سوئس دواسازکمپنی روشے نے’’آبلۂ بندر‘‘ کے تین پی سی آر ٹیسٹ تیار کرلیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوئٹزرلینڈ کی دواسازکمپنی روشے نے بدھ کے روز آبلۂ بندر(منکی پاکس) کے تین پی سی آر ٹیسٹ تیار کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ ان ٹیسٹوں کے ذریعے آبلۂ بندر کے وائرس کا پتالگایا جاسکتا ہے۔

باسل میں قائم فرم نے کہا کہ روشے اور اس کی ذیلی کمپنی ٹِب مولبیول نے تین ٹیسٹ کٹس تیارکی ہیں جو دنیا بھرکے بیشتر ممالک میں محققین کے استعمال کے لیے ہیں۔

پہلی کٹ وسیع ترآرتھوپوکس وائرس گروپ میں وائرس کا پتا لگاتی ہے۔ دوسری صرف آبلۂ بندر وائرس کا پتا لگاتی ہے اورتیسری کٹ بیک وقت دونوں کی تشخیص کا پتا دیتی ہے۔

تشخیص کے سربراہ تھامس شینیکر نے کہا کہ روشے نے ٹیسٹوں کا جلدی میں ایک نیا مجموعہ تیارکیا ہےجوآبلۂ بندر وائرس کا پتالگاتاہے اوراس سے وبائی امراض کے پھیلاؤ کے بعد ان کی تشخیص میں مدد کرتا ہے۔

یہ نئے تشخیصی آلات صحتِ عامہ کے اُبھرتے ہوئے چیلنجوں کاجواب دینے اوربالآخران پرقابو پانے کے لیے انتہائی اہم ہیں کیونکہ وہ کوششوں اورعلاج کی حکمت عملیوں کا سراغ لگانے جیسے جوابی اقدامات میں پیش رفت کے عکاس ہیں۔

روشے نے کہا کہ ریسرچ ٹیسٹ کٹس وائرس کے پھیلاؤ کا جائزہ لے سکتی ہیں اورعلاج، ویکسین اورصحتِ عامہ کے اقدامات کے ممکنہ اثرات کی نگرانی میں مدد دے سکتی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق 22 مئی تک مغربی اور وسطی افریقا کے ممالک سے باہر16 دوسرے ممالک سے اس کو آبلۂ بندر کے 250 سے زیادہ مصدقہ اور مشتبہ کیسوں کی باضابطہ اطلاعات موصول ہوچکی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ پولیمرز چین ری ایکشن (پی سی آر) ٹیسٹ اپنی درستی اور حساسیت کے پیش نظرترجیحی لیبارٹری ٹیسٹ ہے۔ اس کے لیے بہترین نمونے جلد کے زخموں اور خشک دھبّوں سے لیے جاسکتے ہیں۔

اس کا کہنا ہے کہ پی سی آر کے خون کے ٹیسٹ عام طور پربے نتیجہ ہوتے ہیں اورمریضوں سے معمول کے مطابق جمع نہیں کیے جانے چاہییں۔اس کے علاوہ اینٹی جن اور اینٹی باڈی ڈیٹیکشن کے طریقے آرتھوپوکس وائرس کے درمیان فرق نہیں کرتے ہیں۔

دریں اثناء ڈبلیوایچ او کے ہنگامی امور کے ڈائریکٹرمائیکل ریان نے بتایا ہے کہ ممالک ایسی معلومات کا اشتراک کررہے ہیں جو ایجنسی کوآبلۂ بندرکے پھیلاؤ کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جانوروں کے انسانوں سے رابطے پر اس کوابتدامیں مناسب طریقے سے کنٹرول نہیں کیا گیا ہے اور اب ہم ایک غیرمنظم اور مقامی بیماری کی قیمت آبلۂ بندرکی شکل میں ادا کررہے ہیں۔

انھوں نےاعتراف کیا کہ ہم نے بروقت حفاظتی اقدامات نہیں کیے اوراب ہم ایک کثیرملکی مسئلہ سے نمٹ رہے ہیں۔اس کا براہِ راست تعلق ان خطرات سے نمٹنے میں ہماری نااہلی یا عدم رضامندی سے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں