کیا موت کے بعد بھی بال اور ناخن واقعتا نُمو پاتے ہیں ؟
اگرچہ موت ہمیشہ سے اپنے طور پر ایک پہیلی کے مترادف رہی ہے تاہم کم از کم ہم یہ ضرور معلوم کر سکتے ہیں کہ وفات کے بعد انسانی جسم میں کیا ہوتا ہے۔
اس سلسلے میں ایک سوال جو ہمیشہ سامنے آتا ہے وہ انسانی موت کے بعد بالوں اور ناخنوں کی نشو نما جاری رہنے سے متعلق ہے۔
جرمن ناول نگار ایرک ماریا ریمارک نے اپنی تحریروں میں اس معاملے پر روشنی ڈالی ہے۔ اس کے علاوہ 1959 میں نمائش کے لیے پیش کی جانے والی فلم "دی ٹینگلر" میں ڈاکٹر وارن چیبن کے کردار نے انکشاف کیا کہ انسان کی وفات کے بعد بالوں اور ناخنوں کی نشو نما کا سلسلہ رکتا نہیں ہے۔
اگرچہ یہ موضوع ذرائع ابلاغ ، فلموں اور کتابوں سے متعلق نہیں تاہم پوسٹ مارٹم اور لاشوں سے متعلق امور انجام دینے والے ورکروں کی جانب سے بھی یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ موت کے بعد بھی انسانی جسم کے ان اجزاء کی نمو کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
البتہ میڈیکل سائنس کے میدان کی تحقیقوں اور آراء میں پورے وثوق سے کہا گیا ہے کہ مندرجہ بالا دعوی قطعا درست نہیں ہے۔
جب کسی شخص کی موت واقع ہوتی ہے تو اس کا دل جسم میں آکسیجن بھرنا چھوڑ دیتا ہے۔ یہ گلوکوز کی تیاری کے لیے ضروری ہوتی ہے اور بالوں اور ناخنوں کی نشو نما کے عمل میں انسانی جسم اپنے طور پر اس کو جلاتا ہے۔
موت کے بعد انسانی جسم کے لیے توانائی کی کمک موجود نہ ہونے کے پیش نظر یہ بات ناممکن ہے کہ بالوں اور ناخنوں کی نمو جاری رہے۔
ہو سکتا ہے کہ نشو نما سے متعلق اس مفروضے کے جاری رہنے کا ممکنہ سبب.. تحلیل کے عمل کے دوران انسانی جسم کے ردّ عمل میں پوشیدہ ہو۔ وہ اس طرح کہ کچھ وقت گزرنے کے بعد جلد کا پانی خشک ہو جاتا ہے بالخصوص سر اور انگلیوں کے اطراف کے حصّے میں، لہذا یہ صورت حال اس طرح کا تاثر دیتی ہے کہ بال اور ناخن لمبے ہو گئے ہیں۔
تاہم لاش کے کھلے ہونے کی صورت میں جسم اور بالوں کو نم آلود کرنے پر تجہیز و تکفین کے ذمّے دار افراد کے سامنے یہ بات آتی ہے کہ صورت حال بالکل طبعی ہے۔