جب سعودی خواتین ہائیکرز نے مکہ مکرمہ کی بلند چوٹیاں سر کیں!!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مکہ مکرمہ کے بلند پہاڑوں پر چڑھنا ایک دشوار گزار عمل ہے تاہم اس کے باوجود 12 سعودی دوشیزاوں نے اس چیلنج کو قبول کر لیا۔ اس کاوش کا مقصد ’’جبل نور‘‘ کی بلند ترین چوٹی پر پہنچ کر پیدل چلنے اور جسمانی صحت اور فٹنس پر توجہ دینے کے حوالے سے آگاہی بیدار کرنا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ٹیم اس مہم میں مذکورہ لڑکیوں اور خواتین کے ہمراہ رہی جنہوں نے اپنے ساتھ واٹر کینز اور کچھ پھل لے رکھے تھے۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں میں بینرز بھی تھامے ہوئے تھے جن پر معاشرے میں "ہائیکنگ" کی سرگرمی اجا گر کرنے پر زور دیا گیا تھا۔

ہائیکنگ میں شریک نوجوان لڑکیوں نے واضح کیا کہ وہ کھیلوں کی اس سرگرمی سے معاشرے کو پیغام دینا چاہتی ہیں کہ پیدل چل کر بیماریوں اور امراض سے لڑیں۔ سعودی ویمن ہائیکنگ کی کپتان إسراء السمّان کا کہنا تھا کہ ہائیکنگ کے ذریعے ہم ہمیں اُس جسمانی قوت کے اسرار معلوم ہوتے ہیں جن سے ہمارے آباؤ اجداد لطف اندوز ہوتے تھے ،،، ساتھ یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں پرانے زمانے میں پیدل چل کر کن چیلنجوں کا سامنا ہوتا تھا۔ اسراء کے مطابق دشواری اور ہیبت کے باوجود یہ ایک دل چسپ اور تفریح فراہم کرنے والا کھیل ہے اور اس کے فوائد وہ ہی جان سکتا ہے جو اس سرگرمی کو انجام دے۔

إسراء کے مطابق ان کی ٹیم نے ’’جبل نور‘‘ اور ’’جبل ثور‘‘ پر اس ایونٹ کا انعقاد کیا۔ علاوہ ازیں دیگر کئی ایونٹس میں بھی شریک رہی تا کہ پیدل چلنے کے ذریعے امراض کے خلاف برسر جنگ رہنے کے حوالے سے شعور بیدار کیا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں