جنوبی لبنان پر جاری اسرائیلی فضائی حملوں کے جلو میں لبنانی صدر جوزف عون نے ان حملوں میں اضافے کی مذمت کی ہے۔
آج جمعہ کو ایک بیان میں عون نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت کا مقصد جنگ بندی کے استحکام کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا ہے۔ تاہم انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ جارحیت "مکمل جنگ بندی کے حصول کی کوششوں کو نہیں روک سکے گی"۔
الرئيس جوزاف عون مديناً التصعيد الإسرائيلي المستمر: ما نشهده اليوم في الجنوب والبقاع من توسع للاعتداءات الاسرائيلية والمزيد من القتل والتدمير، يشكل تصعيداً خطيراً ومداناً، لا سيما وأنه طاول عشرات الابرياء، بينهم نساء واطفال، ويستهدف عملياً كل المحاولات الجارية لتثبيت وقف اطلاق…
— Lebanese Presidency (@LBpresidency) June 19, 2026
انہوں نے زور دیا کہ "مکمل جنگ بندی ہی اسرائیلی انخلاء، جنوب میں فوج کی تعیناتی اور قیدیوں کی واپسی پر بات چیت کا واحد راستہ ہے" جو واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے آئندہ پانچویں دور میں کی جائے گی۔
اسرائیلی دھمکی
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک بار پھر اعلان کیا ہے کہ ان کی افواج لبنان میں "تب تک موجود رہیں گی جب تک ضرورت ہو گی"۔ چار فوجیوں کی ہلاکت کے اعلان کے بعد دھمکی دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل حزب اللہ کو "بہت بھاری قیمت" چکانے پر مجبور کرے گا۔
نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی فوج "شمالی بستیوں کے تحفظ کے لیے ضرورت کے مطابق جنوبی لبنان کے سکیورٹی زون میں موجود رہے گی"۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا ملک "اپنے فوجیوں یا اپنی سرزمین پر کوئی حملہ قبول نہیں کرے گا"۔
اس کے علاوہ وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے خبردار کیا کہ اسرائیل حزب اللہ کے کسی بھی حملے کا "بھرپور قوت" سے جواب دے گا۔
ادھر حزب اللہ نے زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی اسرائیلی جارحیت کے خلاف "مستعد رہے گی"۔ کم از کم 21 افراد کی ہلاکت کا باعث بننے والے خونی فضائی حملوں کے بعد، حزب اللہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات کو مسترد کر دیا۔ تنظیم نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تمام محاذوں پر جنگ بندی کے معاہدے کے ایک روز بعد اسرائیل کی جانب سے یہ الزامات لگائے گئے ہیں... اور اس نے اسرائیلی فوج پر الزام لگایا کہ وہ "کبھی کسی جنگ بندی معاہدے پر کاربند نہیں رہی"۔
واضح رہے کہ گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران اسرائیل نے جنوبی لبنان اور وادی بقاع میں اپنے فضائی حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے، جس میں درجنوں قصبوں اور دیہات بالخصوص النبطیہ ضلع کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ علی الطاہر کی پہاڑیوں پر قبضے کی اسرائیلی کوششیں بھی جاری ہیں۔ اس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیلی طیاروں نے بعلبک ضلع کے قصبوں عین بورضائی، بعلبک اور دورس کے درمیان الجمالیہ کے علاقے اور مغربی بقاع میں دریائے زلایا کے کناروں کو بھی نشانہ بنایا۔
یاد رہے کہ بدھ کی شب امریکہ اور ایران کے درمیان دستخط ہونے والی مفاہمت کی یاد داشت میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر لڑائی بند کرنے کا عہد کیا گیا تھا۔ تاہم، اسرائیل نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ یہ معاہدہ اس پر لاگو نہیں ہوتا اور اس نے لبنانی فائل کو ایرانی فائل سے الگ رکھنے پر زور دیا ہے۔
اسرائیل نے مزید کہا کہ اس کی افواج لبنانی سرزمین کے اندر اور دریائے لیتانی کے جنوب میں 10 کلومیٹر تک اپنی تعیناتی برقرار رکھیں گی۔