الجزیرہ انگلش بمقابلہ الجزیرہ عربی: ایک چینل، دو پیغام
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں الجزیرہ انگلش اور الجزیرہ عربی نیٹ ورک کی عمارتوں کے درمیان حد فاصل ایک شاہراہ ہے لیکن دونوں چینلوں میں ادارتی سطح پر تقسیم بہت گہری ہے۔اس کا اندازہ ان دونوں چینلوں کی حال ہی میں سعودی عرب کے قومی دن کی تقریبات کی کوریج سے کیا جاسکتا ہے۔
الجزیرہ انگلش نے ایک ویڈیو رپورٹ تیار کی اور اس میں سعودی عرب کو اس بنا پر تنقید کا نشانہ بنایا کہ اس نے کنسرٹس اور سینماؤں میں مرد وخواتین کے مخلوط اجتماعات پر پابندی عاید کررکھی ہے۔ الجزیرہ عربی نے اپنی کوریج میں اس کے بالکل برعکس موقف اپنایا اور سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر مخلوط تقریبات میں شریک ہونے والے مردو خواتین کی مذمت کردی ۔ گویا اس کے نزدیک ان کا یہ اقدام درست نہیں تھا۔
الجزیرہ عربی نے اسی پر اکتفا نہیں کی بلکہ اس نے سیاسی اخلاقیات اور مذہبی تاریخ کے پروفیسر محمد المختار الشنقیتی کو اس موضوع پر اظہار خیال کے لیے مدعو کیا۔انھوں نے سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر منعقدہ مخلوط تقریبات کو ناقدین کے حوالے سے ’’زمرۂ بے حیائی ‘‘میں شمار کردیا۔
الجزیرہ انگریزی نے ایک پیکج اور ایک تفصیلی میگزین شو نشر کیا۔اس میں اس نقطہ نظر کو نمایاں کیا گیا تھا کہ سعودی عرب میں ناکافی اصلاحات کی جارہی ہیں۔ پھر سارا دن اسی کی جگالی کی جاتی رہی تھی۔
الجزیرہ کے پال چدڑ جیان اپنے ناظرین کو یہ بتا رہے تھے:’’ اختتام ہفتہ پر ایک اور اقدام کیا گیا ہے اور انسانی حقوق کے کارکنان نے اس کی تحسین کی ہے۔ سعودی خواتین کو پہلی مرتبہ شاہ فہد اسٹیڈیم میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی تاکہ وہ بھی سعودی مملکت کے ستاسویں یوم تاسیس کی تقریبات میں شریک ہوسکیں۔خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینا بھی ایک ایسا اقدام ہے جس کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سعودی مملکت کو خواتین کو مساوی حقوق دینے میں ابھی بہت فاصلہ طے کرنا ہے‘‘۔
الجزیرہ انگریزی اور الجزیرہ عربی کے درمیان باہم یہ متضاد ادارتی پالیسی کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ الجزیرہ انگریزی سے ماضی میں وابستہ رہنے والے صحافی ان کے درمیان موجود غیر تحریری ادارتی اصول وقواعد کو اجاگر کرتے رہتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ الجزیرہ عربی سے خود کو ممیّز رکھنے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے تھے۔
یہ معاملہ جون 2014ء میں اس وقت نمایاں ہوا تھا جب مصر میں الجزیرہ انگریزی سے وابستہ تین صحافیوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور انھیں سزائیں سنائی گئی تھیں۔تب مصری ریاست نے الجزیرہ مباشر مصر ( مصر لائیو) پر باضابطہ طور پر پابندی عاید کردی تھی جبکہ الجزیرہ انگریزی نے قاہرہ سے رپورٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا تھا اور اس سے وابستہ صحافیوں نے اپنے کارڈز کی مدت ختم ہونے کے بعد ان کی تجدید کے لیے درخواست بھی دی تھی۔قاہرہ میں اس کے بیورو چیف محمد فہمی کا کہنا تھا کہ انھیں یہ یقین دلایا گیا تھا کہ ان کی ٹیم کے تیار کردہ پیکجز کو الجزیرہ مباشر مصر سے نشر نہیں کیا جائے گا لیکن ان کے اس موقف کے باوجود الجزیرہ انگلش کی رپورٹس کو الجزیرہ مباشر مصر سے نشر کرنے کا سلسلہ جاری رکھا گیا تھا حال آں کہ قاہرہ سے فہمی نے کئی بار ایسا کرنے سے منع کیا تھا۔
