"کام کے لچک دار اوقات"... ریاض میں نقل و حرکت کی کارکردگی بڑھانے کے لیے پیشہ ورانہ اقدام
ریاض کے 6 اہم مقامات پر 50 سرکاری اداروں کے ملازمین کے لیے زیادہ لچک کی فراہمی
سعودی عرب کے دارالحکومت میں ٹریفک کی نقل و حرکت بہتر بنانے، ٹریفک کی روانی میں مدد دینے اور معیار زندگی کو بلند کرنے کی کوششوں کے حصے کے طور پر ریاض شہر کے چھ علاقوں میں کام کے لچک دار اوقات کا اقدام شروع کر دیا گیا ہے۔
انسانی وسائل کے ایک سعودی ماہر کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جس میں 6 ورک سائٹس پر 50 سے زائد ادارے شامل ہیں اور جس میں لچک دار اوقات کی ونڈو کو چار گھنٹے تک بڑھایا گیا ہے، کام کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے جدید ثقافتی رجحان کا عکاس ہے۔ یہ اقدام سرکاری اداروں میں ملازمین کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ریاض میں ٹریفک کے رش کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے معاون حل فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "یہ اقدام محض کام کے اوقات کی تنظیم نہیں ہے، بلکہ یہ براہ راست جدید کام کے فلسفے کو چھوتا ہے۔"
#نشرة_الرابعة | مراسل العربية @H_alsufayan من أمام أحد المواقع التي شملتها مبادرة ساعات العمل المرنة يرصد كيف ستؤثر المبادرة على الحركة المرورية في الرياض. pic.twitter.com/YTFwvDugAO
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) June 3, 2026
روئل کمیشن فار ریاض سٹی نے وزارت انسانی وسائل و سماجی ترقی کے ساتھ شراکت میں ریاض کے چھ اہم کاروباری مراکز میں لچک دار کام کے اوقات کے اقدام کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ ان میں کنگ عبداللہ فنانشل ڈسٹرکٹ (کافڈ)، ڈیجیٹل سٹی، سفارتی علاقہ، لیسن ویلی، غرناطہ بزنس اور روشن فرنٹ شامل ہیں۔ یہ اقدام حاضری اور روانگی کے اوقات کو مختلف وقفوں میں تقسیم کرنے کی سہولت دیتا ہے، جس سے رش کے اوقات میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
اسی تناظر میں انسانی وسائل کے ماہر علی آل عید نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لچک دار کام کے اوقات کا اقدام ان مراکز میں کام کرنے والے ملازمین کو کام اور زندگی کے درمیان زیادہ پائیدار توازن قائم کرکے پیشہ ورانہ فلاح و بہبود کو فروغ دینے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ملازمین کی مشغولیت کی شرح بڑھاتا ہے اور کام کی زیادتی سے تھکن کی شرح کو کم کرتا ہے، خاص طور پر جب یہ لچک صحت مند انتظامی طریقوں کے ساتھ مربوط ہو۔
توقع ہے کہ یہ اقدام ملازمین کو حاضری کے اوقات منتخب کرنے میں زیادہ لچک فراہم کرے گا، جس کے مثبت اثرات کام کے تجربے پر مرتب ہوں گے، نقل و حرکت کی کارکردگی بڑھے گی اور ایک زیادہ مؤثر اور پائیدار شہری ماحول کی ترقی کے لیے جاری کوششوں کو تقویت ملے گی۔
سألنا الناس في #الرياض عن رأيهم بمبادرة ساعات العمل المرنة 🎤
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) June 3, 2026
عبر:@Rayankhurmi pic.twitter.com/lDnV4JynUI
سعودی ماہر علی آل عید کے نزدیک لچک دار کام کے اوقات باصلاحیت افراد کو برقرار رکھنے اور انہیں راغب کرنے کے مواقع پیدا کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں کارکردگی اور پیداواری صلاحیت میں بہتری آتی ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس کا اثر اقدام کے معیار اور لچک دار طریقوں کے کارپوریٹ کلچر سے مطابقت پر منحصر ہے، تاکہ ملازمین کو با اختیار بنانے اور تنظیمی اہداف کے حصول کے درمیان توازن کو یقینی بنایا جا سکے۔
دریں اثنا یہ اقدام ان انتظامی ملازمتوں پر لاگو ہوگا جن کے اوقات مقرر ہیں، جبکہ ان شعبوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے جن کے کام کی نوعیت کے لیے مسلسل آپریشن اور خدمات کی فراہمی ضروری ہے، جیسے کہ صحت، عام تعلیم، فیلڈ اور آپریشنل ملازمتیں۔
-
سعودی عرب میں گرد آلود طوفانوں میں 62% تک کمی واقع ہوئی ہے
گرد آلود گھنٹوں کا دورانیہ دو دہائیوں میں اپنی نچلی ترین سطح پر آ گیا ہے
مشرق وسطی -
حج 2026 کا اختتام، سعودی عرب نے عازمین کی واپس روانگی شروع کر دی
حجاج کی واپسی کے لیے بندرگاہوں، ایئرپورٹس پر سعودی عملہ متحرک
مشرق وسطی -
بین الاقوامی جوہری ادارے کے سربراہ کی سعودی عرب آمد ، وزیر خارجہ سے ملاقات
بین الاقوامی جوہری ادارے ' انٹر نیشنل اٹامک انرجی ایجنسی 'کے سربراہ رافیل گروسی نے ...
مشرق وسطی