شامی عوام کی لاشوں پر.. داریا میں بشار کی "عید کی نماز"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شامی حکومت کے زیر انتظام سرکاری میڈیا کے مطابق صدر بشار الاسد نے "عید الاضحیٰ" کی نماز دارالحکومت دمشق کے نزدیک واقع شہر داریا کی ایک مسجد میں ادا کی۔

داریا شہر باقی ماندہ مکینوں اور جنگجوؤں کے نکلنے کے بعد آبادی سے خالی ہو گیا تھا۔ یہ انخلاء شہر میں اپوزیشن گروپوں اور شامی حکومت کی فوج کے درمیان طے شدہ معاہدے کے بعد عمل میں آیا۔ معاہدے کے تحت شہر سے پانچ ہزار افراد کو نکلنا تھا جہاں جنگ سے پہلے قریبا ڈھائی لاکھ افراد سکونت پذیر تھے۔

معاہدے میں ایک ہزار جنگجوؤں کا اپنے چھوٹے ہتھیاروں سمیت ملک کے شمال کی جانب انخلاء بھی شامل تھا جہاں اپوزیشن کا کنٹرول ہے۔ داریا کے مکینوں اور جنگجوؤں کے نکلنے کا دوسرا مرحلہ ختم ہونے کے بعد بشار الاسد کی فوج جن کو ملیشیاؤں کی معاونت حاصل تھی شہر میں داخل ہوگئی۔

ادھر بشار حکومت کے ہمنوا میڈیا ذرائع نے خود انکشاف کیا ہے کہ سرکاری فوج کے اہل کاروں اور مسلح ملیشیاؤں نے داریا میں چوری اور لوٹ مار کی کارروائیاں کی ہیں۔ حکومت نواز ایک نیوز نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ سرکاری فوج کی وردی میں چوری اور لوٹ مار کرنے والے درحقیقت فوجی اہل کار نہیں بلکہ مسلح افراد ہیں۔

سرکاری فوج نے 2012 سے داریا میں اپوزیشن فورسز اور شہریوں کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ اس دوران غذائی سامان پہنچنے سے روک دیا گیا تھا اور علاقے کو مسلسل بم باری کا نشانہ بنایا گیا جو بشار الاسد کے صدر مقام دمشق سے صرف سات کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔

یاد رہے کہ داریا ان اولین علاقوں میں سے ہے جہاں بشار الاسد کی حکومت کے خلاف پرامن احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ اس شہر پر سرکاری فوج کی جانب سے دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی پے درپے کوششوں کے خلاف سخت مزاحمت کی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں