"کام کے لچک دار اوقات"... ریاض میں نقل و حرکت کی کارکردگی بڑھانے کے لیے پیشہ ورانہ اقدام

ریاض کے 6 اہم مقامات پر 50 سرکاری اداروں کے ملازمین کے لیے زیادہ لچک کی فراہمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سعودی عرب کے دارالحکومت میں ٹریفک کی نقل و حرکت بہتر بنانے، ٹریفک کی روانی میں مدد دینے اور معیار زندگی کو بلند کرنے کی کوششوں کے حصے کے طور پر ریاض شہر کے چھ علاقوں میں کام کے لچک دار اوقات کا اقدام شروع کر دیا گیا ہے۔

انسانی وسائل کے ایک سعودی ماہر کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جس میں 6 ورک سائٹس پر 50 سے زائد ادارے شامل ہیں اور جس میں لچک دار اوقات کی ونڈو کو چار گھنٹے تک بڑھایا گیا ہے، کام کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے جدید ثقافتی رجحان کا عکاس ہے۔ یہ اقدام سرکاری اداروں میں ملازمین کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ریاض میں ٹریفک کے رش کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے معاون حل فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "یہ اقدام محض کام کے اوقات کی تنظیم نہیں ہے، بلکہ یہ براہ راست جدید کام کے فلسفے کو چھوتا ہے۔"

روئل کمیشن فار ریاض سٹی نے وزارت انسانی وسائل و سماجی ترقی کے ساتھ شراکت میں ریاض کے چھ اہم کاروباری مراکز میں لچک دار کام کے اوقات کے اقدام کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ ان میں کنگ عبداللہ فنانشل ڈسٹرکٹ (کافڈ)، ڈیجیٹل سٹی، سفارتی علاقہ، لیسن ویلی، غرناطہ بزنس اور روشن فرنٹ شامل ہیں۔ یہ اقدام حاضری اور روانگی کے اوقات کو مختلف وقفوں میں تقسیم کرنے کی سہولت دیتا ہے، جس سے رش کے اوقات میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

اسی تناظر میں انسانی وسائل کے ماہر علی آل عید نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لچک دار کام کے اوقات کا اقدام ان مراکز میں کام کرنے والے ملازمین کو کام اور زندگی کے درمیان زیادہ پائیدار توازن قائم کرکے پیشہ ورانہ فلاح و بہبود کو فروغ دینے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ملازمین کی مشغولیت کی شرح بڑھاتا ہے اور کام کی زیادتی سے تھکن کی شرح کو کم کرتا ہے، خاص طور پر جب یہ لچک صحت مند انتظامی طریقوں کے ساتھ مربوط ہو۔

توقع ہے کہ یہ اقدام ملازمین کو حاضری کے اوقات منتخب کرنے میں زیادہ لچک فراہم کرے گا، جس کے مثبت اثرات کام کے تجربے پر مرتب ہوں گے، نقل و حرکت کی کارکردگی بڑھے گی اور ایک زیادہ مؤثر اور پائیدار شہری ماحول کی ترقی کے لیے جاری کوششوں کو تقویت ملے گی۔

سعودی ماہر علی آل عید کے نزدیک لچک دار کام کے اوقات باصلاحیت افراد کو برقرار رکھنے اور انہیں راغب کرنے کے مواقع پیدا کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں کارکردگی اور پیداواری صلاحیت میں بہتری آتی ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس کا اثر اقدام کے معیار اور لچک دار طریقوں کے کارپوریٹ کلچر سے مطابقت پر منحصر ہے، تاکہ ملازمین کو با اختیار بنانے اور تنظیمی اہداف کے حصول کے درمیان توازن کو یقینی بنایا جا سکے۔

دریں اثنا یہ اقدام ان انتظامی ملازمتوں پر لاگو ہوگا جن کے اوقات مقرر ہیں، جبکہ ان شعبوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے جن کے کام کی نوعیت کے لیے مسلسل آپریشن اور خدمات کی فراہمی ضروری ہے، جیسے کہ صحت، عام تعلیم، فیلڈ اور آپریشنل ملازمتیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں