اسرائیلی بمباری سے لبنان کے نقل مکانی پر مجبور ہونےوالے لگ بھگ بارہ لاکھ شہری بے گھر ہونے اور نقل مکانی پر مجبور ہو گئے تھے اسرائیل لبنان معاہدے کے بعد واپس اپنے علاقوں میں واپسی کے لیے روانہ ہونا شروع ہو گئےہیں۔
ایک اندازے کے مطاق اب تک تقریبآ چار لاکھ لبنانی شہری واپسی کے سفرپر جا چکے ہیں۔ تاکہ جنگ زیدہ جنوبی لبنان میں اپنے تباہ شہ گھروں کو لوٹ سکیں۔ اگلے ہفتوں کے دوران مزید افراد کی واپسی کی کوشش کا امکان بتایا جا رہا ہے۔ یہ بات ایک لبنانی وزیر نے منگل کے روز بتائی ہے۔
وزیر حنین السید کے مطابق اگرچہ لاکھوں واپسی کے لیے روانہہوئے ہیں اور اپنے علاقوں میں بھی پہنچ رہے ہیں۔ مگر اب بھی بہت بڑی تعداد باقی ہے۔ جو خیموں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ کیونکہ ان کے گھر بہت زیادہ تباہ ہوچکے ہیں۔ قابل رہائش نہیں رہے ہیں۔
انہوں نے کہاایک اندازے کے مطابق اب تک چالیس فیصد افراد واپس گئے ہیں۔ یہ تعداد ہزاروں خیموں اور عارضی رہائشوں سے واپس ہوئی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تو جو خاندا واپس نہ جا سکے ان کے لیے خیمہ بستیاں قائم رہیں گی۔ اسی طرح انہیں ایمر جنسی امداد کے سلسلے میں رقم کی ادائیگی بھی جاری رکھی جائے گی۔ یاد رہے خیموں کی تعداد میں کمی آرہی ہے۔
تاہم وزیر حنین السید وہ اصل تعدادنہبتا سکیں جو واپس اپنے علاقوں میں چلے گئے ہیں اور جو ابھی خیموں میں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا جو خاندان واپس جانے کے قابل ہوئے ہیں وہ کم از کم تھوڑے بہت وسائل اور امکانات رکھتے تھے۔ ۔ جبکہ دیگر ابھی اس پوزیشن میں نہیں ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں اپنے مکانات کی تباہی کی وجہ سے وہ واپس جا کر مزید مشکلات میں گھر جائیں گے۔
حنین السید نے کہا تقریبآ ایک ہفتے میں ہم یہ جان سکیں گے کہ مسئلے کی شدت در اصل کیا ہےاور کتنے لوگ بالکل واپس جانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
گھر واپسی بھی چیلنج بن گئی
بہت سے نقل مکانی کرنے والے لبنانی شہری قطعآ یہ نہیں سمجھتے کہ گھر واپسی کا مطلب مکمل مسائل اور مصائب سے چھٹکارہ ہو گا۔ یا وہ معمول کی زندگی کے قریب کی زندگی گذار سکیں گے۔ ایسا بالکل نہیں ہو گا۔ کیونکہ ان کے گھر تباہ ہو چکے ہیں۔ پانی اور بجلی کا نظام کلی طور پر ان علاقوں میں اسرائیلی فوج نے تباہ کر دیا تھا۔ کاروبار ختم ہو چکے ہیں۔ اشیائے خود نوش کی فراہمی ایک نئے سرے مشکل کام ہوگا۔ اس رقم سے بھی محرومہونے کا اندیشہ ہے جو حکومت انہیں کیمپوں میں دے رہی ہے۔
مگر وزیر نے کہا جنوبی لبنان کے بہت سے بے گھر لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنے علاقے سے غیرمعمولی طور پر مانوس ہیں ان کے لیے واپسی زیادہ اہم چیز ہے۔ لبنانی حکومت کا اندازہ ہے کہ اسے لوگوں کی مکمل بھالی کے لیے اربوں ڈالر کی ضرورت ہوگی۔ مگر حکومت کے پاس بھی یہ فی الحال نہیں ہیں۔ کم از کم 90 ہزار مکانات اور گھر مکمل یا جزوی طور پر اسرائیلی بمباری سے تباہ ہوئے ہیں۔