.

فوجی گاڑی کا خراب دروازہ کیسے صدر پوتین کے ارادوں میں حائل ہو گیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا میں فوجی اسلحے اور سازوسامان کی تیاری اور تجارت میں امریکا اور روس ایک دوسرے کے حریف ہیں مگر امریکا کو فوجی سازوسامان اور اسلحے کی جدّت اور ٹیکنالوجی کے معاملے میں روس پر برتری حاصل ہے۔ امریکی اسلحہ اپنی جدت ،نفاست اور استعمال میں ایک منفرد پہچان رکھتا ہے مگر روسی اسلحہ اور فوجی سازوسامان اس معاملے میں کہیں پیچھے ہے۔

اس کا مظہر روس میں ہونے والی فوجی اسلحے اور گاڑیوں کی ایک حالیہ نمائش میں پیش آنے والا ناخوشگوار واقعہ ہے اور ایک مرتبہ پھر روس کا فوجی اسلحے وسازوسامان میں بالادستی ثابت کرنے کا خواب دھرے کا دھرا رہا گیا ہے۔

ہوا یوں کہ روسی صدر ولادی میر پوتین گذشتہ جمعرات کو سوچی میں فوجی گاڑیوں کا معائنہ کررہے تھے۔اس دوران جب وہ ایک جیپ کا ڈرائیور کی ساتھ والی نشست کا دروازہ کھولنے لگے تو اس کے دستے نے ہلنے جلنے سے انکار کردیا۔

ایتھلیٹ پوتین اپنی زور آزمائی کرچکے اور دروازہ کھلا نہیں بلکہ ان سے دستہ ہلا تک نہیں تو انھیں گاڑیاں اور فوجی آلات دکھانے والے لیفٹیننٹ جنرل الیگزینڈر شیوچنکو آگے بڑھے اور ان کی مدد کو آئے جب انھوں نے دروازے کے دستے کو اپنے آہنی ہاتھوں سے پکڑا تو وہ ان کے ہاتھوں میں آرہا۔

اس پر ولادی میر پوتین زیرلب مسکرائے اور جنرل شیوچنکو نے اپنی خفت پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے جلدی جلدی دستے کو ایک کھلی کھڑکی کے ذریعے جیپ کے اندر رکھ دیا مگر تب تک جوہونا تھا،ہوچکا۔صدر پوتین پھر کسی اور گاڑی کا دروازہ کھولنے اور اس کے اندر جھانکنے سے باز آگئے۔

اس کے بعد وہ سوچی میں اپنی قیام گاہ کے باہر نمائش کے لیے کھڑی کی گئی گاڑیوں کو باہر باہر سے ہی دیکھتے ہوئے آگے بڑھتے چلے گئے۔ اس نمائش میں روسی ساختہ یو اے زیڈ پیٹریاٹ پک اپ ٹرک بھی شامل تھا جو بھاری مشین گنوں سے لیس تھا۔اس واقعے کی ویڈیو روس کی ایک نیوز سائٹ لائف نیوز پر پوسٹ کی گئی ہے۔

اس واقعے سے روس کی آٹو انڈسٹری سے وابستہ ناخوشگوار یادیں ایک مرتبہ پھر تازہ ہوگئی ہیں کیونکہ روسی ساختہ گاڑیاں اپنی بناوٹ اور کارکردگی کے اعتبار سے بالکل گئی گزری اور کم تر معیار کی ہوتی ہیں۔اگرچہ روسی تیار کنندگان کا یہ دعویٰ ہے کہ ان کی گاڑیاں کہیں بہتر ہوچکی ہیں لیکن خریداروں کا سالہا سال سے یہ تجربہ رہا ہے کہ روسی ساختہ نئی کاروں کا رنگ ورغن بالکل بھدا ہوتا ہے،ان کے انجن ٹھیک طرح سے کام نہیں کرتے اور بروقت اسٹارٹ نہیں ہوتے،ان کا اندرونی حصہ بالکل نامناسب اندازہ اور کم لاگت میں تیار ہوتا ہے اور بالعموم اس کے جلد حصے بخرے ہوجاتے ہیں۔

اس کا تجربہ خود صدر ولادی میر پوتین کو ماضی میں ہوچکا ہے حالانکہ وہ روس کی آٹو انڈسٹری کے فروغ کے لیے کوشاں رہے ہیں۔یہ سنہ 2011ء کی بات ہے۔وہ ایک نئی لڈا گرانٹا سیلون کار میں سوار ہوئے اور اس کے انجن کو اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی مگر وہ پانچ مرتبہ طبع آزمائی کے باوجود اس میں ناکام رہے تھے۔اس موقع پر موجود رپورٹروں کا کہنا تھا کہ انھیں کار کا بوٹ کھولنے کے لیے کارساز ادارے کے منتظمین کی مدد لینا پڑی تھی۔

واضح رہے کہ روسی صدر نے گذشتہ چند روز سوچی میں گزارے ہیں اور وہاں روس کی اسلحے کی صنعت سے وابستہ اعلیٰ عہدے داروں سے ملاقاتیں کی ہیں۔روس کی شام میں فوجی مداخلت کے بعد سے دنیا میں اس کے فوجی سازوسامان ،اسلحے اور ہتھیاروں کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے اور ایران نے عالمی اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے بعد اس سے میزائل دفاعی نظام اور دوسرا فوجی سامان اور اسلحہ خرید کیا ہے۔