ایشیا کے امیرترین شخص گوتم اڈانی بیرون ملک ایک خاندانی دفترقائم کرنے پرغور کررہے ہیں تاکہ اپنی بڑھتی ہوئی کاروباری سلطنت کا انتظام کیا جا سکے۔
ان کے قریبی ذرائع نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا ہے کہ پورٹس ٹوپاوراڈانی گروپ کے چیئرمین دبئی یا نیویارک میں دفترکھولنا چاہتے ہیں جواڈانی فیملی کے ذاتی فنڈزمیں سرمایہ کاری کرے گا۔ ایک شخص نے بتایا کہ گروپ کے بانی خصوصی خاندانی دفترکے لیے مینیجرز کے ایک مکمل سوٹ حاصل کرنے کے عمل میں ہیں۔
بلومبرگ کے ارب پتی انڈیکس کے مطابق اس سال اڈانی کی ذاتی دولت میں 58 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے جو دنیا کے امیرترین افراد میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ ٹائیکون اور ان کے خاندان کے بڑھتے ہوئے عالمی عزائم کی بھی عکاسی کرتا ہےاوراڈانی گروپ بھارت میں اپنے روایتی گڑھ سے باہراب بیرون ملک بھی کاروبار کو پھیلارہا ہے۔
اگر135ارب ڈالر کی کل مالیت کے ساتھ اڈانی اس منصوبے پرعمل کرتے ہیں تو، وہ ان انتہائی امیرافراد کی فہرست میں شامل ہوجائیں گے جن کے پاس اپنی دولت ، ذاتی سرمایہ کاری اور انسان دوستی کا انتظام کرنے کے لیے خاندانی دفاتر ہیں۔
ہیج فنڈ کے ارب پتی رے ڈیلیو اور گوگل کے شریک بانی سرگئی برن نے سنگاپور میں اپنا کاروبار قائم کیا ہے جبکہ اڈانی کے ہم وطن اور ایشیا کے دوسرے امیر ترین شخص مکیش امبانی اس شہری ریاست میں ایک خاندانی دفتر کھولنے کے عمل میں ہیں۔
لوگوں نے بتایا کہ اڈانی خاندان فی الحال کنسلٹنٹس اور ٹیکس ماہرین سے منصوبوں کے بارے میں بات کر رہاہے۔دفترکا مقام ابھی زیرغورہےاورانھیں موصول ہونے والے مشورے اور وسائل کی دستیابی کی بنیاد پر تبدیل ہوسکتا ہے۔
دبئی کنکشن
ٹائیکون کے بڑے بھائی ونود اڈانی دبئی میں مقیم ہیں اور وہ اس کے ساتھ ساتھ سنگاپور اورجکارتہ میں بھی تجارتی کاروبار چلاتے ہیں۔ کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق، ونود دنیا کے سب سے امیرغیر رہائشی ہندوستانی ہیں،تازہ ترین ہورون کی امیرترین بھارتیوں کی فہرست کے مطابق، اڈانی گلوبل انویسٹمنٹ ڈی ایم سی سی چلاتے ہیں۔یہ ادارہ 2016 میں تجارتی کاروباری اداروں میں سرمایہ کاری کرنے اور ان کا انتظام کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔
مئی میں ایک میڈیا بیان کے مطابق، اڈانی فیملی نے اس سال کے اوائل میں ہولسیم لمیٹڈ کے بھارت میں دوسیمنٹ سازکارخانوں کو خریدنے کے لیے 6.5 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا تھا۔.
اڈانی پہلی نسل کے کاروباری ہیں۔انھوں نے 1980ء کی دہائی میں ممبئی میں ہیروں کے تاجر کے طور پر شروعات کی تھی۔اس کے بعدانھوں نے ایک زرعی تجارتی فرم قائم کی تھی۔ بعد میںکوئلے کی تجارت اور بندرگاہوں میں سرمایہ کاری کی تھی۔گذشتہ چند سال میں، گرین توانائی، ہوائی اڈوں، ڈیجیٹل خدمات، ڈیٹا سینٹرز، سیمنٹ، اور میڈیا میں تیزی سے سرمایہ کاری کی ہے اوراپنے کاروبار کو وسیع پیمانے پر متنوع بنایا ہے اور اب ان کی ایک بڑی کاروباری سلطنت بن چکی ہے۔