.

وزیراعظم مودی نے ایک سال بعد بھارت میں نافذکردہ کسان قوانین کوکیوں منسوخ کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے جمعہ کو ایک حیرت انگیزاعلان کیا کہ وہ ملک میں ایک سال قبل نافذکردہ زرعی قوانین کو واپس لے رہے ہیں۔ان قوانین کے خلاف بھارتی کسان کوئی ایک سال تک سراپا احتجاج رہے ہیں اور یہ ملک گیر مظاہرے ان کی حکومت کے لیےآج تک کا سب سے بڑا چیلنج تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اچانک فیصلے کے پیچھے آیندہ سال ریاستی اسمبلیوں کےانتخابات ایک بڑی وجہ ہوسکتے ہیں۔

کسان بھارت میں سب سے بااثر ووٹنگ بلاک سمجھے جاتے ہیں اور سیاست دان طویل عرصے سے انھیں الگ تھلگ کرناغیردانش مندانہ قراردیتے رہے ہیں۔ وہ وزیراعظم مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کے لیے بھی خاص طورپراہم ہیں لیکن گذشتہ سال ستمبر میں قوانین منظور ہونے کے بعد سے وہ سڑکوں پر ہیں اور ان حکومت کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

آیندہ سال کے اوائل میں بھارت کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ آبادی والی ریاستوں اترپردیش اور پنجاب میں انتخابات ہونے والے ہیں۔مودی کی پارٹی انھیں دوبارہ جیتنے کی امید کرتی ہے۔دونوں ریاستوں میں کسانوں کی آبادی کافی زیادہ ہے، خاص طور پر پنجاب میں۔

مودی کی پارٹی پہلے ہی اترپردیش میں حکمران ہے لیکن وبا اورمسائل کا شکارمعیشت کے خلاف اپنے ردعمل پر بے حد دباؤ میں ہے۔ اگرکسان انتخابات کے دوران میں ان کی پارٹی کو چھوڑ دیتے ہیں تواس سے بی جے پی کے لیے نہ صرف دوسری مدت کے لیے ریاستی حکومت بنانے کے امکانات کم ہوجائیں گے بلکہ 2024 کے قومی انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کرنے کے امکانات بھی کمزور ہوجائیں گے۔ریاست اترپردیش سے سب سے زیادہ ارکان اسمبلی یعنی 80 ارکان منتخب ہوکر قومی پارلیمان لوک سبھامیں جاتے ہیں۔لوک سبھا کی کل 552 نشستیں ہیں۔

مودی کی پارٹی پنجاب میں مضبوط نہیں لیکن انھیں امید ہے کہ وہ وہاں حکومت بنائیں گے اور پڑوسی زرعی ریاست ہریانہ میں اپنے نوزائیدہ ووٹروں کی بنیاد کو مضبوط بنائیں گے۔اس ریاست میں ان کی پارٹی کی حکومت ہےلیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم مودی کا حیرت انگیز فیصلہ ان کی جماعت کی کوئی مدد نہیں کرسکتا ہے۔

نئی دہلی میں واقع اشوکا یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر گیلس ورنیئرز کہتے ہیں کہ فوری طور پر کچھ کہنا قابل ازوقت ہوگا اور پھر یہ بھی واضح نہیں کہ ان کی پالیسی کا نقصان انتخابی فائدے میں کیونکرتبدیل ہونے والا ہے۔

خودبھارتیہ جنتاپارٹی نے وزیراعظم کے اقدام کا خیرمقدم کیا ہےاور اس کے بعض لیڈروں نے اس کوایک فیصلے کے طور پر پیش کیا ہے جس میں ان کے بہ قول کسانوں کو ترجیح دی گئی تھی۔

بی جے پی کے صدر جگت پرکاش ندا نے کہاکہ وزیراعظم نے ایک بارپھرثابت کیا ہے کہ وہ کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے پرعزم ہیں۔

احتجاجی کسانوں کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟

نریندرمودی کے اچانک فیصلہ کو گذشتہ ایک سال سے سراپا احتجاج کسانوں کی فی الحال ایک جیت قراردیا گیاہے۔