الجزیرہ کی انتظامیہ ادارتی عملہ کی جانب سے کبھی اس بات کو تسلیم نہیں کیا گیا تھا کہ ان کا چینل مصر کی اخوان المسلمون کی طرف داری کرتا رہا تھا اور یہ جماعت مشرق ِ وسطیٰ میں جو کھیل کھیل رہی تھی، چینل اس کا حصہ بن گیا تھا۔بعض معاملات کی رپورٹنگ کے دوران میں تو اس چینل کے عملہ ہی کو غیر ضروری خطرے میں ڈال دیا گیا تھا۔یہ بات الجزیرہ کی مشرقِ وسطیٰ میں سینیر نمائندہ انیتا میکناٹ نے چینل 4 نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی تھی۔اس موخر الذکر چینل نے الجزیرہ کے بارے میں تحقیقات کی تھی۔
صرف میکناٹ ہی نے الجزیرہ کی اخوان المسلمون کی طرف داری کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا تھا بلکہ الجزیرہ انگلش کے ایک آن لائن پروڈیوسر گریگ کارل اسٹارم نے ’’ مصر الجزیرہ انگلش ‘‘ سے نفرت کیوں کرتا ہے؟ کے عنوان سے فارن پالیسی میگزین میں ایک تفصیلی مضمون لکھا تھا۔
وہ لکھتے ہیں:’’ مصر کے معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامی اسلامی لیڈر بہ شمول اخوان المسلمون کے رہ نما جمال حشمت حالیہ ہفتوں کے دوران الجزیرہ کے دونوں چینلوں عربی اور مباشر مصر پر نمودار ہوتے رہے ہیں۔چینل ان مہمانوں کو موقع فراہم کرتا رہا ہے جو فرقہ وار اور سخت موقف کے حامل تھے اور ان کی گفتگو بالعموم کسی قطع وبرید کے بغیر ایسے ہی نشر کردی جاتی تھی۔واشنگٹن پوسٹ نے نومبرمیں یہ اطلاع دی تھی کہ یہ ٹی وی نیٹ ورک مصر کے جلا وطن اسلامی رہ نماؤں کو دوحہ کے ہوٹلوں میں ٹھہراتا رہا تھا اور ان کے قیام وطعام کا خرچ برداشت کرتا ر ہا تھا۔
الجزیرہ انگلش آن لائن کے سابق سینیر ایڈیٹر روبن بینر جی لکھتے ہیں کہ ان کے سابق چینل نے صحافت اور جوشیلی فعالیت میں بہت تھوڑی حد فاصل رہنے دی تھی۔بالعموم ایسا اس وقت ہوتا تھا جب چینل کے سینیر عملہ کے ذہنی و سیاسی اور معاشی مفادات کا معاملہ آتا تھا تو وہ صحافت اور صحافتی قدروں کو تیاگ دیتے تھے۔بینر جی آج کل ہندوستان ٹائمز کے ایڈیٹر ہیں۔
ادارتی پالیسی میں یہ فرق 2014ء میں اس وقت اور زیادہ نمایاں ہوا تھا جب الجزیرہ عربی کی ویب سائٹ پر ایک رپورٹ شائع کی گئی تھی اور اس میں داعش کے ہاتھوں امریکی صحافیوں جیمز فولے اور اسٹیو ن سوٹلوف کے بے دردی سے قتل کا مضحکہ اڑایا گیا تھا اور ان کے سرقلم کیے جانے کی ویڈیو کو ہالی وڈ میں تیار کردہ قرار دیا گیا تھا۔
جب العربیہ انگلش نے الجزیرہ کی اس غیر پیشہ ورانہ کارستانی کا پردہ چاک کیا تو ا س نے اپنی ویب سائٹ سے اس رپورٹ کو ہٹا دیا تھا۔الجزیرہ نے اپنی اس ر پورٹ میں جو دعوے کیے تھے، بہت سے مبصرین نے انھیں غیر ذمے دارانہ ، غیر سنجیدہ اور لغو قرار دیا تھا۔
