی میل‘‘ نے امریکی یونیورسٹی میں مردوں کے لیے مانع حمل ادویات پر تحقیق کرنے والی ٹیم کے سربراہ گونڈا گیروگ کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’وہ مردوں کے لیے جس دوائی کی تیاری کی کوشش کررہے ہیں وہ گولیوں کی شکل میں دسیتاب ہو گی جسے عام کیپسول کی طرح کھایا جا سکے گا اوران کا انسانی صحت پرکوئی مضر اثربھی نہیں پڑے گا۔ چاہے کوئی شخص اسے کئی سال تک متواتر اسے استعمال کیوں نہ کرے وہ اس کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ مانع حمل ادویات کھانے سے مردوں کی جنسی صلاحیت اور قوت باہ پر بھی کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں