یقین جانیے.. یہ مصنوعات پٹرول سے ماخوذ ہیں
ایک ویب سائٹ رپورٹ کے مطابق 159 لیٹر خام پٹرول سے حاصل ہونے والے صاف پٹرول کا حجم صرف 73.44 لیٹر ہوتا ہے یعنی کہ فی بیرل خام پٹرول سے نکالے جانے والے صاف پٹرول کی شرح 46% ہے۔ بقیہ مقدار کو دیگر صنعتوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ لہذا یہاں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ بقیہ مقدار کن چیزوں میں استعمال میں لائی جاتی ہے؟
پٹرولیم مصنوعات کی تاریخ کا آغاز 1872 سے ہوتا ہے جب روبرٹ چیسبرگ نامی ایک کیمیا داں نے تیل کے کنوئیں میں رہ جانے والی باقیات سے موم کا لیپ نکالنے کا طریقہ جان لیا۔ آج اسی لیپ کا نام ویزلین ہے۔
ہم میں سے بہت سے لوگ زمین سے نکلے ایندھن کا استعمال کم کر کے تیل کی طلب میں کمی لانے کی سنجیدہ کوشش کرتے ہیں تاہم مشکل یہ ہے کہ تیل سے ماخوذ مصنوعات محض نقل و حمل سے کہیں زیادہ شعبوں میں سرائیت کر چکی ہیں۔
مثلا پٹرول بھی تیل صاف کرنے کے عمل سے حاصل ہونے والی ثانوی مصنوعات میں سے ہے اور یہ زمین پر ماحولیات کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والے کاموں میں سے ایک کام کا نتیجہ ہوتا ہے !
بعض تحقیقی مطالعوں کے مطابق پٹرولیم مصنوعات سرطان کا باعث بن سکتی ہیں لہذا ان کو استعمال نہیں کیا جانا چاہیے !
کاسمیٹک کے سامان کے حوالے سے تشویش رکھنے والی خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنے استعمال میں موجود اشیاء کے پیک پر اس بات کی یقین دہانی کرلیں کہ آیا درج ذیل مواد میں سے کوئی ان مصنوعات میں تو موجود نہیں :
• معدنی تیل
• پٹرولوٹم (پٹرولیم جیلی میں استعمال ہونے والا مادہ)
• پیرافِن
• پیرافِن آئل
اب ہم آپ کو 10 مصنوعات کے نام بتاتے ہیں جن کے بارے میں آپ یقین نہیں کر سکیں گے کہ یہ پٹرول سے ماخود ہوتی ہیں :
نرم اور لچک دار چیونگ گم میں موم ، پٹرول ، فیٹی ایسڈ ، گلِسرین ، لینولِن اور دیگر اجزاء شامل ہوتے ہیں.. اور ہم ان تمام عناصر کو اپنے دانتوں سے چباتے ہیں۔
نائیلون سے بنے اندرونی تنگ موزوں اور بیرونی لمبے موزوں کے اندر جو ٹیکسٹائل فائبر استعمال ہوتا ہے وہ درحقیقت پٹرول سے ماخوذ مادہ تھرمو پلاسٹک ہے۔
کاسمیٹک کی بہت سے اشیاء مثلا لپ اسٹک اور مائع مرکبات تیل سے ماخوذ مصنوعات سے تیار کی جاتی ہیں۔ پیرافِن کا موم لپ اسٹک کو اس کی نرم شکل برقرار رکھنے میں معاون ہوتا ہے۔
عام طور پر ٹیفلون کی تہہ چڑھے برتن جن کو بہت زیادہ پسند کیا جاتا ہے وہ دراصل ایک کیمیائی مواد سے بنے ہوتے ہیں جس کا نام Perfluorocarbons ہے اور یہ پٹرول سے حاصل کیا جاتا ہے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ یہ مواد سرطان کا باعث ہے۔ اس کے متبادل کے طور پر ڈَھلے ہوئے لوہے کے برتن استعمال کریں !
رنگ کی پنسلیں پیرافِن کے موم سے تیار کی جاتی ہیں جو کہ براہ راست پٹرول سے حاصل شدہ مواد ہے۔ پیرافِن موم کو موم بتاں تیار کرنے میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے سیب کو پالش کیا جاتا ہے اور چاکلیٹ کو چمک دار بنایا جاتا ہے !
سلوٹیں نہ پڑنے والے زیادہ تر کپڑے پولیسٹر سے تیار کیے جاتے ہیں جو کہ درحقیقت آئل ریفائنری سے حاصل ہونے والا مواد ہے۔ پولیسٹر کپڑے کو آسانی سے ریسائیکل کیا جا سکتا ہے تاکہ اس سے نیا اعلی کوالٹی کا پولیسٹر ریشہ تیار کیا جا سکے۔
ایسپرین سب سے زیادہ پھیلی ہوئی دوا کے طور پر جانی جاتی ہے جس کا استعمال وسیع پیمانے پر کیا جاتا ہے ! آج ایسپرین کی زیادہ تر تیاری پٹرول کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ یہ ایک ہائیڈروکاربونک مادہ ہے جو عموما پٹرول سے حاصل کیا جاتا ہے۔
گولف کی گیند ، باسکٹ بال اور ٹیبل ٹینس کی گیند یہ سب کسی نہ کسی صورت پٹرول سے حاصل شدہ مواد کی مخلتف صورتوں سے تیار کی جاتی ہیں۔
دانتوں کی نئی بتیسی کو جس مواد سے رنگا جاتا ہے اس کا انحصار کاربن پر ہوتا ہے اور اس کی تیاری میں کوئلہ اور پٹرولیم ذرائع کا استعمال ہوتا ہے۔
10 ۔ ٹوتھ پیسٹ
ٹوتھ پیسٹ کی تیاری میں کسی بھی دوسری چیز سے زیادہ تیل سے ماخود اجزاء کا استعمال کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر " Poloxamer 407" مادہ تیل سے ماخوذ اجزاء کو پانی میں گھل جانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