دیکھئے: موسم کی گرمی سے الاحساء کی ڈوکا کھجور کیسی پکتی ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے الاحساء ریجن میں گرمی کا دور دورہ ہے۔ مملکت کے دوسرے شہروں کے مقابلے پر اس جگہ درجہ حرارت سب سے زیادہ رہا ہے، اس موسم میں کسانوں کو امید ہو چلی ہے کہ ان کے ہاں کاشت کردہ کجھوروں کی دوسری اقسام بھی جلد ستمبر سے پہلے پک کر تیار ہو جائیں گی۔

کھجوروں کی فراوانی کی وجوہات

الاحساء کے ماہرین زراعت اس گرم موسم کو کھجوروں کی بھرپور پیداوار کی اہم وجہ سمجھتے ہیں۔ گذشتہ برسوں کے مقابلے میں اس سال خطے میں تیز گرم ہواؤں ’’لو‘‘ کا قبل از وقت چلنا بھی بتایا جاتا ہے، جس کے بعد تیزی سے کجھور کی فصل تیار ہونے لگی ہے۔

بازار میں پہلے سے ہی کھجور کی فصل ضرورت سے زیادہ موجود تھی، جس کی وجہ سے اس فصل کی قیمت رسد کے مقابلے انتہائی کم رہی۔

عبدالجلیل الاحمد نامی کسان نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ کھجور کی ’الطیار‘ قسم جلد پک گئی، جس کے بعد ’’الغر والمجناز‘‘ تیار ہو گئیں۔ ان دنوں الاحساء کے علاقے میں یہ کھجوریں نہایت مشہور ہیں۔

کسان عبدالجلیل نے مزید بتایا کہ کھجوروں کی بقیہ اقسام گذشتہ برسوں کے مقابلے میں جلدی تیار ہو جائیں گی۔ دو دنوں بعد کھجور کی ’’الطیار‘‘ نامی قسم پکنے والی ہے جس کے بعد ’’الخلاص‘‘ قسم پک کر تیار ہو جائے گی۔ یاد رہے الخلاص نامی کجھور کی مارکیٹ میں بہت زیادہ مانگ ہے۔

الطیار نامی ڈوکا کھجور
الطیار نامی ڈوکا کھجور

اس کے بعد کسان نماز فجر اور طلوع آفتاب سے پہلے کھجوریں اتارنے کا کام شروع کرتے ہیں۔ اس عمل کو ’الخراف‘ کہتے ہیں۔ یہ کام طلوع آفتاب کے بعد اس لیے نہیں کیا جاتا کہ اس سے اتاری جانے والی کھجور کا ذائقہ خشک ہونے لگتا ہے اور اگر اسی طرح کی دوسری کھجوریں بھی اتاری جائیں گی تو ان کا بھی ذائقہ خراب ہونے کا خدشتہ ہوتا ہے۔

کسان اتاری گئی کھجوروں کی اس کے بعد درجہ بندی کر کے انہیں کارٹنز میں پیک کر کے مقامی منڈیوں کو روانہ کر دیتے ہیں۔
یاد رہے کہ الاحساء میں کھجوروں کا نخلستان دنیا کا سب بڑا کھجور پیدا کرنے والا مرکز ہے۔ اس بات کا اعتراف گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی موجود ہے۔ یہاں 205 ملین کھجوروں کے درخت ہیں، جن سے 60 اقسام کی کھجوریں پیدا ہوتی ہیں۔

کسان احمد ڈوکے نکال رہا ہے
کسان احمد ڈوکے نکال رہا ہے

الاحساء کجھوروں کی پیداوار کے ساتھ سعودی عرب کا اہم سیاحتی مقام بھی سمجھا جاتا ہے۔ یہاں سعودی عرب کا ماحولیاتی اور فطری ورثہ پوری شان سے پروان چڑھتا ہے۔ اس کا تذکرہ یونیسکو کے عالمی ورثوں کی فہرست میں بھی موجود ہے جہاں کلچرل اور تاریخی آثار بکثرت پائے جاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں