.

آپ یقین کریں گے؟ روسی صدر پوتین کے پاس اسمارٹ فون نہیں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آپ شاید اس انکشاف پر یقین کریں یا نہ کریں ،یہ آپ کی مرضی لیکن حقیقت یہ ہے کہ روسی صدر ولادی میر پوتین کے پاس اسمارٹ فون نہیں ہے۔انھوں نے اسمارٹ فون استعمال نہ کرنے کا تو آج انکشاف کیا ہے ،اس سے پہلے وہ گذشتہ سال یہ کہہ چکے ہیں کہ انھیں سوشل میڈیا کے نیٹ ورکس کے استعمال میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

روسی صدر نے سائنس دانوں اور ماہرین تعلیم کے ایک اجلاس میں کرچاتوف نیو کلئیر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ میخائل کوالچک کی ایک تقریر کے جواب میں یہ اعتراف کیا ہے۔انھوں نے کہا:’’ آپ نے یہ کہا ہے کہ ہرکسی کے پاس اسمارٹ فون ہے لیکن میرے پاس اسمارٹ فون نہیں ہے‘‘۔ صدر پوتنک کی اس بات پر حاضرین مجلس خوب محظوظ ہوئے اور وہ کھل کھلا کر ہنس پڑے۔

یہی نہیں،بلکہ صدر پوتین نے موبائل فون بھی بہت تاخیر سے استعمال کرنا شروع کیا تھا۔انھوں نے 2005ء میں یہ کہا تھا کہ ان کے پاس موبائل فون نہیں ہے۔انھوں نے آن لائن موجود مواد کے بارے میں بھی اپنی لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔

انھوں نے گذشتہ سال اسکول کے بچوں کے ایک اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ انٹر نیٹ استعمال نہیں کرتے ۔ روسی بچوں نے اپنے صدر سے یہ معصومانہ سوال کیا تھا کہ کیا وہ اپنے فارغ وقت میں انسٹا گرام یا دوسرے سوشل نیٹ ورکس استعمال کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا تھا:’’ میں ذاتی طور پر تو انٹر نیٹ استعمال نہیں کرتا ہوں لیکن میرا عملہ یہ کام کرتا ہے۔میرا مصروف دن بہت تاخیر سے ختم ہوتا ہے ،اس لیے میں انسٹا گرام استعمال نہیں کرتا ہوں‘‘۔

صدر پوتین کے برعکس ان کے 52 سالہ وزیراعظم دمتری مید ویدیف اکثر اپنے آئی فون کے ساتھ مگن نظر آتے ہیں اور وہ انسٹاگرام پر موجود اپنے سرکاری صفحے پر اپنی تصاویر خود پوسٹ کرتے رہتے ہیں۔

روسی صدر گذشتہ برسوں کے دوران میں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ’’انٹرنیٹ امریکی سی آئی اے کا ایک خصوصی منصوبہ اور ’’نصف عریانیت‘‘ ہے‘‘۔انھوں نے 2012ء میں دوبارہ صدر بننے اور کریملن لوٹنے کے بعد سے انٹر نیٹ کی آزادیوں پر سخت قدغنیں عاید کی ہیں اور انتہا پسندوں سے وابستہ ویب گاہوں کو کسی عدالتی حکم کے بغیر ہی بلاک کردیا جاتا ہے۔

انسانی حقوق کے ایک گروپ کے مطابق روس میں گذشتہ سال 43 افراد کو آن لائن حکومت مخالف یا قابل اعتراض مواد پوسٹ کرنے کے الزام میں قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