76 سالہ صحت مند مصری سے ملیے ، جو پانی نہیں پیتا
58 سال سے گنے کا رس پینے والے مقامی مئیر کو معالج کے پاس جانے کی ضرورت پیش نہیں آئی
آپ مانیں یا نہ مانیں مصر میں ایک چھہتر سالہ شخص نے گذشتہ اٹھاون سال سے پانی نہیں پیا اور نہ چائے یا کافی کو مُنھ لگایا ہے مگر وہ پھر بھی زندہ وسلامت ہے،ہشاش بشاش زندگی گزار رہا ہے،صحت مند ہے اور اس کو کبھی معالج کے پاس جانے کی ضرورت بھی پیش نہیں آئی ہے۔
ان صاحب کا نام علی جنیش ہے۔وہ مصر کے شمال میں واقع ایک گورنری کفرالشیخ میں ایک گاؤں کے میئر ہیں۔ وہ پانی کے علاوہ پانی ملی سبزیاں آلو وغیرہ کے استعمال سے گریز کرتے چلے آرہے ہیں مگر اس کے باوجود انھیں کبھی کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں جانا پڑا ہے۔
علی جنیش نے العربیہ کو اپنی صحت کا راز بتاتے ہوئے مزاحیہ انداز میں کہا کہ ڈاکٹر ان سے کوئی رقم اینٹھ نہیں سکے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ انھوں نے پانی کا استعمال ترک کرنے کی مشق کا آغاز 1959ء میں اپنی شادی کے تین ماہ کے بعد کیا تھا۔اس وقت انھیں بہت زیادہ پیاس لگتی تھی اور وہ غٹاغٹ کئی گلاس پی جاتے تھے۔وہ ایک ڈاکٹر کے پاس گئے اور اس کو اس مسئلے کے بارے میں آگاہ کیا تو اس نے بتایا کہ پانی نے ان کے معدے میں شدید جلن پیدا کردی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اس ڈاکٹر نے یہ علاج تجویز کیا کہ جب تک میرا معدہ ٹھیک نہیں ہوجاتا میں مختصر وقت کے لیے پانی پینا چھوڑ دوں۔پھر جب میں نے پانی پینے کی کوشش کی تو پھر میرے معدے میں جلن شروع ہوگئی۔اس دوران میرے والد کے دوست ایک کاشت کار نے یہ تجویز کیا کہ میں گنے کا رس پینا شروع کردوں لیکن اس سے کچھ افاقہ نہیں ہوا تو انھوں پھر سرخ گنے کا رس پینے کا مشورہ دیا۔اس سے افاقہ ہوا اور میں نے خود کو بہتر محسوس کیا۔
جنیش علی نے بتایا کہ اس کے بعد میں نے پانی کے بجائے سرخ گنے کا رس پینا شروع کردیا تھا لیکن ہمارے یہاں ایک مسئلہ یہ تھا کہ گاؤں شہر سے کئی کلومیٹر دور واقع تھا جہاں گنے کا رس بیچنے والے موجود تھے۔اس وقت میرے والد گاؤں کے میئر تھے اور انھوں نے میرے لیے گنے کا رس نکالنے والی مشین میرے لیے خرید کرنے کا فیصلہ کیا اور ایک چھوٹا سا قطعہ اراضی سرخ گنے کی کاشت کے لیے مختص کردیا۔
ان کا کہنا تھا کہ میں مصر میں سرخ گنے کی کاشت ختم ہوجانے کے بعد بھی اس کا رس پی رہا ہوں۔اس کے لیے پڑوس میں واقع ایک شہر کے کسان سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ اس کی کاشت جاری رکھے جبکہ میرے داماد نے چین سے جدید جوسر مشین منگوا کر دی ہے۔پانی کو استعمال نہ کرنے کے باجود میری صحت بہتر ہے اور 1960ء کے بعد کسی ڈاکٹر کو دکھانے کی ضرورت پیش آئی ہے اور نہ ڈھلتی عمر کے باوجود کبھی کوئی بیماری لگی ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ جب وہ حج کے لیے سعودی عرب گئے تھے تو وہاں بھی گنے کاٹ کر اپنے ساتھ لے گئے تھے اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں ان کا رس استعمال کرتے رہے تھے۔
علی جنیش کا کہنا تھا کہ وہ معمول کی زندگی گزار رہے ہیں اور ان کے گردوں میں کبھی کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ان کے خیال میں وہ خود سے چھوٹی عمر کے لوگوں سے بھی زیادہ صحت مند ہیں۔تاہم العربیہ ان کے طبی دعووں کی تصدیق نہیں کرسکتا ہے اور نہ وہ اس طرح کے طرز زندگی کی وکالت کررہا ہے۔