.

سعودی عرب کے عرضہ رقص کی پانچ باتیں ،جو شاید آپ نہیں جانتے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے قومی میلے الجنادریہ میں منگل کے روز عام سعودیوں کے علاوہ ارباب اقتدار اور زعماء نے بھی روایتی نجدی رقص عرضہ میں حصہ لیا اور اپنے فن کا مظاہرہ کیا ہے۔

اس رقص کا آغاز ایک مصرع کے ساتھ ہوتا ہے۔پھر اس کو پس منظر میں ڈھول کی تھاپ پر دُہرایا جاتا ہے اور تلواروں کو اس قومی تقریب کے حصے کے طور پر لہرایا جاتا ہے۔ اس دوران رقاص اپنی خوشی اور فخر کا اظہار کرتے ہیں اور خادم الحرمین الشریفین کے ساتھ اپنی وفاداری کا اظہار کرتے ہیں۔

ماضی میں سعودی عرضہ رقص کا جنگی فتوحات سے تعلق رہا ہے لیکن آج کل اس رقص کا خصوصی مواقع اور تقریبات پر مظاہرہ کیا جاتا ہے اور کم وبیش تمام صوبوں کے مکین سعودی اس فن کا مظاہرہ کرتے ہیں اور یہ قومی لوک رقص بن چکا ہے۔

نجدی عرضہ رقص سے سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود کی جنگوں اور ان میں ان کی فتوحات کی یاد تازہ کی جاتی ہے۔اس رقص نے لکھاریوں اور مؤرخین کو بھی اپنی جانب راغب کیا ہے کیونکہ اس میں سعودی مملکت کی قیادت میں جنگوں اور لڑائیوں کی تاریخ پنہاں ہے۔

ماضی میں اعلانِ جنگ کے لیے ڈھول پیٹے جاتے تھے،تلواریں لہرائی جاتی تھیں اور جنگ کی رغبت دلانے والی شاعری پڑھی جاتی تھی۔ یوں جانیے کہ عرضہ رقص کی یہی نمایاں خصوصیات ہیں۔