فزکس کا نوبل انعام امریکا، فرانس اور آسٹریا کے سائنس دانوں کے نام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

رائل سوئیڈش اکیڈمی کی جانب سے سال 2022 کے لیے طبعیات (فزکس) کا نوبل انعام ’’کوانٹم مکینکس‘‘ پر تحقیق کرنے والے امریکا، آسٹریا اور فرانس سے تعلق رکھنے والے تین سائنس دانوں کو مشترکہ طور پر دیا گیا ہے۔

رائل سویڈش اکیڈمی کی جانب سے فرانس کے ایلین ایسپیکٹ، امریکا کے جان کلوزر اور آسٹریا کے اینتون زِیلِنگر کو ایٹمی زرات کے رویوں سے متعلق کی جانے والی تحقیقات پر فزکس کا نوبل انعام برائے 2022 دیا گیا ہے۔

جیوری کے مطابق تینوں سائنس دانوں نے ذیلی ایٹمی ذرات کے رویوں سے متعلق تحقیق کی، جو سُپر کمپیوٹر اور اِنکرپٹڈ کمیونیکیشن کے حوالے سے مزید تحقیق کے دروازے کھولے گی اور اس موضوع کو مزید وسیع کرے گی۔

رائل سویڈش اکیڈمی کی جیوری کے مطابق سائنس دانوں کو ’الجھے ہوئے فوٹون پر تجربات کرنے، ’بیل اِن اکویلیٹیز‘ کی خلاف ورزی ثابت کرنے اور کوانٹم انفارمیشن سائنس متعارف کرانے پر ایوارڈ دیا گیا۔

رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کا کہنا تھا کہ ایوارڈ حاصل کرنے والوں نے اپنی تحقیق سے مزید بنیادی تحقیق کے راستے کھولے اور نئی عملی ٹیکنالوجی کے لیے راہیں ہموار کیں ہیں۔

سائنس دانوں کا تعلق

ایوارڈ حاصل کرنے والے فرانس کے ایلین ایسپیکٹ کا تعلق یونیورسٹی آف پیرس-سیکلے سے، آسٹریا کے اینتون زِیلِنگر یونیورسٹی آف ویانا سے وابستہ ہیں جبکہ امریکا کے جان کلوزر کیلیفورنیا میں ایک کمپنی کے مالک ہیں۔

نوبل انعام
نوبل انعام

ان تینوں سائنس دانوں نے 2010 میں بھی مشترکہ طور پر وولف پرائز اپنے نام کیا تھا۔

کوانٹم مکینکس کیا ہے؟ خیال رہے کہ کوانٹم مکینکس ایک ایسی سائنس ہے جو سب سے چھوٹے پیمانے پر بات کرتی ہے۔

طب کا نوبل انعام: سویڈن کے سوانتے پابو کے نام

اس سے قبل گذشتہ روز طب کا نوبل انعام برائے سال 2022 سوئیڈن سے تعلق رکھنے والے سائنس دان سیونٹے بپو کو دیا گیا۔ انہیں یہ انعام انسانیت کے ارتقاء پذیر ہونے کے حوالے سے دریافت پر ملا ہے۔

پابو سن 1955 میں اسٹاک ہوم، سویڈن میں پیدا ہوئے اور انہوں نے یونیورسٹی آف میونخ اور جرمنی کے لائپزگ میں ماکس پلانک انسٹیٹیوٹ برائے ارتقائی بشریات میں تعلیم حاصل کی۔

سوانتے پابو کو انسانوں کی ابتدائی اور ناپید ہوجانے والی نسل 'نیندرتھال' کا جینوم ترتیب دینے پر نوبل انعام دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان کی یہ دریافت انسانی ارتقاء کے عمل اور تاریخ پر تحقیق میں مدد گار ثابت ہو گی۔

اور یہ سمجھنے میں بھی مدد کرے گا کہ ہم کہاں سے آئے ہیں اور ناپید ہوجانے والی نسلوں کے برعکس ہم اب تک کیسے پھل پھول رہے ہیں۔

نوبل کمیٹی نے پابو کو انعام دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا، "جینیاتی اختلافات کو ظاہر کرتے ہوئے جو تمام زندہ انسانوں کو معدوم ہومینیئنز سے ممتاز کرتے ہیں، ان کی دریافتیں اس بات کی کھوج کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہیں کہ کیا چیز ہمیں منفرد انسانی بناتی ہے۔"

