حجرہ نبوی کے خادم 110 سالہ الشیخ ابراہیم آغا سے ملیے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حجرہ مبارک کی خدمت کی سعادت کسی کسی کی قسمت میں آتی ہے۔ حال ہی میں العربیہ ڈاٹ نیٹ نے حجرہ نبوی کے ایک دیرینہ محافظ و خادم الشیخ ابراہیم آغا سے ملاقات کی۔

ابراہیم آغا کی عمر 110 سال ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ حجرہ نبوی کی خدمت میں گذارنے کی سعادت حاصل کی ہے۔ ضعیف العمر ہونے کے باوجود حجرہ نبوی سے ان کی محبت میں کوئی کمی نہیں آئی۔

الشیخ ابراہیم آغا کہتے ہیں کہ وہ چھوٹی عمرمیں حبشہ سے مدینہ منورہ آئے اور بلال حبشی کی طرح حبیب کبریا کی مسجد کے خادم بن گئے۔

انہوں نے زندگی کے نشیب و فراز پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ زندگی میں انہیں بڑی بڑی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا مگر اس کے لیے حجرہ نبوی کی خدمت کی سعادت نے سب کچھ بھلا دیا۔

کہتے ہیں کہ ’میرے گھر اور منبر مسجد نبوی کےدرمیان صرف ریاض الجنہ ہے۔

یہاں یہ واضح رہے کہ مسجد نبوی میں حجرہ نبوی کی خدمت پر 7 آغوات [آغا کی جمع] مامور ہیں۔ آغا ترکی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب قابل احترام، بزرگ، سربرہ یا صاحب فضیلت ہے۔ خلافت عثمانیہ کے دور میں حجرہ نبوی کے خادمین کو ’آغا‘ کہا جاتا تھا۔ یہ اصطلاح اب عربی میں بھی مستعمل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں