اسرائیل نے غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے فلسطینیوں کے اپنے ہاں کام کرنے پرعاید پابندیوں میں نرمی کی ہے جس کے بعد غزہ میں عبرانی زبان سیکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
غزہ میں قائم ایک لسانی مرکز میں ایسی ہی ایک جماعت کواستاد وائٹ بورڈ کے ذریعے عبرانی زبان سیکھا،پڑھارہا ہے اورماہرالفارہ اوردیگردرجنوں فلسطینی اسرائیل میں روزگارکے مواقع سے فائدہ اٹھانے پرتوجہ دے رہے ہیں۔
نفہہ مرکزِلسانیات میں عبرانی سیکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ اسرائیل کی جانب سے ورک پرمٹ کی ایک نئی پیش کش کے بعد ہوا ہے۔اس نے گذشتہ سال مئی میں غزہ کی پٹی پرحکمران حماس کے ساتھ گیارہ روزہ جنگ کے بعد سرحدی کشیدگی کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے اور اس نےغزہ سے تعلق رکھنے والے فلسطینیوں کو اسرائیلی علاقوں میں روزگار کی غرض سے آنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیاہے۔
اب اسرائیل غزہ کے محصور مکینوں کو سرحد پارجانے کے 10,000 اجازت نامے پیش کرتا ہے جو ایک ایسے علاقے کےمکینوں کی آمدنی کا ایک نیا ذریعہ ہے جہاں 64 فی صد آبادی اسرائیلی محاصرے کی وجہ سے غربت کی زندگی گزارنے پرمجبورہے اور بے روزگاری کی شرح 50 فی صد ہے۔
مرکزلسانیات کے مالک احمدالفالیط نے بتایا کہ 2021 کی آخری سہ ماہی میں اسرائیل کی جانب سے ورک پرمٹوں کے اجراکے بعد عبرانی زبان سیکھنے والوں کی تعداد میں چارگنا اضافہ ہوا ہے اور یہ تعداد 160 طلبہ تک پہنچ گئی ہے۔
اجازت نامہ حاصل کرنے والے افراد ان کورسز کی بدولت عبرانی زبان میں لکھے گئے نشانات، دستاویزات پڑھ سکتے ہیں اور اسرائیلی چیک پوسٹوں پرفوجیوں کے ساتھ گفتگوکرسکتے ہیں۔انھوں نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ اگر کوئی آجر صرف عبرانی ہی بولتا ہے توکارکن یہ زبان سیکھنے کے بعد اس سے بات چیت کے قابل ہوجاتا ہے۔
غزہ کی تنگ ساحلی پٹی میں قریباً 23 لاکھ فلسطینی رہتے ہیں۔وہ بیرون ملک کام حاصل کرنے کے لیے جانے سے قاصرہیں کیونکہ اسرائیل نے گذشتہ 15 سال سے غزہ کی پٹی پرمختلف النوع پابندیاں عاید کررکھی ہیں جس سے فلسطینی پسماندگی اور زبوں حالی کی زندگی گزاررہے ہیں۔
اسرائیل نے 2008 سے اب تک حماس اور دیگر فلسطینی مسلح گروپوں کے ساتھ چارجنگیں لڑی ہیں اور اس کی تباہ کن فضائی بمباری کے نتیجے میں غزہ بار بار تباہ ہوا ہے۔اس محاصرہ زدہ فلسطینی علاقے کی ایک سرحد مصر سے بھی ملتی ہے لیکن اس نے رفح کی سرحدی گذرگاہ پر اپنی پابندیاں عاید کررکھی ہیں۔
