.

سعودی خاتون کی جانب سے ملازمہ کی شادی کی کفالت

مالکن کے ملازمہ سے حسن سلوک کی سوشل میڈیا پر ستائش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں کفیل خواتین و حضرات اور ان کے ملازمین کے درمیان عدم تعاون کی شکایات کے جلو میں ایک اچھی خبر بھی سامنے آئی ہے۔ وہ یہ کہ سعودی عرب کی ایک خاتون نے اپنی انڈونیشیائی ملازمہ کی شادی کے تمام اخراجات اپنی جیب سے ادا کرکے منفرد مثال قائم کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والی ملازمہ ’نیہ‘ کی شادی ابراہیم نامی ایک نوجوان کے ساتھ سعودی عرب میں انجام پائی۔ شادی کے تمام اخراجات، جھیز، رہائش، شادی ہال کی بکنگ، ہنی مون اور مہمانوں کے قیام وطعام کے تمام اخراجات ملازمہ کی مالکن نے اپنی جیب سے ادا کیے ہیں۔

اپنی ملازمہ کی شادی کے تمام اخراجات اٹھانے والی سعودی خاتون نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنےکی درخواست کی تھی۔ اس لیے ان کی شناخت کو صیغہ راز میں رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی خادمہ کی شادی کے اخراجات ریا کاری یا شہرت کے لیے ادا نہیں کیے۔ میں نے یہ سب کچھ اپنی ملازمہ ’نیہ‘ کی بہتری کے لیے کیا ہے۔ میں نیہ کو ملازمہ نہیں سمجتھی بلکہ وہ ہمارے خاندان کی ایک فرد ہے۔

سعودی عرب کی ایک فیملی مشیرہ ڈاکٹر زھرۃ المعبی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انڈونیشیائی ملازمہ ’نیہ‘ کی شادی کے لیے اس کی مالکن کی طرف سے بھرپور مالی تعاون سعودی عرب میں ملازمین سے حسن سلوک کے قابل عمل نمونے کے واقعات کا حصہ ہے۔

سعودی عرب میں بعض معمولی نوعیت کے واقعات کی بناء پر کفیل اور مکفول کے درمیان تنازعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں سعودی معاشرے کے بارے میں منفی تاثر جنم لیتا ہے۔

ڈاکٹر زھرۃ المعبی جو خود بھی اس منفرد شادی میں شریک تھیں نے شادی کی تصاویر اور ویڈیوز بھی تیار کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دلہا ابراہیم کا تعلق بھی انڈونیشیا سے ہے۔ اس نے حال ہی میں نیہ کو رشتے کا پیغام بھیجا تھا جسے فوری قبول کرلیا گیا۔

سعودی خاتون کی جانب سے ملازمہ کے ساتھ حسن سلوک اور شادی کے اخراجات جیب سے ادا کرنے کے اقدام کو سوشل میڈیا پر غیرمعمولی طور پر سراہا جا رہا ہے۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ سعودی خاتون کی طرف سے ملازمہ کی شادی کی کفالت ان تمام خاندانوں کے لیے عملی مثال ہے جنہوں نے اپنے گھروں میں دوسرے ملکوں کے ملازمین کام پر رکھے ہوئے ہیں۔