.

حزب اللہ کا شامی سرحد پرکنٹرول ہے،وہ لبنان میں ہتھیار بھیج رہی ہے:طلاس 

اسد نظام شام کے جسم میں ایک سرطانی چاقو ہے،جب اس کو ہٹایا جائے گا تو بہت زیادہ خون بہے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا شام کے حماہ ہوائی اڈے سمیت سرحدی علاقوں پر مکمل کنٹرول ہے اور وہ ان ہی کے ذریعے شام سے لبنان میں ہتھیاروں کی حمل ونقل کررہی ہے۔

یہ بات شام کی حزب اختلاف کے لیڈر فراس طلاس نے العربیہ ٹیلی ویژن چینل سے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے انکشاف کیا ہے کہ’’حماہ کا ہوائی اڈا ایرانی ہتھیاروں کی لبنان اورجنوبی شام میں حمل ونقل کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔اسی مقام پر ایران نے پاسداران انقلاب کا سراغرسانی کا ایک ٹھکانا قائم کیا ہے۔یہ دمشق کے ائیرپورٹ پر شامی انٹیلی جنس کے اڈے ایسا مضبوط ہے۔‘‘

انھوں نے بتایا کہ ’’ایران نے انٹیلی جنس کا یہ ٹھکاناالقدس فورس کے سابق کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی عراق کے دارالحکومت بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہلاکت کے بعد قائم کیا تھا۔جنرل سلیمانی کے طیارے نے حماہ کے اڈے سے اڑان بھری تھی اور بغداد پہنچنے کے بعد وہ امریکا کے میزائل حملے میں مارے گئے تھے۔‘‘

حزب اللہ اور شامی نظام میں عدم اعتماد

فراس طلاس نے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ کے چیف آف اسٹاف عمادمغنیہ کے قتل کے بعدلبنانی ملیشیا اور شامی نظام میں عدم اعتماد میں اضافہ ہواتھا۔شامی آرمی کے جنرل محمد سلیمان بشارالاسداور حزب اللہ کے درمیان ابلاغ کے ذمے دارتھے لیکن ان پر یہ بھی شُبہ کیا جاتا ہے کہ ان کے امریکیوں اور اسرائیلیوں سے بھی روابط تھے۔

’’عماد مغنیہ کے قتل کے بعد حزب اللہ نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اس واقعے میں جنرل سلیمان کا ہاتھ کارفرما تھا۔وہ حزب اللہ کے لیڈروں کی بشارالاسد سے ملاقات کے بعد طرطوس میں مارے گئے تھے۔‘‘ان کا کہنا تھا۔

ایرانی اثرونفوذمیں اضافہ

فراس طلاس کے مطابق ایرانیوں نے شام میں مختلف محاذوں پراپنے اثرونفوذکو بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔انھوں نےاہلِ تشیع کو مضبوط بنانے کی مہم برپا کررکھی ہے۔اس میں خاص طورپرنوجوانوں کو ہدف بنایا جارہا ہے۔وہ اراضی خرید کررہے ہیں اور برسرزمین اپنا اثرورسوخ بڑھارہے ہیں۔عربوں کو اس مہم سے آگاہ ہونا چاہیے۔

فراس طلاس شام کے سابق وزیردفاع مصطفیٰ طلاس کے صاحب زادے ہیں۔انھوں نے اس انٹرویو میں شام میں ایرانیوں اور حزب اللہ کی موجودگی کے بارے میں پہلی مرتبہ بعض انکشافات کیے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ’’ایرانی تو شام میں بشارالاسد کے مخالف عوامی احتجاجی تحریک کے 2011ء کے اوائل میں آغاز سے قبل ہی موجود تھے۔شام اورایران کے درمیان حزب للہ کے ذریعے سکیورٹی اور فوجی تعاون جاری تھا۔‘‘

فراس طلاس مارچ 2011ء میں صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے آغاز کے وقت ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ان ہی دنوں میں ان کے والد بھی شام سے باہر چلے گئے تھے۔

فراس طلاس نےانکشاف کیا ہے کہ اپریل 2011ء میں ایران نے حزب اللہ کو مطلع کیا تھاکہ ’’انھیں بہرصورت بحران کے اختتام تک بشارالاسد کی حمایت کرنا ہے،خواہ وہ درست ہیں یا غلط ۔ تب حزب اللہ تمام عربوں کی نظر میں اپنی قدر کھوچکی تھی۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’حزب اللہ یہ خیال کرتی تھی کہ وہ جو کچھ کررہی تھی ،وہ درست تھا لیکن جرم کبھی درست نہیں ہوتا۔‘‘

شامی نظام کا بالاتر ہاتھ

فراس بتاتے ہیں کہ بشارالاسد کے والد حافظ الاسد کے دورحکومت میں ایرانی شام کے اتحادی تھے لیکن تب شامی نظام کا دوطرفہ تعلقات میں بالائی ہاتھ تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’جب حزب اللہ نے تمام حدیں پارکرلیں تو حافظ الاسد نے ایک سُرخ لکیرکھینچ دی تھیں۔وہ یہ خیال کرتے تھے کہ لبنان ان کے ہاتھ میں ہے اور انھوں نے حزب اللہ کو وہاں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع دیاتھا۔‘‘

فراس طلاس کے مطابق بشارالاسد حزب اللہ کے لیڈر کی شخصیت اور کردار سے بڑے متاثر تھے۔اس کے بعد ہی ایران نے شام میں اپنے اثرورسوخ میں اضافہ شروع کردیا۔بالخصوص 2007ء کے بعد ایران کی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی اور سابق ایرانی صدرمحمود احمدی نژاد نے شام میں اپنا اثرورسوخ بڑھانا شروع کردیا تھا۔

لیکن جب شام میں بحران شروع ہوا تو حسن نصراللہ ہکّا بکّا رہ گئے تھے کیونکہ وہ یہ خیال کرتے تھے کہ بشارالاسد کرپشن سے دور ہیں لیکن درحقیقت وہ کرپشن کے ان داتا تھے۔

فراس کا کہنا تھا کہ ’’حافظ الاسد رجیم نے جب کبھی کوئی آپریشن کرنا ہوتا تو وہ کوئی فلسطینی یا لبنانی ملیشیا تخلیق کرتا تھا اور جب کام مکمل ہوجاتا تو اس ملیشیا کو تحلیل کردیا جاتا تھا۔یہ ایک بھوت نظام تھا۔یہ ملکی معیشت کی تعمیرکے معاملے میں تو طاقت ور نہیں تھا بلکہ طاقت اور طوائف الملوکی کا علمبردار تھا۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’شامی نظام شام کے جسم میں ایک سرطانی چاقو ہے۔جب اس کو ہٹایا جائے گا تو بہت زیادہ خون بہے گا۔یہ نظام موجود توہے لیکن یہ ایک فردکی حیثیت سے موجود ہے اور یہ دربدر افراد کی پہاڑی پر ایک کرسی پر بیٹھا ہے لیکن کیا شام میں اس نظام کی حکمرانی بھی ہے؟‘‘

ان کے بہ قول بشارالاسد شامیوں کے مطالبے پر 10 فی صد بھی اصلاحات کو تیارنہیں۔ تاہم وہ برسراقتدار رہنے کی ضمانت پر ملک کا 90 فی صد ایرانیوں ، روسیوں یا امریکیوں کے حوالے کرنے کو تیار ہیں۔‘‘