غرب اردن: ماہ صیام میں طلاق کا اندراج ممنوع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلسطینی اتھارٹی کے چیف جسٹس محمود الھباش نے اتوار کو مقبوضہ مغربی کنارے کی تمام شرعی عدالتوں کو ایک سرکلر جاری کیا ہے جس انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ رمضان المبارک کے دوران طلاق کا کوئی کیس رجسٹر نہ کریں۔ اگر ایسا کوئی کیس سامنے آتا بھی ہے تو اسے رمضان المبارک کے بعد تک ملتوی کردیا جائے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک پریس بیان میں فلسطینی قاضی القضاۃ نے کہا کہ شرعی عدالتوں کو جاری کردہ حکم نامہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں تیار کیا گیا۔ پچھلے برسوں کے دوران بعض شوہروں کی جانب سے روزے کے سبب سے عجلت میں طلاق دینے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خوراک کی کمی اور تمباکو نوشی طلاق جیسے مسائل کا موجب بن سکتے ہیں۔ ماہ صیام میں چونکہ لوگ نسبتا غیر متوازن روش اختیار کرتے ہیں، اپنے نفس پر قابو پانے میں مشکل پیش آنے پر جلد بازی میں جذباتی فیصلے کرتے ہیں جس کے نتیجے میں میاں بیوی کے درمیان جھگڑے طلاق تک جا پہنچتے ہیں۔
فلسطینی چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ شرعی عدالتوں کو جاری کردہ سرکلر خاندان اصلاح و مشاورت و رہ نمائی مرکز کی رپورٹس کی روشنی میں تیارکیا گیا۔ اس کا اطلاق صرف ماہ صیام کے ایام میں ہوگا۔ طلاق کی رجسٹریشن ماہ صیام کے بعد تک ملتوی کی جائے گی تاکہ دونوں فریقین کو متوازن طبی حالت میں اپنے بیانات ریکارڈ کرانےاور اس کے مطابق فیصلے کا موقع مل سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں