منیٰ سمارٹ خیمے: حجاج کرام کی خدمت کے سفر میں بڑی سعودی کامیابی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں حرمین شریفین کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کیلئے کام جاری رہتا ہے ۔ اسی مناسبت سے خادم حرمین شریفین کی حکومت نے "منیٰ سمارٹ ٹینٹ" پراجیکٹ شروع کرکے ضیوف الرحمن کی بہتر خدمات کی مثال قائم کردی ہے۔ یہ پراجیکٹ سعودیہ کے وژن 2030 کا ایک بڑا منصوبہ ہے۔

اس پراجیکٹ کے تحت حجاج کرام کی خدمات کو معیار کو بہتر بنایا جائے گا، ان کی سلامتی اور حفاظت کے اعلی ترین معیارات کو نافذ کر کے حج کی ادائیگی کو زیادہ آسان اور اطمینان بخش بنایا جارہا ہے۔

منصوبے میں شامل سمارٹ خیموں میں 26 لاکھ عازمین حج رہائش اختیار کرتے ہیں ۔ اس بنا پر منیٰ کو جدید دور کا سب سے بڑا خیمہ شہر کہا جاسکتا ہے۔ یہاں یہ اتنی بڑی تعداد 72 گھنٹے زیادہ وقت کیلئے رہائش پذیر ہوتی ہے۔

تیار شدہ خیمے شیشے کے ایسے دھاکے سے بنے ہیں، اس دھاگے یا ٹشو کو ٹیفلون سے ڈھانپا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ زیادہ گرمی یا آگ پکڑنے کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔ ان خیموں سے نقصان دہ زہریلی گیسوں کا اخراج بھی نہیں ہوتا۔

25 لاکھ مربع میٹر پرپھیلی اس بستی میں حجاج کی خدمات کیلئے اعلی معیارات قائم کئے گئے ہیں، ان خیموں میں استعمال ہونے والے کپڑے اپنی کیمیائی اور میکینکل خصوصیات کے باعث آگ سے محفوظ بنائے گئے ہیں۔ یہ خیمے مختلف ماحولیاتی عوامل کے سامنے مزاحمت کرتے ہیں جن سے ان کی کارکردگی میں اضافہ ہوجاتا اور ان خیموں کی عمر بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہ سمارٹ خیمے بلاشبہ خادم حرمین شریفین کی جانب سے حاجیوں کی خدمت اور ان کی دیکھ بھال کی کوششوں کا ہی ایک حصہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں