’برقعنی پر پابندی‘: لبنان چلا یورپ کی چال!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورپی ملکوں میں مسلمان خواتین کے ہاں پیراکی کے لیے موزوں اور معقول سمجھے جانے والے لباس’ برقعنی‘ کا معاملہ اب یورپی ملکوں کے ساتھ ساتھ لبنان جیسے کثیر الثقافتی ملک میں بھی ایک تنازع کی شکل میں سامنے آیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں شمالی لبنانی شہر طرابلس کے ساحل کے قریب قائم ایک سیرگاہ پر موجود سیکیورٹی گارڈ نے ایک خاتون کو روکا اور کہا کہ وہ برقعنی پہن کر اندر داخل نہیں ہو سکتی۔

نورا الزعیم نے اپنے ساتھ پیش آئے واقعے کی تفصیلات سوشل میڈیا پر پوسٹ کی ہیں اور بتایا کہ ایک سیکیورٹی اہلکار نے کس طرح اسے اس کے شوہر اور دو سالہ بچے سمیت دو دن تک صرف اس لیے حبس بے جا میں رکھا وہ [نورا] برقعنی پہن کر پیراکی کرنا چاہتی تھیں۔

برقعنی کے ساتھ پیش آئے واقعے پر سماجی کارکنوں اور عوامی حلقوں میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ شہریوں نے برقعنی پر پابندی کو مذہبی آزادیوں پر نئی قدغنیں لگانے کی حکومتی کوشش قرار دیا ہے۔

نورا الزعیم کا کہنا ہے کہ جب اس نے سیرگاہ کے سرکاری کارندے کی بات نہ مانی اور سمندر میں پیراکی کے لیے آگے بڑھی تو اس نے کہا کہ برقعنی پر اب پابندی عاید کر دی گئی ہے۔ آپ صرف پیراکی کا عام لباس اڑھ کر سمندر میں اتر سکتی ہیں۔ تاہم نورا نے اس کے جواب میں کہا کہ وہ لبنان کے دستور کو جانتی ہیں۔ کثیر ثقافتوں کی نمائندگی کرنے والے ملک میں ایسا کوئی مخصوص لباس لازمی نہیں کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ برقعنی نامی پیراکی سوٹ یورپ کی مسلمان خواتین میں کافی مقبول ہوا ہے۔ اس لباس میں چہرے کے سوا جسم کا بقیہ حصہ مکمل طور پرڈھانپا ہوتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں