لونگ اور دارچینی کی چائے دوپہر کے سستی کو دور کرنے کے لیے بہترین

توجہ، ہاضمہ اور توانائی کے توازن کو بہتر بنانے کا قدرتی طریقہ ،کیفین سے پاک، گرم اور آرام دہ مشروب کے ساتھ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

دوپہر کے کھانے کے بعد تھکن محسوس ہونا جتنا عام ہے، لوگ اکثر اس کا اندازہ نہیں لگاتے۔ دوپہر 2 بجے سے 4 بجے کے درمیان جسم کی حیاتیاتی گھڑی کے باعث توانائی میں قدرتی کمی آتی ہے۔

اگر اس کے ساتھ بھاری غذا اسکرین کے استعمال سے ہونے والی تھکن اور ذہنی دباؤ شامل ہو جائے تو نتیجہ عموماً دوپہر کا روایتی خمول ہوتا ہے۔ اس خمول کے ساتھ اکثر میٹھی چیزیں کھانے کی شدید خواہش اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری بھی ہوتی ہے۔

اسی لیے ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ کافی یا کسی انرجی ڈرنک پر انحصار کرنے کے بجائے ایک ہلکا اور زیادہ غذائیت بخش متبادل موجود ہے، تیز تیار ہونے والی لونگ اور دارچینی کی چائے، لونگ اور دارچینی دو ایسی قدرتی مصالحہ جات ہیں جو ہاضمے کو بہتر بناتے ہیں۔

خون میں شکر کی سطح کو متوازن رکھتے ہیں اور ذہنی واضحیت میں اضافہ کرتے ہیں۔ یہ کیفین سے پاک، گرم اور آرام دہ مشروب ہے، جو دوپہر بھر توجہ اور توانائی برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے، بغیر اس گھبراہٹ اور بے چینی کے جو عام طور پر کیفینی مشروبات کے ساتھ آتی ہے۔

خون میں شکر کی سطح کا استحکام

دارچینی میں موجود قدرتی مرکبات جسم کو انسولین کے بہتر استعمال میں مدد دیتے ہیں۔ جب انسولین مؤثر طریقے سے کام کرتا ہے تو گلوکوز خون میں رہنے کے بجائے آسانی سے خلیوں میں داخل ہوجاتا ہے، جس سے شوگر کی سطح میں اچانک اتار چڑھاؤ نہیں ہوتا۔
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دارچینی کھانے کے بعد گلوکوز کی سطح کو متوازن رکھنے میں مدد کرتی ہے، جس سے دوپہر کے کھانے کے تقریباً دو گھنٹے بعد آنے والی تھکن اور ذہنی انتشار کم ہوتا ہے۔ایک مثال کے طور پر Diabetology Metabolic Syndrome جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق سے پتہ چلا کہ دارچینی کے سپلیمنٹ کھانے سے روزہ دار شوگر کی سطح میں واضح کمی آئی اور انسولین ریزسٹنس میں بہتری دیکھی گئی۔
خون میں شکر کی سطح کا متوازن رہنا توانائی کے استحکام کی علامت ہے اور میٹھی چیزیں یا کیفین لینے کی خواہش کم کرتا ہے۔ لونگ میں بھی "یوجینول" پایا جاتا ہے، جو گلوکوز کے میٹابولزم میں مدد دیتا ہے اور جسم کو کاربوہائیڈریٹس بہتر طور پر ہضم کرنے میں معاون بنتا ہے۔
دارچینی اور لونگ کا ملاپ دوپہر کے بعد توانائی میں کمی پر قابو پانے میں مددگار ہے، خاص طور پر اُن لوگوں کے لیے جو کھانے کے بعد بھوک کی خواہش یا توجہ میں کمی محسوس کرتے ہیں۔

دارچینی کا سفوف
دارچینی کا سفوف

ہاضمے کی بہتری اور پیٹ پھولنے میں کمی

بھاری دوپہر کا کھانا یا دفتر میں مسلسل بیٹھے رہنا ہاضمے کی رفتار کم کر دیتا ہے، جس سے پیٹ پھولنے، تیزابیت اور گیس کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ دارچینی ہاضمے کے عمل کو تیز کرتی ہے کیونکہ وہ ہاضمے کے انزائمز کی سرگرمی بڑھاتی ہے، جس سے معدہ کھانے کو بہتر طور پر توڑ پاتا ہے۔ اس طرح کھانا آسانی سے ہضم ہوتا ہے اور بے چینی یا سستی کم ہوتی ہے۔ لونگ ایک قدرتی "کارمنٹیو" ہے، یعنی یہ اضافی گیس بننے سے روکتا ہے اور بدہضمی کو آرام دیتا ہے۔

