تائیوان میں رہائشی ٹاور عالمی حرارت کم کرنے کا مثالی منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

معروف عالمی آرکیٹکچر Vincent Callebaut کی یہ چاہت ہے کہ وہ اپنی زیر تعمیر عمارتوں کو ماحول دوست بنائیں۔ یہ عمارتیں نہ صرف رہائشی مقاصد کو پورا کریں گی بلکہ وہ فضا میں کاربن کے تناسب پر روک لگانے میں بھی اپنا کردار ادا کریں گی تا کہ عالمی حرارت کا مقابلہ کیا جا سکے۔

اسی ماحول دوست منصوبوں کے تحت تائیوان کے دارالحکومت تائپے میں ایک ٹاور کی تعمیر جاری ہے۔ وِنسینٹ کیلیبو کے ڈیزائن کردہ ٹاور کا نام Tao Zhu Yin Yuan ہے اور توقع ہے کہ اس کی تعمیر رواں برس مکمل ہو جائے گی۔ عمارت میں مجموعی طور پر 23 ہزار کے قریب درخت اور سبز جھاڑیاں لگائی جائیں گی۔

کیلیبو کے مطابق یہ عمارت اپنے پودوں کے ذریعے سالانہ 130 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرے گی۔ یہ مقدار سالانہ 27 گاڑیوں سے نکلنے والے ضرر رساں مواد کے برابر ہے۔

توانائی کی عالمی ایجنسی کے مطابق سال 2014ء میں تائیوان نے مجموعی طور پر 25 کروڑ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا کیا تھا۔

کیلیبو کا کہنا ہے کہ اگر اس ضخیم حجم کو سامنے رکھا جائے تو اُن کا حالیہ منصوبہ ایک چھوٹا سا اقدام شمار ہو گا تاہم کیلیبو نے زور دیا کہ عالمی حرارت کے مظہر کے مقابل یہ ایک بڑی جست ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ٹاور" قابل دوام ماحولیاتی تعمیر کے حوالے سے ایک قائدانہ مفہوم پیش کرے گا"۔

اس 21 منزلہ رہائشی کمپلیکس کو اس طریقے سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہاں رہنے والوں کی طرف سے توانائی کا کم استعمال ہو۔ اس حوالے سے روشنی اور ہوا کے گزر کے واسطے قدرتی طریقے کو استعمال میں لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بارش کے پانی کی ری سائیکلنگ اور چھت پر سولر پینل کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

کیلیبو نے نیویارک شہر کے لیے 132 منزلوں پر مشتمل ایک شہری فارم کا بھی منصوبہ تیار کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک اور منصوبہ ترتیب دیا ہے جس کے تحت سال 2050ء تک فرانس کے دارالحکومت پیرس کو روشنیوں کے شہر سے بدل کر ایک "گرین اسمارٹ سِٹی" بنا دیا جائے گا۔

تائپے میں اپنے حالیہ منصوبے کے بارے میں کیلیبو کا کہنا ہے کہ یہ "ٹکنالوجی کا مغربی اور مشرقی ثقافتوں کے ساتھ ایک مثالی امتزاج ہے"۔ اس کا ڈیزائن ڈی این اے کی قدرتی شکل سے لیا گیا ہے اور یہ مکمل توازن کا حامل ہے۔

اندازہ ہے کہ 2050ء میں دنیا کی آبادی 9 ارب کے قریب ہو گی جن میں 80% لوگ بڑے شہروں میں سکونت پذیر ہوں گے۔ یہ پہلو اس بات کو لازم بناتا ہے کہ زندگی کے موافق اسلوب کا دریافت کرتے ہوئے ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف سردست اقدامات کیے جائیں۔

کیلیبو کے مطابق یہ کوئی تعمیراتی انداز نہیں بلکہ مستقبل کے لیے نا گزیر ایک ضرورت ہے۔

کیلیبو نے 2008ء میں متعارف کرائی گئی اپنی اس تعمیراتی طرز فکر کو archibiotect کا نام دیا ہے۔ کیلیبو کے مطابق اُن کی یہ سوچ دھیرے دھیرے دنیا بھر میں معاشروں کے اندر اپنی جگہ بنا لے گی۔ انہوں نے کہا کہ "میں چاہتا ہوں کہ لوگوں کو یہ سکھایا جائے کہ توانائی کا استعمال کم کیا جا سکتا ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں