ڈیسمنڈ ٹوٹو کی مروان برغوثی کو نوبل امن انعام دینے کی سفارش
جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے آرچ بشپ ڈیسمنڈ ٹوٹو نے اسرائیلی جیل میں قید فلسطینی سیاست دان مروان برغوثی کو اس سال کے نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا ہے۔
ڈیسمنڈ ٹوٹو نے ناروے کی نوبل کمیٹی کو سوموار کے روز ایک خط بھیجا ہے۔اس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ''مروان برغوثی فلسطینی عوام اور آزادی کے لیے ان کی جدوجہد کی ایک علامت ہیں''۔
مروان برغوثی گذشتہ کئی برسوں سے اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں۔ وہ فلسطینی پارلیمان کے منتخب رکن تھے۔انھیں قابض اسرائیلی فوجیوں نے 2002ء میں اغوا کے بعد جیل میں ڈال دیا تھا۔ان کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے مخالف ہیں اور وہ اس کی نا انصافیوں اور چیرہ دستیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔
ڈیسمنڈ ٹوٹو نے اپنے خط میں برغوثی کی امن کے قیام کے لیے وکالت کا تذکرہ کیا ہے اور لکھا ہے کہ وہ برسوں کی قید تنہائی کے باوجود امن کی بات کررہے ہیں۔اگر نوبل امن کمیٹی انھیں نوبل امن انعام سے نوازتی ہے تو اس سے ایک مرتبہ پھر فلسطینی مسئلہ اجاگر ہوگا۔
واضح رہے کہ ٹوٹو کیپ ٹاؤن کے پہلے سیاہ فام آرچ بشپ ہیں۔وہ برغوثی اور تمام فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے لیے مہم چلانے والی اعلیٰ سطح کی بین الاقوامی کمیٹی کے بھی رکن ہیں۔
انھوں نے اپنے خط میں مزید لکھا ہے کہ ''اسرائیل نے 1967ء کے بعد سے ساڑھے آٹھ لاکھ فلسطینیوں کو گرفتار کیا ہے۔معاصر تاریخ میں اس طرح بڑے پیمانے پر پکڑ دھکڑ کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔اسرائیل نے فلسطینی لیڈروں ،مزاحمت کاروں ،ماہرین تعلیم ،صحافیوں ،بچوں ،خواتین ،ضعیف العمر افراد اور انسانی حقوق کا دفاع کرنے والوں کو پکڑ کر جیلوں میں ڈالا ہے۔وہ آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والی ایک پوری قوم کے عزم کو توڑنا چاہتا ہے''۔
انھوں نے مزید لکھا ہے کہ ''آج اسرائیلی جیلوں میں سات ہزار فلسطینی قید ہیں اور یہ ایک قوم کو قید کرنے اور قبضے اور جبرواستبداد کے ذریعے اس کے حق خودارادیت سے انکار کے بھی مترادف ہے۔فلسطینی قیدیوں کی رہائی فلسطینی عوام کی آزادی کے لیے ایک پیشگی ناگزیر ضرورت ہے''۔