ہلکی اینٹی اسپاسموڈک (اینٹی تشنج) خصوصیات

اگر دوپہر کا خمول پیٹ کی بے آرامی یا کھانے کے بعد بھاری پن سے جڑا ہو، تو یہ چائے نظامِ ہضم کے تناؤ کو کم کرکے جسم کو ہلکا محسوس کراتی ہے۔ اس مصالحہ دار چائے کا باقاعدہ استعمال آنتوں کی صحت کو بہتر بناتا ہے، کیونکہ یہ آنتوں کے جرثوموں کے توازن میں مدد کرتا ہے، سوزش کم کرتا ہے اور غذائی اجزاء کے جذب میں اضافہ کرتا ہے۔ اسی لیے یہ مجموعی طور پر معدے کو آرام پہنچاتا ہے اور دن بھر توانائی کی سطح کو متوازن رکھتا ہے۔

دماغ کی تحریک اور توجہ میں بہتری


لونگ میں ایسے اینٹی آکسیڈنٹس ہوتے ہیں، جو دماغ کو تحریک دیتے ہیں اور خون کی روانی بہتر بناتے ہیں، جس سے توجہ میں اضافہ ہوتا ہے۔ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ دارچینی کی گرم، خوشگوار خوشبو ذہنی کارکردگی اور یادداشت کو بہتر کرتی ہے، حتیٰ کہ اس کی خوشبو بھی ذہن کو تازگی بخشتی ہے اور ذہنی تھکن کم کرتی ہے۔ کیفین کے برعکس جو جسم کو زبردستی چاک و چوبند کرتا ہے اور بعد میں توانائی کو گرا دیتا ہے، یہ چائے ہلکا مگر مسلسل اثر دیتی ہے۔ یہ ذہنی صفائی اور پیداواری صلاحیت کو برقرار رکھتی ہے، بغیر نیند میں خلل ڈالے۔

سوزش کے خلاف مؤثر اور قوتِ مدافعت میں اضافہ


لونگ قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہے، جو جسم میں سوزش سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں اور یہی سوزش اکثر تھکن اور توانائی میں کمی کی پوشیدہ وجہ ہوتی ہے۔ دارچینی میں اینٹی بیکٹیریل خصوصیات ہوتی ہیں ،جو قوتِ مدافعت کو مضبوط کرتی ہیں اور جسم کو ماحول سے پیدا ہونے والے تناؤ سے بچاتی ہیں۔ لونگ اینٹی آکسیڈنٹس کے بہترین قدرتی ذرائع میں سے ایک ہے اور اس میں موجود "یوجینول" اپنی طاقتور اینٹی انفلیمیٹری خصوصیات کے لیے مشہور ہے۔

لونگ اور دارچینی کی چائے کی آسان ترکیب

لونگ اور دارچینی کی چائے بنانے کے لیے ایک کپ پانی ابالیں، پھر اس میں دارچینی کا ایک چھوٹا ٹکڑا (یا آدھا چائے کا چمچ پسی ہوئی دارچینی) اور دو عدد پورے لونگ ڈال دیں۔ مکسچر کو 5 سے 7 منٹ تک ہلکی آنچ پر پکنے دیں تاکہ پانی کا رنگ سنہری بھورا ہوجائے۔ پھر اسے چھان کر کپ میں نکال لیں۔ چائے کے ہلکا ٹھنڈا ہونے پر ایک چائے کا چمچ شہد بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔اگر چولہا استعمال نہ کر رہے ہوں تو کپ میں مصالحے ڈال کر گرم پانی ڈال دیں، کپ کو ڈھانپ کر تقریباً 5 منٹ کے لیے چھوڑ دیں۔ جتنا زیادہ وقت چائے دم پر رہے گی، ذائقہ اور فائدے اتنے بڑھ جائیں گے۔

بہترین وقت اور دیگر مفید مشورے

اسے دوپہر کے کھانے کے تقریباً آدھے گھنٹے بعد پینا بہتر ہے تاکہ ہاضمہ بہتر رہے اور کھانے کے بعد بھاری پن محسوس نہ ہو۔
اس چائے کو رات دیر سے پینے سے پرہیز کریں، کیونکہ یہ گرم تاثیر رکھنے والی چائے ہے اور جاگنے کا احساس بڑھا سکتی ہے۔
ذہنی سکون کے لیے چائے کے بھاپ کا ہلکا سا سانس لیتے ہوئے 60 سیکنڈ تک آنکھیں بند کرکے گہری اور آہستہ سانسیں لینے کی کوشش کریں۔
توانائی متوازن رکھنے کے لیے اس چائے کے ساتھ میٹھی اسنیکس کے بجائے مٹھی بھر خشک میوہ جات لینا زیادہ فائدہ مند ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size