.

یہ 3 اقدامات آپ کو زیادہ باہِمّت بنا دیں گے !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان کے اندر شجاعت اور دلیری کو پروان چڑھانا کوئی آسان کام نہیں۔ اس دنیا میں ہمارے گرد بہت سے اندیشے گھوم رہے ہوتے ہیں۔ میڈیا خوف اور سنسنی پھیلانے کی حکمت عملی اپناتا ہے تا کہ پروگرام کے ناظرین کی تعداد بڑھ جائے۔ انٹرنیٹ پر موضوعات نفرت انگیزی سے بھرے پڑے ہیں۔ سوشل میڈیا بھی ایسی زہریلی ثقافت پھیلا رہا ہے جو لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کرتی ہے۔ لہذا خوف کوایک منطقی امر شمار کیا جاتا ہے جہاں ہماری سوچ خوف سے جمود کا شکار ہو جاتی ہے جب کہ ہمیں شجاعت اور دلیری کے ساتھ آگے کی جانب چھلانگ لگانی چاہیے۔

انگریزی ویب سائٹ کیئر2 کے مطابق مذکورہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود ہم اپنی سوچ میں بعض بنیادی تبدیلیوں کے ساتھ زیادہ دلیر اور بہادری کے حامل بن سکتے ہیں۔ خود پر اعتماد کرتے ہوئے درج ذیل تین ہدایات کو اپنایے :

1 - اپنے اندیشوں کو دُور نہ بھگائیے

سب سے پہلے یہ کہ آپ اپنے اندیشوں اور خوف سے شرمندہ نہ ہوں بلکہ اس کے برعکس جب آپ اپنے اندیشوں کے حوالے سے اپنے ساتھ صاف گوئی کریں گے تو ان اندیشوں پر غالب آنا آسان ہو جائے گا۔ لہذا اس ہدایت پر کاربند رہنے کی کوشش کریں کہ "خود کو مشقت میں نہ ڈالیے اور اپنے اندیشوں کو تسلیم کیجیے تا کہ آپ ان پر قابو پا سکیں"۔ بہادری اور دلیری کے ذریعے خوف کا راستہ روکنے کے لیے پہلا قدم اس خوف اور اندیشے کا اعتراف کرنا ہے۔ آپ جیسے بھی ہیں اسی طرح خود کو قبول کیجیے اور ان چیزوں کو چھپانے کی کوشش روک دیجیے جن سے آپ خوف زدہ ہوتے ہیں۔

2 – خود سے محبّت کرنے کی مشق کیجیے

اگر آپ واقعتا دلیر اور بہادر بننا چاہتے ہیں اور ان چیزوں کو حاصل کرنا چاہتے ہیں جن پر آپ کا یقین ہے تو اس کے لیے خود سے محبت کرنا بہت اہم ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اپنی ضروریات کو ترجیح دیں۔ ظاہر سی بات ہے اگر آپ خود ہی دباؤ کا شکار اور مایوسی اور ناامیدی سے دوچار رہیں گے تو پھر اس ہمّت کو کہاں سے لائیں گے جس کی آپ کو تلاش ہے ؟

پانی بہت پیجیے ، صحت بخش غذا کھایا کریں ، نیند اچھی طرح پوری کیا کریں اور تناؤ سے چھٹکارہ حاصل کریں۔ اپنے ہمدرد بنیے کیوں کہ دلیری بہت زیادہ کوشش کا مطالبہ کرتی ہے۔ لہذا اپنی بنیادی ضروریات کی دیکھ بھال کیا کریں تا کہ آپ اپنی اور دوسروں کی خاطر دلیر بن سکیں۔

3– اپنی طاقت کے ذرائع کو سمجھیے

جان لیجیے کہ آپ کے پاس دنیا پر اثر انداز ہونے کی بہت زیادہ قدرت ہے۔ معاملہ بہت آسان ہے مثلا کسی شخص کے لیے دروازہ کھول کر رکھا جائے یا پھر لوگوں کی تعریف کر دی جائے۔

اس کے برعکس آپ کے بعض انفرادی منفی برتاؤ دوسرے لوگوں کے لیے سخت تکلیف کا باعث بن سکتے ہیں۔ آپ کو دنیا میں ایک مؤثر شخصیت بننے کے لیے زیادہ مال و دولت ، کسی منصب یا خوب صورت ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ کے پاس ناقابل یقین صلاحیتیں ہیں جن سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ اگر آپ ان پر یقین کریں اور ان صلاحیتوں کو جان لیں تو وہ آپ کو بلند قامت کے ساتھ کھڑے ہونے کی قوت فراہم کریں گی تا کہ آپ ضرورت کے وقت اپنے اور دوسرے لوگوں کا دفاع کر سکیں۔