.

سونے سے ملمع خلیجی گاڑیاں، لندن کی روشنیاں بھی خیرہ!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ان دنوں لندن کے لوگ ایک خلیجی ارب پتی کے بارے میں زیادہ گفتگو کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جس کی گاڑیوں کا چرچا محفلوں، کیفے اور مے خانوں میں عام ہو چکا ہے۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ یہ گاڑیاں سونے سے ملمع شدہ ہیں اور ان پر خلیجی نمبر پلیٹس نصب ہیں۔ گاڑیوں کا ارب پتی مالک ان کو ذاتی طیارے پر اپنے خلیجی ملک سے لندن لے کر آیا ہے تاکہ برطانیہ میں چھٹیاں گزارنے کے دوران انہیں استعمال کرسکے۔

برطانوی اخبار "ڈیلی میل" نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ یہ صاحب ثروت خلیجی سیاح گزشتہ ہفتے کے اختتام پر چھٹیاں گزارنے گاڑیوں کے ایک بیڑے کے ساتھ لندن پہنچا۔ اس بیڑے میں سب سے کم قیمت گاڑی کی مالیت بھی دس لاکھ پاؤنڈ (15 لاکھ ڈالر) سے زیادہ ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ بیڑے میں شامل تمام گاڑیاں سونے سے ملمع شدہ ہیں۔

اخبار کے مطابق اس بیڑے میں ایک مرسڈیز(G63) ماڈل کی گاڑی بھی شامل ہے جس کی قیمت 3 لاکھ 70 ہزار پاؤنڈ سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ دیگر گاڑیوں میں ایک "بینٹلے" لگژری کار جس کی مالیت 2 لاکھ 20 ہزار پاؤنڈ سے زیادہ، ایک رولز رائس جس کی قیمت 3.5 لاکھ پاؤنڈ اور ایک

"لیمبورگینی" جس کی قیمت 3.5 لاکھ پاؤنڈ ہے، یہ سب شامل ہیں۔ واضح رہے کہ مذکورہ قیمتیں اس صورت میں ہیں جب کہ گاڑی پر سونے کی ملمع کاری نہ کی گئی ہو۔

برطانوی اخبار کا کہنا ہے کہ سونے سے ملمع شدہ گاڑی کی لاگت معلوم نہیں ہے۔ بالخصوص اس لیے کہ یہ ملمع کاری میں استعمال کی جانے والی سونے کی مقدار اور حجم پر منحصر ہے۔

یاد رہے کہ تعطیلات کے موسم میں لندن کی سڑکوں پر رواں دواں خلیجی لگژری گاڑیاں ہر سال برطانیہ کے مقامی میڈیا کی خصوصی توجہ کا مرکز بن جاتی ہیں۔ تاہم یہ پہلی مرتبہ ہے کہ جب خلیجی سیاح اور صاحب ثروت افراد کی سونے سے ملمع گاڑیاں نمودار ہوئی ہیں۔

یہ خلیجی سیاح اپنی گاڑیوں کو فضائی کارگو کے ذریعے بھیجتے ہیں اور بعض لوگ اس مقصد کے لیے طیارے کرائے پر حاصل کرتے ہیں۔ لندن میں چھٹیاں گزارنے کے دوران ان گاڑیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ بعض خلیجی سیاحوں کا کہنا ہے کہ وہ نمائش یا شاہ خرچیوں کے طور پر ایسا نہیں کرتے بلکہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ برطانیہ میں گاڑیوں کی ڈرائیونگ سیٹ دائیں جانب ہوتی ہے جب کہ اپنے ملکوں میں وہ اس کے برخلاف عادی ہوتے ہیں لہذا وہ اپنی گاڑیاں ساتھ لے کر آتے ہیں۔