نوبل پرائز حاصل کرنے والوں کے لیے انعامات

سائنس کے شعبے میں گراں قدر خدمات انجام دے کر نوبل انعام حاصل کرنے والے سائنس دانوں کو ایوارڈ کے ساتھ 10 ملین سویڈش کرونر کی رقم بھی دی جائے گی۔ یہ رقم نوبل انعام کے موجد سویڈش الفریڈ نوبل کی چھوڑی گئی جائیداد میں سے دیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ رائل سوئیڈش اکیڈمی کی جانب سے بدھ 05 اکتوبر کو کیمسٹری، جمعرات 6 اکتوبر کو لٹریچر جب کہ 7 اکتوبر جمعے کو امن کے نوبل انعام کے لیے ناموں کا اعلان کیا جائے گا جبکہ نوبل انعام برائے اکنامکس کی کیٹگری کے لیے اعلان سب سے آخر میں دس اکتوبر کو کیا جائے گا۔

باوقار ترین ایوارڈ

جن شعبوں میں نوبل انعام دیا جاتا ہے ان میں طب کے شعبے کو سب سے باوقار سمجھا جاتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں طب کے زمرے میں قابل ذکر انعام یافتگان میں سر الیگزینڈر فلیمنگ، ارنسٹ چین اور سر ہاورڈ فلوری کو پینسلن کی دریافت کے لیے اور رونالڈ راس کو اس دریافت کے لیے دیا کیا گیا تھا کہ ملیریا مچھروں سے پھیلتا ہے۔

پیر کے روز طب کے لیے نوبل انعام کا اعلان کیا گیا۔ منگل کے روز فزکس اور بدھ کے روز کیمسٹری کے نوبل انعامات کا اعلان کیا جائے گا۔ ادب، امن اور اقتصادیات کے نوبل انعامات کے اعلانات جمعرات سے شروع ہوں گے۔

ڈیوڈ جولیس اور اردم پاتاپوتیان نے لمس، درجہ حرارت اور درد کو محسوس کرنے کے حوالے سے اپنے انکشافات پر گزشتہ برس طب کا نوبل انعام حاصل کیا تھا۔

اس سال کے فاتحین کو 10 ملین سویڈش کرونا (تقریباً نو لاکھ 20 ہزار یورو) کا نقد انعام اور ایک نوبل میڈل دیا جائے گا اور عالمی سطح پر تسلیم بھی کیا جائے گا۔ انعامات دسمبر میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں دیے جائیں گے۔


الفریڈ نوبل کی میراث

فزیالوجی یا طب کا نوبل انعام سن 1901 میں انعام کے پہلے سال سے لے کر اب تک 112 مرتبہ دیا جا چکا ہے۔ یہ انعام 224 سائنسدانوں کو دیا گیا، لیکن ان میں صرف 12 خواتین شامل ہیں۔

الفریڈ نوبل نے 1896ء میں اپنی موت سے پہلے اپنی وصیت میں اس انعام کو شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس نے اپنی رقم کا زیادہ تر حصہ ''ان انعامات کے لیے چھوڑ دیا، جنہوں نے سال گزشتہ کے دوران، فزکس، کیمسٹری، طب، ادب اور امن کے شعبوں میں، انسانیت کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچایا ہو گا۔"

اوسلو میں امن کا نوبل انعام مرکز
اوسلو میں امن کا نوبل انعام مرکز

ڈائنامائٹ اور فوجی دھماکہ خیز مواد کے موجد الفریڈ نوبل کو "پہلے سے زیادہ تیزی سے لوگوں کو مارنے کے طریقے تلاش کرنے'' کی وجہ سے کافی نکتہ چینی کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد انہوں نے ان انعامات کو شروع کرنے کا ارادہ کیا تاکہ وہ ایک بہتر میراث چھوڑ سکیں۔

ایک صحافی نے غلطی سے الفریڈ کی یہ وصیت ان کی موت سے آٹھ برس قبل شائع کردی تھی۔ دراصل صحافی کو الفریڈ نوبل کے بھائیوں میں سے ایک کی موت سے مغالطہ ہو گیا تھا۔

طب کا پہلا نوبل انعام ایمل وون بیہرنگ کو 1903 میں خناق یعنی ڈپتھیریا کے اینٹی ٹاکسن کی دریافت پر دیا گیا تھا۔ وہ اس بیماری پر اپنے کام کے لیے ''بچوں کے نجات دہندہ'' کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں