.

ایران کے سرکاری ٹی وی نے اہلِ سنت کی توہین پر دو مینجروں کو فارغ خطی دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سرکاری ٹی وی چینل نے اپنے دومینجروں کو ایک براہِ راست پروگرام میں اہلِ سنت کی توہین پر مبنی مواد نشر کرنے اور ان کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے پر فارغ خطی دے دی ہے۔

انھیں 20 مئی کو نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے یومِ ولادت کے موقع پر چینل 5 پرنشر کیے گئے ایک براہ راست پروگرام پر ملازمت سے فارغ کیا گیا ہے۔ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کے مطابق اس پروگرام کے دوران میں ایک مذہبی ذاکر احمد قدامی نے ایسی منقبت پڑھی تھی اور تقریر کی تھی جس سے سنی مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی تھی۔

سرکاری ٹی وی کی ویب سائٹ پر ہیڈ مینجر عبدالعلی علی عسکری کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ’’چینل 5 پر ذاکر کی توہین آمیز تقریر نشر کرنے میں بے پروائی اور غفلت کا مظاہرہ کرنے پر چینل کے ہیڈ اور نشریاتی مینجر کو فارغ کردیا گیا ہے‘‘۔

اس ٹی وی چینل کے نائب سربراہ مرتضیٰ میر باقری نے نیم سرکاری خبررساں ایجنسی ایسنا کو بتایا ہے کہ چینل کے سینیر پروڈیوسر ، پروگرام مینجر اور ویڈیو سپروائزر کو بھی پیشہ ورانہ فرائض میں غفلت برتنے پر چلتا کیا گیا ہے۔ایرنا کے مطابق اس ذاکر کو ایران کی ثقافتی اور میڈیا عدالت نے اتوار کے روز طلب کیا تھا اور اس کے خلاف کیس کی ابھی تحقیقات کی جاری ہے۔

ایران میں اہلِ تشیع کی کثیر آبادی ہے اور ان ہی کی حکومت ہے مگر ملک کے آئین کے تحت اہلِ سنت کو اپنی فقہ کے مطابق مذہبی شعائر و عبادات ادا کرنے کی آزادی ہے۔ سنی مسلمان ایران کی کل آبادی کا قریباً 10 فی صد ہیں۔