حج میں دل رو رو کر ایسے قرب الہیٰ حاصل کرتا ہے
حج ایک ایسا دینی فریضہ ہے کہ جو اپنے اندر جذبات کی ایک دنیا سموئے ہوئے ہے۔ اسے ادا کرنے والے کا منتہی ومقصود اللہ کا قرب ہوتا ہے۔ یہی وجہ سے کہ حاجی اہل خانہ اور دنیاوی مال ومتاع کی جدائی پر غمزدہ ہونے کے بجائے تمام تر توجہ اللہ کا قرب حاصل کرنے میں صرف کرتا ہے۔ مناسک کی ادائی کے دوران پیش آنے والی جسمانی مشقت دراصل حاجی کے لئے اللہ کے خوف، رعب اور محبت حاصل کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
سعودی وزارت ثقافت واطلاعات اور مسک الخیریہ فاؤنڈیشن کے مشترکہ تعاون سے "مشاعر المشاعر" [المشاعر کے جذبات] کے عنوان سے تیار کی جانے والی فلم میں حج کے دوران انہی جذبات کی عکاسی کی گئی ہے کہ جو دیگر تمام مصروفیات سے ہٹ کر حاجی کا اوڑھنا اور بچھونا بنے ہوتے ہیں۔
حاجی اللہ کی پکار پر لیبک کہتا ہوا اسلام کے پانچویں اہم رکن کی ادائی کے لئے کمر بستہ ہوتا ہے اور وہ حج کے مناسک ادا کرتا ہے۔ حاجی ان مناسک کی ادائی میں اللہ کا قرب محسوس کرتا ہے۔ حج کے ہر مرحلے اور مقام کی اپنی الگ داستان ہے، جس میں سوائے اللہ کی عظمت کے اور کچھ نہیں جھلکتا، جس کا اثر حاجی کے دل پر اللہ کی خشیت کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس کی آنکھوں سے آنسووں کی جھڑی اور چہرے پر اللہ سے ملاقات کا نور جھلکتا ہے۔