.

یہ وقت بھی آنا تھا: لیبیا میں داعش کا جنگجو 10 لاکھ ڈالرز میں برائے فروخت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں ایک ملیشیا نے برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں مئی 2017ء میں خودکش بم دھماکا کرنے والے بمبار سلمان کے چھوٹے بھائی ہاشم العبیدی کو دس لاکھ ڈالرز میں فروخت کرنے کا ا علان کردیا ہے۔

برطانوی حکام لیبیا سے ہاشم العبیدی کو حوالے کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔انھوں نے اس کے خلاف مانچسٹر ایرینا میں خودکش بم حملے کی سازش میں ملوث ہونے ، قتل اور اقدام قتل کے الزام میں وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔ اس بم دھماکے میں سات بچوں بائیس افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔

برطانوی اخبار سنڈے ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانوی حکومت کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ وہ انصاف سے بچ نکل سکتا ہے،اس کو دہشت گرد گروپوں کو فروخت کیا جاسکتا ہے ۔اس لیے وہ اس کی حوالگی کے لیے ایک نامعلوم تیسری پارٹی کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات کررہی ہے۔

اخبار نے لیبیا کے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ داعش گروپ بھی ایک تیسرے فریق کے ذریعے 21 سالہ ہاشم العبیدی کی رہائی کے لیے مذاکرات کرر ہا ہے۔ہاشم گذشتہ سال سے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے نزدیک واقع معیتیقہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک ملیشیا کے زیر حراست ہے۔

برطانوی حکام گذشتہ سال نومبر سے ہاشم العبیدی تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں۔تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ وہ بھی مانچسٹر میں خودکش بم دھماکے میں ملوث تھا اور اس نے اپنے بڑے بھائی سلمان کو اس خود کش حملے میں استعمال کیے گئے بم کی تیاری کے لیے مواد مہیا کیا تھا۔واضح رہے کہ یہ دونوں بھائی برطانیہ میں مقیم لیبی تارک وطن والدین کی اولاد ہیں۔

اخبار نے ایک ذریعے کے حوالے سے لکھا ہے: ’’ ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ ہاشم العبیدی کو دس لاکھ ڈالرز کے عوض فروخت کیا جارہا ہے اور اس کو زیر حراست رکھنے والے دو ملیشیا گروپوں نے اس کو فروخت کرنے کی پیش کش کی ہے‘‘۔

برطانیہ کو یہ بھی تشویش لاحق ہے کہ اس کو داعش یا دوسرے انتہا پسندوں کے ہاتھ فروخت کیا جاسکتا ہے اور وہ اس کو اپنے ایجنڈے کے فروغ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔اس طرح برطانوی حکام مانچسٹر میں خودکش بم حملے میں کردار پر اس کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لا سکیں گے اور انھیں اس کے حملے میں کردار کی نوعیت کے بارے میں بھی پتا نہیں چل سکے گا۔

ذرائع کے مطابق مانچسٹر پولیس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس کے پاس ہاشم العبیدی کے خلاف 22 افراد کی ہلاکت ، زخمی ہونے والے افراد کو ہلاک کرنے کی کوشش اور خود کش حملے کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں فرد جرم عاید کرنے کے لیے کافی شواہد موجود ہیں۔