گذشتہ سال قوانین منظور ہونے کے بعد کسانوں نے احتجاج کے لیے سخت سردی اور تباہ کن کروناوائرس کے کیسوں کی تعداد میں اضافے کے باوجود نئی دہلی کے نواح میں ڈیرے ڈال لیے تھے۔ ملک بھر میں ان قوانین کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔

حکومت نے ابتدائی طور پر مظاہرین سے بات چیت کی اور 18 ماہ کے لیے قوانین معطل کرنے کی پیشکش کی تھی لیکن کسان مکمل تنسیخ کے لیے دباؤ ڈالتے رہے ہیں۔

گذشتہ ایک سال میں مظاہروں کے دوران میں خودکشی، خراب موسمی حالات اور کووِڈ-19 کی وجہ سے درجنوں کسان ہلاک ہوئے ہیں۔البتہ وہ اس احتجاجی تحریک کے دوران میں بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔

جنوبی ریاست تلنگانہ سے تعلق رکھنے والی کسان رہنما کرن وسا نے کہا کہ ’’یہ کسانوں کی تحریک کی ایک بڑی فتح ہے اور ایک سال سے تحریک چلانے والوں کے لیے ایک بڑی حوصلہ افزائی ہے۔‘‘

سیاسیات کے پروفیسرورنیئرز بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ’’کسان اسے اپنی جیت سمجھیں گے نہ کہ وزیراعظم کی طرف سے احسان کے اشارے کے طور پرلیں گے‘‘۔

کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ احتجاج ختم ہوچکا ہے؟اس کے جواب میں پروفیسرصاحب نے کہا کہ نہیں،ایسا نہیں ہے۔

دوسری جانب کسان گروپوں کا کہنا ہے کہ وہ دسمبر میں شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے اجلاس میں قوانین کو باضابطہ طورواپس لینے تک احتجاج جاری رکھیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ مظاہرے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک حکومت انھیں بعض ضروری فصلوں کی امدادی قیمتوں کی یقین دہانی نہیں کرادیتی- یہ نظام 1960 کی دہائی میں متعارف کرایا گیا تھا تاکہ ہندوستان کواشیائے خورونوش کے ذخائرکو بڑھانے اورقلّت کو روکنے میں مدد مل سکے۔

انھوں نے کہا کہ ہم اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن تحریک یہاں ختم نہیں ہوتی۔ ویسا کا کہنا تھا کہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کو وزیراعظم یا مرکزی حکومت پرزیادہ اعتماد نہیں ہے اور ہم اس وقت تک احتجاج جاری رکھیں گے جب تک ہم ان قوانین کو پارلیمان سے منسوخ نہیں کرالیتے۔

قوانین کیا تھے؟

مودی حکومت کا یہ مؤقف رہا ہے کہ بھارت میں کاشت کاری کوجدید بنانے کے لیے قوانین کے ذریعے اصلاحات کا نفاذ ضروری ہےلیکن کسانوں کو خدشہ تھا کہ زراعت میں نئی اصلاحات متعارف کرانے کے لیے حکومت کے اقدام سے وہ غریب ہوجائیں گے۔

مودی کے متعارف کردہ قوانین اس بارے میں بھی واضح نہیں تھے کہ آیا حکومت کچھ ضروری فصلوں کی قیمتوں کی ضمانت جاری رکھے گی۔کسانوں نے اس تشویش کا اظہار کیا تھا کہ حکومت ایک ایسے نظام سے ہٹ رہی ہے جس میں کسانوں کی بھاری اکثریت صرف حکومت کی منظورشدہ منڈیوں ہی میں اپنی زرعی اجناس فروخت کرتی ہے۔انھیں خدشہ تھا کہ اس سے وہ کارپوریشنوں کے رحم و کرم پرہوکررہ جائیں گے اورانھیں ضمانت شدہ قیمتیں ادا کرنے کی کوئی قانونی ذمے داری نہیں ہوگی۔