.

داعش کے زیر نگین علاقوں میں خواتین کی بولیاں!

عفت ماب خواتین کو جنگجوؤں نے دل لبھانے کا سامان بنا ڈالا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اور عراق کے متعدد علاقوںمیں طاقت کے زور پراپنی خود ساختہ 'خلافت' قائم کرنے والی عالمی دہشت گرد تنظیم دولت اسلامی المعروف’’داعش‘‘ کے ہاتھوں جنگی قیدیوں سے روا رکھے جانے والے ہولناک سلوک کے مظاہر آئے روز سامنے آ رہے ہیں۔ داعش کے انسانیت سوز مظالم اور مجرمانہ ہتھکنڈوں کی طویل فہرست میں شامل شرمندگی کا یہ عنوان بھلایا نہیں جا سکتا کہ جس میں صنف نازک کو لونڈیاں بنا کر ان سے جنگجوؤں کی جنسی ہوس کی تسکین کرائی جاتی ہے ۔

کثیرالاشاعت سعودی روزنامہ’’عکاظ‘‘ نے اپنے ذرائع کے حوالے سے تیار رپورٹ میں بتایا ہے کہ ’’داعش‘‘ سے منحرف ہونے والے جنگجوؤں کا کہنا ہےکہ داعشی مملکت میں غیرمسلم خواتین کو کھلے عام لونڈیاں بنا کرانہیں نہ صرف جنسی ہوس کا نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ ان کی خریدو فروخت بھی نام نہاد اسلام کے نام لیواؤں کا مرغوب مشغلہ بن چکا ہے۔منحرف ہونے والے جنگجو بتاتے ہیں کہ انتہا پسند تنظیم کے اہلکاریزیدی قبیلے اور دوسری غیر مسلم اقوام کی یرغمالی خواتین کو ایک دوسرے کے ہاتھ فروخت کرتے ہیں۔ ایک نوخیز لڑکی جسے داعشی باندی بنا کر فروخت کرتے ہیں کی قیمت 800 سے 1000 ڈالر لگائی جاتی ہے۔ یوں بزعم خود اسلام کے ٹھیکیدار صنف نازک کو بھرے بازار میں نیلام کرتے ہیں۔

صرف یہی نہیں کہ خواتین کو سیکڑوں ڈالرکی قیمت کے عوض خریدا اور بیچا جاتا ہے بلکہ خریداری کے خواہش مند جنگجوؤں کو اپنی پسندیدہ لونڈی خرید کرنے سے قبل مفت میں اس کے ساتھ دل بہلائی کا بھی موقع مہیا کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ سب کچھ اسلام اور اسلام کی شرعی تعلیمات کے لبادے میں کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں پوری دنیا میں اسلام بدنام ہوا ہے۔