اس کے ایک سال کے بعد الجزیرہ انگلش اور عربی کا عملہ ایک مرتبہ پھر ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھے۔ منظرعام پر آنے والی ای میلز کے مطابق ان کے درمیان پیرس میں توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے میگزین کے دفتر شارلی ہیبڈو کے دفتر پر جنوری 2015ء میں حملے کے بعد اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔
الجزیرہ کے متعدد صحافیوں اور ادارتی عملہ کے ارکان نے شارلی ہیبڈو میگزین کو نسل پرست اور انتہا پسند قرار دیا تھا جبکہ بعض نے توہین آمیز خاکے شائع کرنے کے حق کا دفاع کیا تھا۔ان کے درمیان اس مناقشے کا ای میل کے افشا ہونے سے انکشاف ہوا تھا۔
الجزیرہ انگلش اور الجزیرہ عربی سے تعلق رکھنے والے سینیر اینکروں نے حال ہی میں ایک ویڈیو مہم میں حصہ لیا ہے اور اظہار رائے کی آزادی کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے دہشت گردی مخالف چار ممالک کی جانب سے قطر کو پیش گئی مطالبات کی ایک فہرست کے بعد یہ مہم برپا کی تھی۔ان ممالک نے منجملہ دیگر مطالبات کے الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک کو بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ اس نیٹ ورک کو قطر کی خارجہ پالیسی کے ایک آلہ کار کے طور پر دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔
الجزیرہ انگریزی کی نیوز کاسٹر جین ڈوٹن بھی اس ویڈیو میں نمودار ہوئی تھیں اور وہ کہہ رہی تھیں کہ ’’ ہم خیالات کے تنوع اور رائے کے احترام کا مطالبہ کرتے ہیں‘‘۔
تاہم ڈوٹن الجزیرہ انگلش اور الجزیرہ عربی کے درمیان ایک داخلی تنازع کا مرکزی کردار رہی تھیں اور انھیں 14 اگست 2013 کو اخوان المسلمون کے ایک رکن کا انٹرویو کرنے کی پاداش میں آف ائیر کردیا گیا تھا۔انھوں نے اس انٹرویو میں یہ سوال بھی پوچھا تھا کہ کیا اخوان المسلمون نے قاہرہ کی جامع مسجد رابعہ العدویہ میں ہتھیار چھپا رکھے تھے۔
ایک آزاد نیوز ویب سائٹ دوحہ نیوز کے مطابق چینل کے ایگزیکٹو پروڈیوسر ہانی الکنیسی نے ڈوٹن کو اس لیے آف ائیر کردیا تھا کیونکہ الجزیرہ کی انتظامیہ یہ محسوس کرتی تھی کہ اس طرح کے سوالات سے اخوان المسلمون کے لیے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں اور اس کی منفی تصویر اُ بھر سکتی ہے۔
واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ میں کوفمین فیلو ڈیوڈ پولک نے اپریل 2011ء میں الجزیرہ انگریزی اور عربی کے درمیان فرق کا تجزیہ کیا تھا۔انھوں نے نام نہاد عرب بہار کے صرف دو ماہ کے بعد ’’ الجزیرہ : ایک تنظیم ، دوپیغامات‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا ۔اس میں انھوں نے واضح کیا تھاکہ ’’ الجزیرہ عربی کی ویب سائٹ قطر کے علاقائی مفادات کی عکاسی کرتی ہے جبکہ انگریزی کا جھکاؤ بین الاقوامی سطح پر رونما ہونے والے واقعات کی جانب ہے‘‘۔
پولک مزید لکھتے ہیں:’’ بدقسمتی سے الجزیرہ انگریزی اور عربی میں تقسیم سے یہ تو پتا چلتا ہے کہ یہ دونوں ادارے آنکھ سے آنکھ ملا کر نہیں چلیں گے۔جب تک یہ عمل جاری رہتا ہے،الجزیرہ کو جمہوریت کا علمبردار یا ایک حقیقی اصلاح کنندہ ( ریفارمر) نہیں سمجھا جانا چاہیے‘‘۔