واضح رہے کہ سنہ 2000ء میں فلسطینی انتقاضہ تحریک سے پہلے غزہ سے تعلق رکھنے والے قریباًایک لاکھ 30 ہزار باشندے اسرائیل میں کام کرتے تھے۔فلسطینیوں کے مطابق اسرائیل نے 2005ء میں غزہ سے فوجیوں اور آباد کاروں کے انخلا کے بعد مزدوروں کے کام پر پابندی عایدکردی تھی۔
ایک دن میں ہفتے کی اُجرت
کوئی بھی یہ توقع نہیں کرتا کہ ورک پرمٹ کی تعداد میں محتاط اضافے سے اسرائیل اورحماس کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنازع ختم ہو جائے گا۔حماس کا 2007 سے غزہ میں کنٹرول ہے جبکہ اسرائیل نے تب سے اس فلسطینی علاقے کی بری ، بحری اور فضائی ناکا بندی کررکھی ہے۔
لیکن اب نفہہ میں عبرانی کلاس میں داخل ہونے والے درجنوں مزدوروں اور تاجروں کے لیے یہ نئی تبدیلی اسرائیل میں کمائی کا نیا امکان پیش کرتی ہے جوغزہ میں ایک ہفتے کی اجرت کے مساوی ہے۔
الفارہ نے رائٹرزکو بتایا کہ ’’میں آج یہاں عبرانی سیکھنے آیا ہوں تاکہ میں اسرائیل کے اندر اپنے کام پرچیزوں کو بہتر طریقے سے سنبھال سکوں‘‘۔
اسرائیلی رابطہ افسر کرنل موشے ٹیٹرو نے کہا کہ ’’نئی ملازمتوں سے غزہ کی معیشت میں بہتری آئے گی اورامن اور سلامتی کے استحکام میں بھی مدد ملے گی‘‘۔
حماس کے ایک سینیرعہدہ داراعصام داعلیس نے کہا کہ اسرائیل سے 30 ہزار ورک پرمٹوں کی پیش کش متوقع ہے۔ان کے ذریعے ماہرین معاشیات کے بہ قول فلسطینی مزدوروں کو روزانہ اوسطاً 500 شیکل (156 ڈالر) کمانے کا موقع مل سکتا ہے جبکہ کچھ لوگ غزہ میں کام کرتے ہوئے اتنی رقم ایک ہفتہ میں کماتے ہیں۔
غزہ کے شمالی قصبے جبالیہ سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ جمیل عبداللہ نے بتایا کہ’’میں ہر ہفتے میں 2000 شیکل (625 ڈالر) کے ساتھ اپنے خاندان کے پاس خوشی خوشی گھر واپس جاتا ہوں اورمیں اپنی والدہ اوروالد کو بھی اس میں سے کچھ رقم دیتا ہوں‘‘۔
غزہ کے ماہراقتصادیات محمد ابوجیاب بتاتے ہیں کہ ’’اسرائیل سے اجازت ناموں کی پیش کش مئی کی جنگ کے بعد مصری، قطری اور اقوام متحدہ کے مذاکرات کاروں کی جانب سے طے شدہ سیاسی تصفیے میں بیان کردہ اقتصادی اقدامات میں سے ایک ہے‘‘۔انھوں نے کہا کہ یہ یک طرفہ اسرائیلی اقدام نہیں۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں اور فلسطینیوں کے درمیان آئے دن جھڑپوں اورمشرقی یروشلم کے محلہ شیخ جراح میں فلسطینی خاندانوں کی بے دخلی پر کشیدگی بڑھنے سے صورت حال تیزی سے تبدیل ہوسکتی ہے۔
اسرائیل نے مئی کی جنگ کے بعد بہترسلامتی کے لیے مزید کھلے پن کی پیش کش کی شرط عاید کی ہے۔اس نے حماس پرالزام لگایا ہے کہ وہ غزہ کو درپیش انسانی مسائل کے حل کے بجائے اپنی لڑنے کی صلاحیتوں میں اضافے پرسرمایہ کاری کر رہی ہے جبکہ موشے ٹیٹرو کا کہنا تھا کہ اگر سلامتی کی صورت حال مستحکم اور پرامن رہتی ہےتو اسرائیلی ریاست اور زیادہ کھل جائے گی۔